• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی ایک ایسا شہر ہے جو ہر صبح ملبے پر کھڑا ہو کر جینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں سورج روشنی کے ساتھ نہیں کسی نئے سانحے کی خبر کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ کہیں دھواں اٹھ رہا ہوتا ہے، کہیں لاشیں گنی جا رہی ہوتی ہیں، کہیں مائیں اپنے بچوں کے نام پکار رہی ہوتی ہیں اور کہیں کاغذوں میں سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہوتا ہے۔ سانحہ گل پلازہ بھی اسی بے رحم معمول کا حصہ ہے، ایک ایسا نوحہ جو صرف چند خاندانوں کا نہیں بلکہ پورے شہر کی تقدیر کا ماتم ہے۔ یہ محض ایک عمارت کا جلنا نہیں تھا، یہ انسانوں کے اعتماد، ریاست کی ذمہ داری اور معاشرے کے ضمیر کا راکھ ہو جانا تھا۔کراچی کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ شہر حادثات سے نہیں، حادثات اس شہر سے جنم لیتے ہیں۔ یہاں کا انفراسٹرکچر ایک طویل عرصے سے موت کی دستاویز بن چکا ہے۔ دو کروڑ سے زائد انسانوں کا یہ شہر آج بھی ایسی منصوبہ بندی کے سہارے چل رہا ہے جو شاید اس وقت کی گئی تھی جب آبادی اس کا عشرِ عشیر بھی نہ تھی۔ بوسیدہ عمارتیں، غیرقانونی پلازے، تنگ راستے، ناقص برقی نظام، بند ایمرجنسی دروازے اور فائر سیفٹی کے نام پر محض رنگے ہوئے بورڈ،یہ سب مل کر کراچی کو ایک چلتا پھرتا حادثہ بنا چکے ہیں۔

گل پلازہ کی آگ نے یہ سوال پھر زندہ کر دیا کہ آخر یہ عمارت اس حالت میں کیوں کھڑی تھی؟ کیوں اس میں کاروبار کی اجازت تھی؟ کیوں درجنوں انسان ایک ایسے ڈھانچے میں کام کرنے پر مجبور تھے جو کسی بھی لمحے قبر بن سکتا تھا؟ یہ سوال کسی ایک ادارے سے نہیں، پورے نظام سے ہے۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ہو یا فائر بریگیڈ، ضلعی انتظامیہ ہو یا مقامی حکومت،سب کی ذمہ داری اس ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ اس شہر میں اشرافیہ کی کرپشن ایک خاموش آتش فشاں کی طرح ہے جو ہر کچھ عرصے بعد پھٹتا ہے اور نیچے رہنے والوں کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔ نقشے کچھ اور، تعمیر کچھ اور،اجازت چند منزلوں کی، تعمیر کئی گنا زیادہ۔

فائلوں میں سب کچھ درست، حقیقت میں سب کچھ خطرناک۔ پیسہ بولتا ہے، دستخط ہو جاتے ہیں، قوانین جھک جاتے ہیں اور انسان مر جاتے ہیں۔ گل پلازہ کے متاثرین بھی اسی نظام کی نذر ہوئے جہاں انسانی جان سے زیادہ ایک لفافے کی قیمت ہوتی ہے۔ یہ پہلا سانحہ نہیں، نہ ہی آخری دکھائی دیتا ہے۔ کراچی کا حافظہ سانحات سے بھرا پڑا ہے۔ 2012ء کا سانحہ بلدیہ ٹاؤن آج بھی اجتماعی ضمیر پر ایک جلتا ہوا داغ ہے، جہاں 260سے زائد مزدور زندہ جل گئے۔ دروازے بند تھے، کھڑکیاں سیل تھیں، فائر الارم موجود نہیں تھا اور مالکان محفوظ رہے۔ اس کے بعد بھی شہر نے آگ، دھماکوں اور عمارتوں کے گرنے کے کئی مناظر دیکھے،تاج کمپلیکس، رحمان ٹاور، لیاقت آباد، ناظم آباد، صدر...فہرست طویل ہے، سبق مختصر۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ بیس برسوں میں کراچی میں درجنوں بڑے آتشزدگی کے واقعات اور عمارتوں کے گرنے کے سانحات پیش آئے، جن میں سینکڑوں جانیں ضائع ہوئیں۔ مگر ہر بار نتیجہ وہی رہا:چند بیانات، چند کمیٹیاں، چند رسمی معطلیاں اور پھر خاموشی۔ نہ کوئی بڑا بلڈر سزا پاتا ہے، نہ کوئی بااثر افسر قانون کے کٹہرے میں آتا ہے۔ قربانی ہمیشہ وہ دیتا ہے جو کمزور ہوتا ہے، جو روزی کیلئے پلازوں میں کام کرتا ہے، جو صبح گھر سے نکلتے وقت واپس آنے کی امید رکھتا ہے۔ سانحہ گل پلازہ کے بعد بھی وہی مناظر دہرائے گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے جانفشانی سے کام کیا، ملبہ ہٹایا، لاشیں نکالیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کا کردار صرف لاشیں نکالنا رہ گیا ہے؟ کیا اصل ذمہ داری روک تھام کی نہیں؟ اگر معائنہ وقت پر ہوتا، اگر قوانین پر عمل ہوتا، اگر کرپشن کو لگام دی جاتی تو شاید یہ مائیں یتیم نہ ہوتیں، یہ بچے بے سہارا نہ ہوتے۔

یہ کالم محض تنقید نہیں، ایک نوحہ ہے۔ ان کیلئے جو ملبے تلے دب گئے اور ان کے لیے بھی جو زندہ رہ گئے مگر اندر سے ٹوٹ گئے۔ وہ ماں جو بیٹے کی تصویر سینے سے لگائے بیٹھی ہے، وہ باپ جو لاش پہچاننے سے قاصر رہا، وہ بچہ جو پوچھ رہا ہے کہ اب ابو کب آئیں گے،یہ سب سوال ہمارے اجتماعی ضمیر سے ہیں۔کراچی میں عمارتیں شاید مضبوط ہو رہی ہیں، مگر انسان کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں ترقی سیمنٹ اور سریے میں ناپی جاتی ہے، انسانی جان میں نہیں۔ جب تک غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی، فائر سیفٹی قوانین پر سختی، اور اشرافیہ کی کرپشن کا حقیقی احتساب نہیں ہوگا، تب تک گل پلازہ جیسے سانحات محض نام بدل بدل کر ہمارے سامنے آتے رہیں گے۔

گل پلازہ کی راکھ ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی اور ایک دوسرے پر الزام تراشیاں شروع ہو چکی ہیں۔ایک وزیر با تدبیر فرماتے ہیں کہ آگ تو کیلیفورنیا میں بھی لگ جاتی ہے۔کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ پیپلز پارٹی کیخلاف سازش ہے،کوئی ایم کیو ایم پر الزامات لگا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تیس چالیس سال سے برسرِ اقتدارپوری اشرافیہ اسکی ذمہ دار ہے۔ اگر مئیر خود کو بے اختیار سمجھتا ہے تو استعفیٰ دے کر گھر جائے، سندھ حکومت کے اعلانات،دعوے وعدے سب اس آگ میں جل کر راکھ ہوگئے ہیں۔ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی سب اس جرم کے ذمہ دار ہیں۔ شہر کی یادداشت پہلے ہی دھندلا چکی ہے۔ ڈر یہ ہے کہ کچھ عرصے بعد یہ سانحہ بھی فائلوں میں دفن ہو جائیگا، اور کراچی کسی نئے نوحے کی تیاری میں مصروف ہو جائیگا۔ خدا کیلئے کراچی کو اپنا شہر سمجھیں یہ منی پاکستان ہے۔پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے،چھوٹے چھوٹے مفادات اور معمولی فوائد کیلئے اس بڑے شہر کو مزید برباد نہ کریں بلکہ اسکی روشنیاں واپس لائیں تاکہ اسکے شہری سکھ کا سانس لیں اور یہ شہر پاکستان کا روشن چہرہ بن سکے۔

تازہ ترین