• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چھٹی صدی عیسوی کا عرب شاعر امرؤ القیس ایک قصیدے میں کہتا ہے کہ جسے اپنی زبان ہی پر قابو نہ ہو، وہ زندگی کی باقی آزمائشوں میں کیا خاک اڑائے گا۔ امرؤ القیس سے کوئی سو برس بعد مولا علیؓ نے فرمایا ’کلام کرو تاکہ پہچانے جاؤ‘۔ عزیزو ہماری کیا بساط! زندگی کا احسان ہے کہ ہم نے اپنے عہد کے کچھ بڑوں کو دیکھا اور سنا۔ بھٹو صاحب کا دور حکومت تھا۔ فیض صاحب وفاق میں مشیر ثقافت تھے۔ ایک شام کسی قریبی دوست سے فرمایا ’جبر کی بھی ایک سائنس ہوتی ہے۔ کالا باغ یہ سائنس سمجھتا تھا، بھٹو صاحب نہیں سمجھتے‘۔

فیض صاحب کی معاملہ فہمی قیامت تھی۔ بھٹو صاحب تاریخ کے شناور تھے۔ جدید دماغ پایا تھا لیکن دیس میں پسماندگی کی ثقافت سے مانوس نہیں تھے۔ بابائے قوم بھی مغرب اور مشرق میں حائل اس خلیج میں ناؤ کھیتے رہے۔ کہنے والوں نے تو علامہ اقبال کے خطبات سے ایسے ایسے نکات برآمد کیے کہ خود اقبال حیات ہوتے تو بقول خلیفہ عبدالحکیم ’دلچسپ صورتحال‘ پیدا ہو جاتی۔ علامہ پر بھی یہی الزام تھا کہ مغرب کی عینک سے مشرق کو دیکھتے ہیں۔ ہم آپ تو زمیں کا بوجھ ہیں۔ آج بھی ہمارے درمیان اہل نظر موجود ہیں۔ اہل نظر کی پہچان یہ ہے کہ کم کم دکھائی دیتے ہیں۔ کنج قفس میں اسیر ہیں۔اُدھر فصل ِبہار نے باغ میں دھومیں مچا رکھی ہیں۔ پچھلے دنوں ڈاکٹر مصدق ملک کی ایک تقریر سننے کو ملی۔ فرحت اللّٰہ بابر نے تلے اوپر دو کتابیں لکھ کر اس قوم پر حقیقی احسان کیا ہے۔ تاریخ کا قرض چکایا ہے۔ سرحد کے اس پار سے ڈاکٹر رام پونیانی کی ایک تقریر ہم تک پہنچی۔ کوئی زمانہ عالی دماغ رجال سے خالی نہیں ہوتا۔ ہماری مشکل یہ ہے کہ تاریخ پڑھنے اور سمجھنے کا دماغ کسے ہے۔ اساتذہ نے فرمایا کہ حقیقی رہنما کی پرکھ کے دو پیمانے ہیں۔ پہلا یہ کہ اس کے دماغ میں نصب تاریخ کے عدسے کا پھیلاؤ کتناہے۔ دوسرا یہ کہ وہ فیصلہ کرتے ہوئے کتنے امکانات (Variables) کو مدنظر رکھ سکتا ہے۔ یہ کٹھن بندش ہے۔ ریاض مانگتی ہے۔ یہ کسی ٹویٹ یا ٹک ٹاک سے نہیں سیکھی جاتی۔

اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی کا پھیلاؤ ہے۔ دوسرا بنیادی مسئلہ اس آبادی کو ایسی تعلیم دینا ہے کہ یہ جم غفیر انسانی اور سماجی سرمائے میں تبدیل ہو سکے۔ ایک صاحب اختیار سے اتفاقیہ ملاقات ہوئی تو یہی دو معاملات پیش کیے۔ انہوں نے ترنت فرمایا ’آپ کے سوال کا جواب بیس پچیس برس کی اجتماعی مشقت اور جاں سوزی مانگتا ہے۔ ہمیں آئندہ انتخاب کی فکر ہے۔ بڑے سے بڑا انڈر پاس یا فلائی اوور چند مہینے میں مکمل ہو جاتا ہے اور نظر آتا ہے‘۔ صاحب وہ سچے اور ہم آپ جھوٹے۔ واقعی جہاں حکومتوں کو اگلے ہفتے کی خبر نہ ہو، جہاں کسی پیشانی پر آنے والی شکن تاریخ کا دھارا اور سیاست کا بیانیہ بدل دیتی ہو، وہاں سیاست دان غریب ربع صدی پرے دیکھنے والی آنکھ کس بازار سے خریدے۔ نیازمند یہ عرض نہیں کر رہا کہ ایک ہی حکومت کو بیس پچیس برس قائم رہنا چاہیے۔ جمہوریت عوام کی تائید سے قائم ہونے والی حکومت کو کہتے ہیں جو عوام کو جوابدہ ہوتی ہے اور عوام کی مرضی سے بدل بھی سکتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ کچھ بنیادی معاملات پر قوم کا اتفاق ہونا چاہیے۔ قوم زمین زاد عوام اور حکومت کے بندوبست کو ایک اکائی میں پرونے کا نام ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اگر قوم دو دھاروں میں تقسیم ہو تو اسے جمہوری عمل کی بجائے پولرائزیشن کہتے ہیں۔ اس قطبی تفریق کے علاج کا نسخہ ہم ’تیسری قوت ‘میں ڈھونڈتے ہیں۔ ہم نے ’تیسری قوت‘ کاشت کر کے نتیجہ دیکھ لیا؟ ہماری سیاسی روایت میں تو سہروردی، باچا خان اور میاں افتخار الدین باہم ہاتھ ملاتے ہیں۔ مفتی محمود، ولی خان کے ساتھ اتحادی حکومت تشکیل دیتے ہیں۔ محترمہ نصرت بھٹو، اصغر خاں صاحب کے ساتھ بیٹھ کر ایم آر ڈی تشکیل دیتی ہیں۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف میثاق جمہوریت پر دستخط کرتے ہیں۔ ہم کوتاہ نظر تاریخ کے دھاروں کی پہچان نہیں رکھتے۔ جمہوری عمل میں بیک وقت کئی سیاسی دھارے، مکالمے کی مدد سے، سمجھوتے کی راہ نکال سکتے ہیں۔ ہمارا مسئلہ سیاسی تقسیم سے تعلق نہیں رکھتا۔ ہمارے بیچ کھنچی حقیقی لکیر کے ایک طرف عوام ہیں اور دوسری طرف ریاست۔1951ءمیں ہمارے تین کروڑ ان پڑھ ہم وطنوں کی تعداد آج بارہ کروڑ سے آگے نکلنے کو ہے۔ ہمارا ملک یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اس ملک کو قائم رکھنے اور ترقی دینے کے لیے عوام کو قوم میں شمار کرنا ہو گا۔ جسے مکان کا کرایہ اور بجلی کا بل دینا ہے، اسے فیصلہ سازی میں بھی شریک کرنا چاہیے۔

اب خوگر حمد سے کچھ گلے شکوے بھی سن لیجئے۔ پنجاب میں جرائم پر قابو پانے کا جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے، وہ درست نہیں۔ اس سے نظام عدل منہدم ہو جائے گا۔ آج کی بوئی فصل آنے والے کل کی ’فرد جرم‘ میں تبدیل ہو جائے گی۔ دوسرا شکوہ محترم فضل الرحمن سے ہے۔ بے شک انہیں اپنے سیاسی حلقہ اثر کی حساسیت کا خیال رکھنا ہوتا ہے لیکن نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ لیڈر ہجوم کے پیچھے نہیں چلتا، اسے راستہ دکھاتا ہے۔ مولانا محترم بہتر جانتے ہیں کہ لیجسلیٹو کونسل میں شاردا ایکٹ کی حمایت میں 11 ستمبر 1929 کو محمد علی جناح کی تقریر اور اس کی مخالفت میں 74 علما کا فتویٰ تاریخ کا حصہ ہے۔ تب بھی کچھ اصحاب زہد نے قانون توڑتے ہوئے ہزاروں کمسن بچوں کے نکاح پڑھائے تھے۔ مولانا کی فراست بے کراں ہے۔ ہماری معروضات تو دست سوال ہیں۔

تیسرا شکوہ یہ کہ زندہ قوموں کی شریانوں میں اختلاف کا لہو دوڑتا ہے۔ اختلاف پر تادیب کا دائرہ اس قدر پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے کہ اس میں احتجاج کی سرگوشی موت کی خاموشی میں بدل جائے۔ اشارہ دو قانون دان میاں بیوی کو ملنے والی سزا کی طرف ہے۔ جبر کی ایک سائنس ہوتی ہے۔ ہمیں سائنسی فکر بھلے نصیب نہ ہو، کم از کم جبر کی سائنس ہی سیکھ لینی چاہئے۔

تازہ ترین