• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیشنل رجسٹریشن امتحان اسٹیپ 2 کلینیکل اسکلز 31 جنوری اور یکم فروری کو منعقد ہوگا

کونسل ایکٹ 2022 کی شق 18 کے تحت نیشنل رجسٹریشن امتحان (این آر ای) اسٹیپ 2 کلینیکل اسکلز امتحان (CSE) 31 جنوری تا 1 فروری 2026 (ہفتہ–اتوار) کو منعقد کیا جا رہا ہے۔ 

یہ امتحان نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے زیرِ اہتمام ہوگا۔ تمام اہل امیدواروں کو ایڈمٹ کارڈ جاری کر دیے گئے ہیں اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ امتحانی مرکز پر بروقت پہنچیں۔ 

قانون کے مطابق یہ امتحان سال میں دو مرتبہ منعقد کیا جاتا ہے اور یہ صرف ان امیدواروں کے لیے ہے جنہوں نے این آر ای اسٹیپ 1 کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ہو۔ ملک بھر سے مجموعی طور پر 1849 گریجویٹس نے این آر ای II کے لیے رجسٹریشن کروائی ہے۔ 

یہ امتحان غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کی کلینیکل مہارتوں اور صلاحیتوں کا جائزہ لیتا ہے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ عملی طب کے لیے درکار معیار پر پورا اترتے ہیں۔ یہ امتحان پاکستانی شہریت رکھنے والے غیر ملکی گریجویٹس کے لیے کونسل میں رجسٹریشن حاصل کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔

این آر ای اسٹیپ 2 سی ایس ای میں عملی جانچ شامل ہوتی ہے، جس میں مریضوں کے ساتھ تعامل، کلینیکل طریقہ کار اور فیصلہ سازی کے عمل شامل ہیں۔ یہ امتحان ایک آبجیکٹو اسٹرکچرڈ کلینیکل ایگزامینیشن (OSCE) سے مشابہ ہے، جس میں امیدواروں کو تھیوری اور سی ایس ای دونوں حصے الگ الگ پاس کرنا ہوتے ہیں۔ 

این آر ای اسٹیپ 2 امتحان اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ صرف اہل اور باصلاحیت پیشہ ور افراد ہی میڈیکل اور ڈینٹل شعبوں میں داخل ہوں، جس سے پاکستان میں میڈیکل تعلیم اور عملی خدمات کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔ امتحان کا شفاف اور منصفانہ ڈیزائن تعصبات کو کم کرتا ہے اور تمام امیدواروں کے لیے مساوی مواقع کو یقینی بناتا ہے۔ 

یہ مسلسل سیکھنے اور پیشہ ورانہ ترقی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جس سے صحت کی سہولیات میں بہتری اور معیارِ کارکردگی کو فروغ ملتا ہے۔ ساڑھے تین گھنٹے پر محیط اس سی ایس ای میں مختلف شعبہ جات کے 20 اسٹیشنز شامل ہںیں۔ تھیوری اور سی ایس ای دونوں حصوں میں کامیابی کے لیے کم از کم 60 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہے۔ 

یہ سخت جانچ پڑتال کا عمل طبی پیشوں پر عوامی اعتماد کو برقرار اور صحت کی خدمات کے معیار کو یقینی بناتا ہے۔ خواہشمند میڈیکل طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف PM&DC کی جانب سے تسلیم شدہ بین الاقوامی تعلیمی اداروں میں داخلہ لیں اور ان اداروں کو معیاری تعلیم فراہم کرنی چاہیے تاکہ جب یہ گریجویٹس واپس پاکستان آئیں تو وہ لائسنسنگ امتحان پاس کر سکیں، قومی صحت کے نظام میں شامل ہوں اور اپنے ملک کی خدمت کر سکیں۔

قومی خبریں سے مزید
صحت سے مزید