• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بنگلادیش کے باسیوں نے تقریبا دو برس سیاسی عدم استحکام اور  تشدد کے سائے میں گزارا۔ لیکن اس عرصے میں انہوں نے جمہوریت کے لیے جدوجہد سے منہ نہیں موڑا۔ جب بھی انہوں نے جدوجہد کی ضرورت محسوس کی، وہ اپنے جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلے۔ اس طویل جدوجہد کا انعام انہیں جمہوریت کی فتح کی صورت میں ملا۔ اب بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ، طارق رحمان بنگلادیش کے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے اور کابینہ بھی تشکیل پاچکی ہے۔

انتخابات، نتائج اور تبدیلی

وہاں جو تبدیلی آئی ہے، اس کی ایک جھلک وزیر اعظم کی حلف برداری کی تقریب میں بھی نظر آئی۔ روایت کے برعکس حلف برداری کی تقریب صدارتی محل کے بجائے قومی پارلیمنٹ کی عمارت کے ساؤتھ پلازا میں کھلے آسمان تلے منعقد ہوئی۔ دوسری علامتی تبدیلی یہ تھی کہ بی این پی نے کام یابی کے بعد کارکنان کو جشن منانے کے بجائے ملک کی بہتری کے لیے خصوصی دعائیں کرنے کی اپیل کی تھی۔

ساٹھ سالہ طارق رحمان سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے اور مقتول صدر ضیاء الرحمان کے بیٹے ہیں۔ وہ 17 سال تک جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد گزشتہ برس وطن واپس آئے تھے۔ان کی واپسی کو بی این پی کی انتخابی مہم میں اہم موڑ قرار دیا گیاتھا۔

یاد رہے کہ 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں عبوری حکومت قائم کی گئی تھی جس کی قیادت نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات محمد یونس کر رہے تھے، اسی عبوری دور کے بعد حالیہ انتخابات منعقد ہوئے۔

حالیہ انتخابات میں جماعتِ اسلامی نے 2013 کی پابندی ختم ہونے کے بعد پہلی بار حصہ لیا۔ شیخ حسینہ واجد کی سیاسی جماعت، عوامی لیگ کو الیکشن کمیشن کی جانب سے رجسٹریشن منسوخ ہونے کے بعد انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی۔

اپنے پہلے خطاب میں طارق رحمان نے امن و امان برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی بدامنی برداشت نہیں کی جائے گی اوران کے سامنے سیاسی استحکام کی بحالی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور گارمنٹس سمیت اہم صنعتوں کو دوبارہ فعال کرنا بڑے چیلنجز ہوں گے۔

انتخابات میں بی این پی اور اس کی اتحادی جماعتیں دو تہائی اکثریت کے ساتھ 212نشستیں جیتنے میں کام یاب رہیں۔ جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والے اتحاد نے 77 نشستیں حاصل کیں۔ جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے شکست تسلیم کرتے ہوئے انتخابی عمل کی شفافیت پر تحفظات کا اظہار کیا۔

یاد رہےکہ بنگلا دیش کی پارلیمان کی مجموعی 350 نشستوں میں سے 300 ارکان بہ راہِ راست عوام کے ووٹس سے منتخب ہوتے ہیں، باقی 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں جو سیاسی جماعتوں کو ان کی انتخابی کارکردگی کے تناسب سے دی جاتی ہیں اور ان پر نام زدگی جماعتیں خود کرتی ہیں۔

یہ انتخابات 2024 میں چلنے والی حکومت مخالف تحریک کے بعد پہلی بار منعقد ہوئے، جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی شیخ حسینہ واجدکی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ ملک میں سیاسی استحکام کی بحالی کے لیے اس انتخاب کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا تھا۔

بی این پی کے منشور میں غریب خاندانوں کے لیے مالی امداد، وزیر اعظم کے عہدے کی مدت کو 10 سال تک محدود کرنا، غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنانا اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔

دوسری جانب جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے ووٹ کی گنتی کے عمل پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی عمل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ نے، جو اس وقت بھارت میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں، انتخابات کو ’’منصوبہ بند ڈراما‘‘ قرار دیتے ہوئے نتائج مسترد کر دیے۔ یاد رہے کہ ان کی جماعت عوامی لیگ کو اس بار انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

الیکشن کمیشن کے غیر سرکاری اندازوں کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 60 فی صد سے زائد رہا، جو گزشتہ انتخابات سے زیادہ ہے۔ انتخاب کے ساتھ ساتھ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی کرایا گیا، جس میں دو مدت کی حد، غیر جانب دار نگران حکومت اور خواتین کی نمائندگی بڑھانے سمیت کئی تجاویز شامل تھیں۔ نتائج کے مطابق اکثریت نے اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتخاب بنگلا دیش کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔

مستقبل کے چیلنجز

بنگلا دیش کےتیرہویں پارلیمانی انتخابات حقیقی کثیر الجماعتی سیاست میں ایک اہم واپسی کی نشان دہی کرتے ہیں، جو برسوں کے متنازع یا یک طرفہ انتخابات کے بعد عوامی اعتماد کو بحال کرسکتے ہیں، خاص طور پر عوامی لیگ کے تحت 2014 اور 2024 کے انتخابات۔

اہم آئینی اصلاحات پربہ یک وقت ریفرنڈم، جولائی کے چارٹر میں، ایک اہم ’’ہاں‘‘ والے ووٹ کی اکثریت دیکھی گئی، جس سے بی این پی کی زیرقیادت اتحاد کے مینڈیٹ کو تقویت ملی اور انہیں مجوزہ تبدیلیاں نافذ کرنے کے لیے بااختیار بنایا گیا، یہاں تک کہ جہاں وہ پہلے اپوزیشن سے متفق نہیں تھی

کہا جارہا ہے کہ اگرچہ بی این پی نے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے، لیکن اسے کافی اندرونی چیلنجز کا سامنا ہےجن میں بدعنوانی کے خدشات کو دورکرنا، اقلیتی گروہوں اور عوامی لیگ کے حامیوں کو ان کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے کا یقین دلانا اور نوجوانوں کی بے روزگاری کے اہم مسئلے سے نمٹنا شامل ہیں۔

اقتصادی طور پر پارٹی کو سیاسی استحکام اور برآمدات کی بحالی کو ترجیح دینی چاہیے، متنازع تجارتی معاہدوں پر بھی نظر ثانی کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے، جیسا کہ امریکا کے ساتھ ملبوسات کی برآمدات کے لیے سوتی دھاگے کی درآمد کی ضرورت ہے اور پورٹ ٹرمینل معاہدوں پربھی نظر ثانی کرنےپر توجہ دینے کی بات کی جارہی ہے۔

بیرونی طور پر ناقدین بی این پی کےسوبر ایجی بنگلا دیش (بنگلا دیش سب سے پہلے)کے نظریے کی جانچ کریں گے، خاص طور پر بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات، رکے ہوئے ترقیاتی منصوبوں، اور گنگا کے پانی کی تقسیم کے معاہدے کی آنے والی میعاد ختم ہونے سے متعلق معاملات، جس میں مساوات، باہمی احترام اور قومی مفاد پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 

اس کے علاوہ رکے ہوئے بھارتی ترقیاتی منصوبوں کو دوبارہ شروع کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ، غیر قانونی نقل مکانی اور اسمگلنگ کی روک تھام، اعتماد کی کمی کو دورکرنا، پے چیدہ علاقائی، جغرافیائی سیاست کے درمیان ہم سایہ ممالک کے ساتھ پائے دار تعلقات کو فروغ دینے کےامور بہت نازک اور اہم نوعیت کے ہوں گے۔

ماضی سے حال کا سفر

آج وہاں ہم جو تبدیلی دیکھ رہے ہیں اس کی بنیاد وہاں تقریباً دو برس قبل ہونے والے انتخابات ہی نے ڈالی تھی۔ اس وقت شیخ حسینہ واجد نے ایک ایسا الیکشن جیتا تھا جسے بڑے پیمانے پر دھاندلی زدہ قرار دیا گیا تھا۔ لیکن اس وقت یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ ان کی 15 سالہ مضبوط حکم رانی اچانک ختم ہو جائے گی یا ایک اور جماعت، جو تقریباً سیاسی منظرنامے سے غائب ہو چُکی تھی، اتنی زیادہ عوامی طاقت کے ساتھ ملک کے سیاسی منظرنامے میں لوٹ آئے گی۔

تاہم اس ملک کی سیاست کے اتار چڑھاؤ میں یہ ایک اور تبدیلی ہے جہاں عوامی لیگ اور بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کئی دہائیوں سے باری باری اقتدار میں آتی رہی ہیں۔ اس مرتبہ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار بی این پی کی قیادت باضابطہ طور پر طارق رحمان کے ہاتھ میں ہے اور یہ پہلا موقع ہےکہ انہوں نے خود عام انتخابات میں حصہ لیا ہے۔

یاد رہے کہ ان کی والدہ، خالدہ ضیا، جوگزشتہ برس علالت کے باعث انتقال کرگئی تھیں، چار دہائیوں تک جماعت کی سربراہ رہیں۔ انہوں نے یہ ذمے داری اپنے شوہر ضیا الرحمان کے انتقال کے بعد سنبھالی تھی جو بی این پی کے بانی تھے۔

اس ملک میں2024ء میں سابق وزیراعظم حسینہ واجدکی طویل آمرانہ پالیسیوں کے خلاف ایک احتجاجی تحریک کا آغاز ہوا تھا جس کی قیادت جامعات کے طلبا نےکی تھی اور اس کے نتیجے میں حسینہ واجد کو اپنا دیس چھوڑ کر بھارت فرار ہونا پڑا تھا۔ اس کے بعد گرامین بینک کے بانی، ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم کی گئی تھی جس نے وسیع مشاورت کے بعد ایک قومی چارٹرکی منظوری دی۔ 

اس نیشنل چارٹر کے مطابق یہ طے پایا تھا کہ آئین میں مناسب تبدیلیاں کی جائیں گی تاکہ پارلیمنٹ، صدر اور وزیراعظم کے اختیارات میں توازن پیدا کیا جا سکے، سیاسی نظام کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، پارلیمانی نظام میں دو ایوانوں کی گنجائش نکالی جا سکے، خواتین کی نشستوں میں اضافہ کیا جا سکے، عدلیہ کو آزاد اور مضبوط بنایا جائے، نیز یہ شرط عائد کی جائے کہ کوئی فرد دو سے زیادہ بار وزیراعظم منتخب نہیں ہو سکے گا۔

اس قومی چارٹر پر ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا، چناں چہ انتخابات کے ساتھ ہی ریفرنڈم بھی کرایا گیا۔ 48 ملین ووٹرز نے آئینی اصلاحات کی حمایت کی اور 23ملین ووٹرز نے ان اصلاحات کی مخالفت کی۔ اب اس نیشنل چارٹر کو عوام کی تائید اور حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ بنگلا دیش کے 2026ء کے انتخابات کوغیر جانب دار مبصرین نے صاف اور شفاف قراردیا ہے۔ 

الیکشن کمیشن نے اپنی آئینی ذمے داریاں پوری کیں اور کسی ریاستی ادارے نے انتخابی عمل میں مداخلت نہیں کی۔ ان شفاف انتخابات کے نتیجے میں بی این پی نے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے اور اس پوزیشن میں آگئی ہے کہ دو تہائی اکثریت سے نیشنل چارٹر کے مطابق آئین میں ترامیم کر سکے۔

الزامات، جلاوطنی اور واپسی

ماضی میں جب ان کی والدہ برسراقتدار تھیں تو طارق رحمان پر اقربا پروری سے فائدہ اٹھانے کے الزامات لگتے رہے اور انہیں بدعنوانی کے مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ والدہ کی وفات سے محض پانچ روزقبل وہ 17 برس کی خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے لندن سے بنگلا دیش واپس آئے تھے۔

اگرچہ وہ والدہ کی قید کے دوران اور بعد ازاں ان کی علالت کے زمانے میں جماعت کے عملی سربراہ کے طور پر کردار ادا کرتے رہے، تاہم انہیں عمومی طور پر ایک غیر آزمودہ راہ نما تصور کیا جاتا ہے۔

یہ تصور اس لحاظ سے ان کے حق میں اچھا خیال کیا جاتا ہے کہ لوگ تبدیلی کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں۔ وہ یقین کرنا چاہتے ہیں کہ نئی اور مثبت تبدیلی ممکن ہے۔ اسی لیے عوام میں اُمید کی ایک فضا پائی جاتی ہے۔

شاید اسی لیے انتخابی نتائج آنے کےبی این پی نے اعلان کیا تھاکہ اس کی اولین ترجیح ملک میں جمہوریت کی بحالی ہے۔ اب آثار یہ بتارہے ہیں ماضی کی طرح سیاسی جماعتیں اقتدار میں آکر من مانی نہیں کرسکیں گی، کیوںکہ ملک کا نوجوان طبقہ ،جس نے 2024 کی حسینہ واجد مخالف تحریک میں ہراول دستے کا کردار اداکیا تھا،اب پرانی طرزِ سیاست کو قبول کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔

ہم سایوں کے ساتھ تعلقات

ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں قائم ہونے والی عبوری حکومت نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوستانہ اور خوش گوار بنایا۔ عبوری حکومت نے پاکستان سے جے ایف 17 طیارے خریدنے کے لیے بات چیت بھی کی۔ امید کی جا رہی ہے کہ بی این پی کی حکومت بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دے گی۔ اسی طرح چین کے ساتھ بھی تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ بی این پی کے راہ نماوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ خوش گوار رہے ہیں۔ دوسری جانب شیخ حسینہ واجد کے طویل دور میں یہ تعلقات بہت زیادہ کشیدگی اختیار کر گئے تھے۔ لیکن اب حالات ایک بار پھر پاکستان کے حق میں سازگار ہوئے ہیں۔

حسینہ واجد کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے۔ لیکن بنگلا دیش میں آنے والی نئی سیاسی تبدیلی کو پاکستان کے لیے اچھا سمجھا جا رہا ہے۔ خالدہ ضیا کی حکومت میں بنگلا دیش کے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے اور اب بی این پی کی نئی حکومت میں یہ سلسلہ بحال ہونے کا امکان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بنگلا دیش مل کر جنوبی ایشیا میں استحکام اور تعاون کو فروغ دیں گے۔ پاکستان میں بھی بنگلا دیش میں آنے والی سیاسی تبدیلی پر خوشی کا اظہار ہو رہا ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے بی این پی کے سربراہ طارق رحمن کو فون پر جہاں انتخابی جیت پر مبارک باد دی وہاں انہیں وزیراعظم بننے کے بعد پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ 

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی طارق رحمن کو مبارک باد کے پیغامات بھیجے ہیں‘ جنہیں دو طرفہ تعلقات اور معاشی معاملات کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی طارق رحمن کو مبارک باد دی ہے اور ان سے اچھے تعلقات رکھنےکا اظہار کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بی این پی کی کام یابی پاکستان کے لیےمثبت پیش رفت ہے، مگر نئی حکومت کو بھارت سے بھی سفارتی تعلقات قائم رکھنا ہوں گے۔

بنگلا دیش میں آنے والی سیاسی تبدیلی کو بھارت ہضم نہیں کر پائے گا اور بنگلا دیش کے حوالے سے اپنی طے شدہ حکمت عملی پر گام زن رہے گا۔ بنگلا دیش کی قیادت یہ بات بھول نہیں پا رہی کہ عوامی لیگ کی لیڈر حسینہ واجد کو بھارت نے پناہ دے رکھی ہے اور باوجود انتخابی فتح حاصل کرنے کے حسینہ واجد کی بھارت میں موجودگی کو بنگلا دیش کی سیاست میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ کی حکومت کو پاکستان مخالف اور انڈیا نواز سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اگست 2024 میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی انڈیا روانگی کے بعد صورتحال یک سر بدل گئی تھی۔بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے پاکستان کے ساتھ اپنے روابط کو آگے بڑھایا تھا۔ دونوں ممالک کے مابین تجارتی روابط کو فروغ دیا گیا، دونوں ممالک نے ویزے کے اجرا کو آسان کرنے کے ساتھ فلائٹ آپریشن بھی بحال کیا۔

بنگلا دیش میں سیاسی تبدیلی کے عمل کو خطے میں چین کے بڑھتے کردار کے حوالے سے بھی خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، کیوں کہ چین بنگلا دیش میں سرمایہ کاری میں دل چسپی ظاہر کرتا رہا ہے۔ البتہ بنگلا دیش کی نئی حکومت کی اولین ترجیح اپنے اندرونی مفادات اور سیاسی استحکام رہے گا اور اس حوالے سے بنگلا دیش کی سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک متفقہ فارمولہ طے ہے۔

بھارت کے بنگلادیش کے ساتھ تعلقات کو 5اگست 2024 کے بعدسے شدید دھچکا لگا ہے۔ تاہم دہلی کو اصل تشویش یہ ہے کہ نئی بنگلا دیشی حکومت شمال مشرقی بھارت کی سلامتی کے بارے میں کیا مؤقف اختیار کرتی ہے۔ دہلی میں موجود مبصرین کہتے ہیں کہ یہ ایک حساس مسئلہ ہے جس پر بھارت کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا۔

شیخ حسینہ واجد کے تقریباً 16 سالہ دورِ حکومت میں بھارت کے لیے سب سے بڑی راحت یہ رہی ہے کہ شمال مشرقی انڈیا کے مسلح علیحدگی پسند گروہوں کو بنگلا دیشی سرزمین پر کوئی پناہ نہیں ملی۔ اس کے ساتھ شیخ حسینہ کی حکومت نے انوپ چیتیا اور اروند راج کھووا جیسے علیحدگی پسند راہ نماؤں کو انڈیا کے حوالے بھی کیا۔ لیکن انڈیا یقینی طور پر اس بات پر گہری نظر رکھے گا کہ نئی بنگلا دیشی حکومت اس معاملے پر کیا موقف اختیار کرتی ہے۔

یاد رہےکہ 2024 کی نوجوانوں کی قیادت میں برپا ہونے والی عوامی تحریک میں انڈیا مخالف پہلو واضح طور پر موجود تھا، جس میں شیخ حسینہ کے خلاف نعروں کے ساتھ دہلی کے خلاف بھی سخت آوازیں بلند ہوئیں۔

اب یہ سوالات بہت اہمیت اختیار کرگئے ہیں کہ بنگلا دیش کے انتخابات کے نتائج پاکستان کے لیے کیا اہمیت رکھتے ہیں، بی این پی کی نئی حکومت پاکستان کے ساتھ اپنے روابط کو کتنا آگے بڑھائے گی، کیا خطے میں نئی صف بندی ہو گی اوربھارت اس ساری صورتحال میں کہاں کھڑا ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں جب جب بی این پی اقتدار میں آتی رہی خالدہ ضیا کی حکومت کے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے اور اب دوبارہ وہ سلسلہ بحال ہونے والا ہے اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی اوربنگلا دیش اور پاکستان مل کر جنوبی ایشیا میں استحکام اور تعاون کو فروغ دیں گے۔

دوسری جانب تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ بنگلا دیش کی کوئی بھی حکومت انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو خراب نہیں کرے گی۔ بنگلا دیش کا انڈیا کے ساتھ طویل بارڈر ہے اور خلیج بنگال میں بھی انڈیا اپنا اثرو رسوخ رکھتا ہے۔ لہذا بنگلا دیش کی نئی حکومت ایک حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی اپنائے گی اور انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو نارمل رکھے گی۔ یہ تعلقات اتنے زیادہ گرم جوشی والے یا اُس نوعیت کے نہیں ہوں گے جس طرح شیخ حسینہ واجد کی حکومت اوربھارت کے درمیان تھے۔

خِطّے کی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کے بہ قول بھارت کی پالیسیز ایسی ہیں جس کی وجہ سے اس کے تمام ہم سایوں کو اس سے شکایات ہیں۔ یہی وہ وجہ ہے جس نے پاکستان اور بنگلا دیش کو حالیہ عرصے میں ایک دوسرے کے قریب کیا۔ اُن کے بقول بنگلا دیش کے انتخابی نتائج کے بعد اُنہیں خطے میں ایک نئی صف بندی ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس میں پاکستان، بنگلا دیش اور چین خطے کے معاملے پر ایک ساتھ دکھائی دیں گے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید