نیو کراچی کا سرکاری پرائمری اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہے، 3 کلاس رومز پر مشتمل اسکول میں نہ ڈیسک ہیں اور نہ پنکھے ہیں، کمروں کے دروازے، چھتیں اور کھڑکیاں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
1972 میں قائم ہونے والا فرحانہ پرائمری اسکول آج بنیادی سہولیات کے فقدان کا شکار ہے، اسکول کی کلاسوں اور صحن میں گندہ پانی جمع ہے جبکہ طلبہ اور اساتذہ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
اساتذہ نے 2 روز قبل اپنی مدد آپ کے تحت سیوریج کا پانی تو صاف کروا دیا لیکن والدین اور اساتذہ کو یہ خدشہ ہے کہ سیوریج کا پانی دوبارہ آسکتا ہے۔
اسکول میں 113 طلبہ زیر تعلیم ہیں، 5 اساتذہ تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں، یہاں موجود تینوں کلاس رومز خستہ حالی کی تصویر پیش کرتے ہیں، ایک کمرے میں کلاس 1اور 2 کے بچے ہیں، دوسرے کمرے میں کلاس 4 اور 5 کے طلبہ ہیں، جن کی ٹوٹی ہوئی چھتیں ہیں جبکہ دروازوں اور کھڑکیوں کا نام و نشان نہیں ہے۔
کلاس رومز میں بینچیں نہیں ہیں اس لیے والدین نے ہی گھر کا خراب صوفہ رکھ دیا تاکہ بچے زمین پر نہ بیٹھیں، معصوم لہجوں میں بچے بہتر کلاس روم، صاف ماحول اور بنیادی سہولیات کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔
اسکول کا واش روم بھی اساتذہ اور والدین نے چندہ جمع کرکے تعمیر کروایا، مگر سیوریج کا مسئلہ اب تک مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہو سکا۔