سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بینچ نے قرار دیا ہے کہ خلع ایک علیحدہ اور مخصوص قانونی حق ہے۔
عدالتِ عظمیٰ کے بینچ نے قرار دیا کہ عدالتیں از خود کسی خاتون کے طلاق کے دعوے کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتیں۔
بینچ نے قرار دیا کہ اگر شوہر مسلم فیملی لاز آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیوی کی اجازت یا مصالحتی کونسل کی منظوری کے بغیر دوسری شادی کرے تو خاتون طلاق کی حق دار ہوتی ہے اور ایسی صورت میں اُسے حقِ مہر سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ بینچ نے مزید کہا کہ خلع ایک علیحدہ اور مخصوص قانونی حق ہے جو صرف اسی صورت میں دیا جا سکتا ہے جب خاتون واضح، صریح اور رضاکارانہ طور پر خلع طلب کرے۔
ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے نکاح کو طلاق کی بنیاد پر تحلیل کر دیا اور اپیل کنندہ خاتون کو 12 لاکھ روپے بقایا مہر ادا کرنے کا حکم دیا۔