• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عہدِ آفرین اور تاریخ ساز شخصیت میر صحافت، میر خلیل الرحمن کو آج ہم سے بچھڑے 33 سال بیت گئے، ان کی وفات ایک عہد کا خاتمہ تھی۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے میر صاحب نے گوجرانوالہ میں آنکھ کھولی۔ 

قیامِ پاکستان تک دہلی میں مقیم رہے۔ 1941ءکے اوائل میں دہلی سے ’’جنگ اخبار‘‘ کا آغاز کیا۔ گرچہ گوجرانوالہ کا نام صحافت کی دنیا میں پہلے سے مشہور تھا، کیوں کہ زمیندار اخبار کے مولانا ظفر علی، پیسہ اخبار کے مولوی محبوب عالم اور ریاست اخبار کے دیوان سنگھ مفتون کا تعلق بھی گوجوانوالہ سے تھا۔ لیکن میر صاحب نہ صرف ان سب پرسبقت لے گئے بلکہ اپنی خدا داد صلاحیتوں اور انتھک محنت سے صحافت میں اپنا آپ منوایا۔ 

حقیقت یہی ہے کہ میر صاحب نے شبانہ روز محنت اور لگن سے اپنے آپ کو پاکستان میں نیوز پیپرمیڈیا کا پہلا ستون ثابت کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ روزنامہ جنگ کو گروپ آف پبلی کیشنز کی شکل دی۔ وہ پاکستان میں ان چند قد آور شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے صحافت کو مضبوط اور فعال بنایا اورایک آگہی بخش ادارہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 

انہوں نے اردو صحافت میں نئی جہتیں متعارف کرائیں، اسے نئے اسلوب اور نئے انداز دیے اور مشکل سے مشکل دور میں بھی حق کی آوازنہ صرف بلند کی بلکہ اوروں کو ایسا کرنے کا درس بھی دیا، خواہ اس کے لیے انہیں کتنی بڑی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑی ہو۔ 

انہوں نے ہمیشہ جمہوریت کے فروغ اور استحکام کے لیے کام کیا اور نظریہ پاکستان کو اپنی اساس بنا ئے رکھا۔ تحریک پاکستان ہو، تعمیر پاکستان ہو یا جمہوریت کا فروغ ہر طرف وہ نمایاں نظر آئے۔ 

آج میر صاحب کی برسی کے موقعے پر ان کی چند یادیں اور باتیں نذرِ قارئین ہیں۔

 میر صاحب نے ’’جنگ‘‘ کو ہمیشہ ایک کنبہ سمجھا اور اس کا نظام ایک کنبے ہی کی طرح چلایا ۔’’جنگ‘‘ کے کارکنان ہوں یا اخبار فروش، وہ سب ایک کنبے کی مانند تھے اور ہیں۔ میر صاحب جب کسی کارکن کو تنبیہ کرتے تو کنبے کے سربراہ کی طرخ رویہ اختیار کرتے۔

ان کے نتبیہ کرنے کا انداز بھی بہت خوب صورت تھا۔ ان کا کوئی جملہ جس میں خواہ اظہار ناراضی ہو، اصلاح سے عاری نہیں ہوتا۔ وہ کسی بھی اسٹاف ممبر سے بات کرتے کرتے بھانپ لیا کرتے کہ کس حد تک ان کے سامنے بیٹھے ہوئے آدمی نے اَثر لیا ہے۔ کہیں انہوں نے اس کے جذبات کو مجروح تو نہیں کر دیا ہے۔ اگر وہ ایسا محسوس کرتے تو اپنا لہجہ بدل لیتے۔ 

ان کا اندازِ تخاطب محبت، شفقت، نصیحت اور تنبیہ کے ساتھ کچھ اس طرح ہوتا جیسے وہ حقیقتاً باپ یا بھائی کا درجہ رکھتے ہوں۔ وہ کہا بھی کرتے کہ ’’جنگ‘‘ میری اولاد ہے۔ اسٹاف کی ایک تقریب میں، جس کے وہ مہمان خصوصی تھے،ایک کارکن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اس تقریب میں کوئی مہمان ہے، نہ کوئی مہمان نواز۔

آج ہمارے درمیان میر صاحب تشریف فرما ہیں جو ہمارے خاندان کے سربراہ ہیں۔جنگ ایک خاندان کا نام ہے۔ میر صاحب کی شخصیت سے متعلق اس سے بہتر کوئی تعریف نہیں کی جا سکتی۔ اس سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جنگ گروپ کا اسٹاف ان سے کتنی والہانہ محبت کرتا تھا۔

بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہے میر صاحب کتنے بامروّت، سخی اور رحم دل تھے، وہ جائز خرچ خوب کرتے تھے اور ناجائز اور غیرضروری خرچ سے ہاتھ روکتے تھے۔ وہ جو بھی خرچ کسی ادارے یا فرد کے لیے کرتے، ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو معلوم نہ ہوتا تھا۔

بر صغیر میں صحافت کو نئی رعنائی، طاقت اور اسلوب عطا کیا

براعظم ایشیا میں صحافت کی تاریخ جنگ گروپ اور ’’جنگ‘‘ کے کنبے کے بانیٔ میر صحافت میر خلیل الرحمٰن کے بغیر ادھوری ہوگی۔ انہوں نے نہ صرف بر صغیر میں صحافت کی صنف کو ایک نئی رعنائی، طاقت اور اسلوب عطا کیا بلکہ دنیا بھر میں اردو زبان سے آشنا لوگوں کو اپنے اخبار کا گرویدہ بنایا۔ ان کی صحافتی اسٹیٹ نصف صدی سے زائد عرصے پر پھیلی ہوئی شب و روز محنت کا ثمر ہے۔

مرحوم کی زندگی کا ہر لمحہ بتاتا ہے کہ وہ زندگی بھر مشکل کاموں کی محبت میں مبتلا رہے۔ تاحیات مسلسل جدو جہد اور محنت کرتے رہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران خبریں جمع کرنے کی جدوجہد، اخباری کاغذ تلاش کرنے کی جدو جہد اور پھر دہلی کی سڑکوں اور گلیوں میں اخبار فروخت کرنے کی جدوجہد ۔ 

اسی مسلسل محنت نے انہیں اخباری سلطنت بنانے میں بہت مدد دی۔ انہوں نے نہ صرف یہ، بلکہ ایک کارکن سے لے کر مدیر تک کے جملہ امور کا ذاتی تجربہ کیا اور اخبار جنگ کو صحافت کی دنیا میں ایک نیا رُخ دے کر صحافت کو انڈسٹری بنادیا۔ قیام پاکستان کے بعد جب وہ دہلی سے کراچی منتقل ہوئے تو یہاں ان کے قارئین کی بہت بڑی تعداد بھارت سے ہجرت کرکے پہنچ چکی تھی اور جلد ہی مضمون، کالم نگاروں کا حلقہ ازسر نو قائم ہوگیا تھا۔

جنگ کی طرز تحریر میر صاحب کی اپنی انوکھی ایجاد تھی۔ انہوں نے اردو کی مروجہ فصاحت و بلاغت سے لبریز تحریروں میں روز مرہ کے الفاظ اور محاوروں کو نہایت خوبی سے سمویا، خصوصاً شہ سرخیوں میں ان سے ’’ڈائنا مائٹ‘‘ کا کام لیا، جس سے اخبار بین نسلیں لطف اندوز ہوئیں اور بہت سوں نے تو چٹخارے لیے۔

وہ الفاظ کی قوت سے خوب واقف اور انہیں بر محل استعمال کرنے کا ملکہ رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے نت نئے خیالات اور تجربات سے صحافت کی مسلسل خدمت کی۔ الفاظ و قرطاس کو تہذیب سکھائی، لوح وقلم کے ساحل دریافت کیے، اردو صحافت کو عالمی صحافیانہ معیارات کے ہم پلہ کیا، تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ خود ایک شخصیت کے بجائے ادارہ بن گئے کہ شخصیتیں تو دنیا سے چلی جاتی ہیں ادارے قائم رہتے ہیں۔

میرخلیل الرحمٰن 1979میں یونان میں منعقدہ بین الاقوامی سیمینار کے ایک سیشن میں پاکستان اور آزادی صحافت کے موضوع پر خطاب کررہے ہیں
میرخلیل الرحمٰن 1979میں یونان میں منعقدہ بین الاقوامی سیمینار کے ایک سیشن میں پاکستان اور آزادی صحافت کے موضوع پر خطاب کررہے ہیں

بحرانوں کے پالے ہوئے اور پُر عزم شخصیت 

میر صاحب کی ہمہ گیر شخصیت کے بارے میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ وہ بحرانوں کے پالے ہوئے تھے۔ مشکل حالات سے نبرد آزما ہونا ان کا شیوہ تھا، جب بھی کسی مرحلے پر کوئی مشکل پیش آئی اُن کی شخصیت مزید نکھر کرسامنے آئی۔ ان کے بلند حوصلے اور دور اندیشی کے سب ہی مداح تھے۔ 

اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب بھی کسی حکمراں نے ’’جنگ اخبار‘‘ کی غیرجانبدارانہ اور پاکستانیت کے جذبے سے معمور صحافتی پالیسی کو اپنے سامنے سرنگوں کرنے کی کوشش کی، ہمیشہ سے روادار میرصاحب کی پُرعزم شخصیت ان کے سامنے سینہ سپر ہوگئی اور بالآخر سچ کو سربلندی حاصل ہوئی۔ وہ کوئی کام کرنے سے قبل کئی بار سوچتے، یہی وجہ ہے کہ ان کی قیادت میں ادارہ جنگ شجر ِسایہ دار ہی نہیں شجر پھل دار بھی بن گیا۔

صحافتی اقدار کا پاس کرنے والے

میرصاحب نے صحافت کے ساتھ پورا انصاف کیا اور اس کی بنیادی اقدار کا بھی احترام کرتے رہے۔ وسائل و ذرائع اور مواقع میسر آنے کے باوجود انہوں نے صحافت کی وادی سے نکل کر کبھی سیاسی لیڈر بننے کی کوشش نہیں کی۔ اپنے قارئین کے سامنے حالات و واقعات کی اصل تصویریں رکھیں۔ 

مفاداتی رائے یا نقطۂ نگاہ سے زاویے نہ بنائے، خبر رسانی کو خبررسانی تک محدود رکھا، اُسے خبر سازی کا رنگ نہ دیا۔ نہ صرف یہ بلکہ ملکی معاملات سے متعلق کبھی کسی چھوٹی سی چھوٹی خبر کو بھی نظر انداز نہ کیا۔ 

ان کا وژن ہمہ گیرنوعیت کا حامل تھا۔ انہوں نے یقیناً اس ادارے کی بنیاد یہ سوچ کر رکھی ہوگی کہ اسے اکیسویں صدی میں ہی نہیں اس سے آگے کی صدیوں میں بھی جانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرصاحب پاکستانی صحافت کے عظیم محسن تھے۔ وہ ایک کہنہ مشق صحافی ہی نہیں صاحبِ بصیرت شخص اور دانش ور بھی تھے۔

زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو، سیاست کے راز ہائے دروں ہوں، کشمیر، افغانستان، فلسطین جیسے بین الاقوامی مسائل ہوں، ان سب کےلیے ان کے دل میں بڑا درد تھا۔ اہلِ دانش کی آراء کو بھی بہت مؤثر انداز میں پیش کرتے۔ اگر میر صاحب صحافت کی کوئی اکیڈمی قائم کر کے سیاست دانوں کی تربیت کا اہتمام کرتے تو آج ملک میں سیاسی بحران نہ ہوتا۔ صحافت کے کئی ایسے شعبے بھی ہیں جن میں ’’جنگ‘‘ نے نئی طرح ڈالی اور وہ میر صاحب کی ذاتی کوششوں کا نتیجہ تھیں۔

پرنٹنگ انڈسٹری میں انقلاب

میر صاحب نے صحافت کے میدان میں اُصولی اور عملی پہلوؤں سے جن جدّت طرازیوں کی بنیاد رکھی۔ ان میں سے اکثر کا تعارف کرانے کا اعزاز میرِ صحافت ہی کو حاصل ہے۔ انہوں نے صحافت میں ایک نئی طرح  ڈالی، اسے ایک نیا انداز بخشا اور پرنٹ میڈیا میں انقلاب آفریں تبدیلیاں  لاکر ایک نئی جوت جگائی۔

صحافت سے وابستہ جدید ٹیکنالوجی، کمپیوٹر، رنگین صفحات کی جدّت اور دور جدید کی ایجادات کو متعارف کرانے میں ان کا وہی جذبہ کار فرما رہا جو جدوجہدِ آزادی کے ایام میں تھا۔ انہوں نے اردو صحافت کو نئی روایات سے روشناس کرایا۔

وہ تن تنہا پرنٹ میڈیا کو جدید معیار کے مطابق بنانے کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ تیز رفتار پرنٹنگ مشینیں متعارف کرائیں، اخبارات کو ریل پر چھاپا، لیزرکامپ کمپوزنگ کو اپنایا، جس سے نیوز پیپر پرنٹنگ کو جدید تیکنیک سے ہم آہنگ کرنے میں مدد ملی۔

آج بھی مروجہ اردو صحافت پر میر صاحب کی شخصیت کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ ٹیکنالوجی اور پریزینٹیشن میں جو پیش رفت ان کی قیادت میں ہوئی وہ پاکستان میں صحافت کو ایک بلند مقام عطا کرتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ نوری نستعلیق رسم الخط کااجرأ ان کا عظیم کارنامہ ہے، جس نے پرنٹنگ انڈسٹری میں انقلاب برپا کردیا۔ پاکستان کو اکیسویں صدی کے چیلنجوں کا کام یابی سے مقابلہ کرنے کے لیے یہ ایک اہم قدم تھا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ نوری نستعلیق رسم الخط، کمپیوٹر ، میرصاحب کی ذہن کی پیداوار تھا۔ ان خطوط پر صحافت کی دنیا میں سب سے پہلے انہوں نے سوچنا شروع کیا اور پھر کمپیوٹر انجینئرزکی مدد سے مختلف ممالک میں اس ضمن میں تجربات کیے گئے، جو بالآخر کام یابی سے ہم کنار ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے میر صاحب نے اردو کتابت کی نہ صرف کایا پلٹ دی بلکہ برصغیر پاک وہند میں صحافت کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ اس حوالے سے انہیں ’’ٹرینڈمیکر‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

میر صاحب کا حیدرآباد کے نیوز پیپرز ہاکرز کے ہمراہ گروپ فوٹو
میر صاحب کا حیدرآباد کے نیوز پیپرز ہاکرز کے ہمراہ گروپ فوٹو

میر صاحب کا تخلیقی ذہن

مولانا محمد علی جوہر کے ’’ہمدرد اور کامریڈ‘‘، مولانا ظفر علی خاں کا ’’زمیں دار‘‘ اور مولانا ابواکلام آزاد کے ’’الہلال اور البلاغ‘‘ تاریخ ساز اخبارات تھے۔ لیکن یہ سب ایسے دور کی پیدوار تھے جب صحافت دراصل ایک سیاسی مشن ہوا کرتی تھی۔ ان کا مقصد سیاسی جنگ لڑنا تھا۔

اس مقصد کے حصول کے لیے وہ اپنے اخبار ات و رسائل کو بہ طور ہتھیار استعمال کرتے تھے۔ برصغیر میں دو قومی نظریے کا پہلا نعرہ بھی معروف ادیب عبدالحلیم شرر کے ہفت روزہ اخبار ’’مہذب‘‘ نے لگایا تھا۔ ا گرچہ میر صحافت، میر خلیل الرحمن نے ایسے پُرآشوب دور میں صحافت کی دہلیز پر قدم رکھا جب دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خِطّوں میں آزادی کی تحریکیں ابھرنے لگی تھیں۔

چناں چہ میر صاحب نے بھی حالات کا اثر کسی حد تک قبول کیا، لیکن ان کے تخلیقی ذہن اور صلاحیتوں نے انہیں نئی راہیں دکھائی۔ انہوں نے اخبار کا نظام کام یابی سے چلانے میں جو مہارت حاصل کی وہ تاریخِ صحافت کا روشن باب بن گیا۔ انہوں نے سیاست میں خود حصہ لینے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ 

محمد علی جوہر اور ظفرعلی خان کی طرح خطابت کے سہاروں کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ البتہ عالمی سیاست کے تناظر میں جب برصغیر میں مسلمانوں کی آزادی کی تحریک فیصلہ کن مرحلے کی جانب بڑھ رہی تھی، تو میر صاحب نے اس تحریک کے دوران تن ِتنہا دہلی سے ’’روزنامہ جنگ‘‘ کا اجراء کیا۔ 

ان کی ادارت میں ’’جنگ‘‘ بھی کاروانِ آزادی کے ہر اول دستے میں شامل ہوگیا۔ بعد ازاں قیام پاکستان کے بعد روزنامہ جنگ نئے ملک کی تعمیر اور استحکام کے ملی جذبے سے سرشار ایک تحریک بن کر ابھرا۔ یہ عہد ساز اور تاریخی سفر آسان نہیں تھا۔ غلامی، آزادی، جمہوریت اور مسلسل آزمائش کے مختلف مراحل پر میرصاحب نے جس طرح ’’جنگ‘‘ کے نام اور کام کو آگے بڑھایا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ 

تحریک پاکستان کی عظیم ترین جدوجہد کی لمحہ بہ لمحہ داستان کے وہ باب جن میں قلم سے جہد مسلسل کا تذکرہ ہے، میر صاحب کے قابل ستائش کردار سے آج بھی مزین ہیں۔ وہ جو کسی نے کہا تھا کہ، میر خلیل الرحمن دنیا میں ’’لیونگ لیجنڈ آف جرنلزم‘‘ ہیں تو اس میں کوئی حاشیہ آرائی نہیں۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید