مری میں 22 گھنٹوں بعد رکنے والی برف باری ایک بار پھر شروع ہوگئی ہے۔ جھیگا گلی سے ملحقہ ایم آئی ٹی روڈ پر سیاحوں کی گاڑیاں پھنس گئی ہیں، جہاں سے تاحال برفباری نہیں ہٹائی جاسکی ہے۔
مری میں ڈیڑھ فٹ سے زائد برف باری ریکارڈ کی گئی ہے، وہاں سیاحوں کا داخلہ تاحال بند ہے، جھیگا گلی سے مری جانے والا راستہ ٹریفک کےلیے بند ہے۔
سیاحوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہمارے پاس پیسے ہیں نہ ہی کھانے کا کوئی انتظام ہے، کئی گھنٹے سے ہم برف میں پھنسے ہیں کوئی ادارہ نہیں پہنچا۔
کمشنر راولپنڈی عامر خٹک نے کہا ہےکہ مری میں برفباری کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا ہے، راولپنڈی اسلام آباد سے مری کا داخلہ بند کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مری میں پھنسی گاڑیوں کو نکالنے کا ریسکیو آپریشن جاری ہے، شدید برف باری کے باعث سڑکیں پھسلن کا شکار ہیں۔
عامر خٹک نے مزید کہا کہ برفباری میں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور پولیس ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں۔
کمشنر راولپنڈی نے یہ بھی کہا کہ مری میں مواصلاتی نظام متاثر ہونے سے رابطوں میں دشواری ہے، برف میں پھنسے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ سیاح مری میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، وزیر اعلیٰ پنجاب صورتحال کی خود نگرانی کررہی ہیں۔