قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیکا ایکٹ کے ذریعے آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ جب رسمی ذرائع سے خبر نہیں ملتی تو افواہوں کا بازار گرم ہوجاتا ہے، پاکستان میں پیکا ایکٹ سے آزادی اظہار کا گلا گھونٹا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ناجائز طور پر پریشرائز کرکے میڈیا کو کہا جاتا ہے کہ فلاں جماعت یا شخص کا نام نہ لیا جائے، حقائق تک رسائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیمرا کا جو نوٹس جاری ہوا یہ مناسب نہیں، پہلے ہی لوگوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، دفعہ 144 لگا دی جاتی ہے.
قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو فری ٹرائل کا حق دیا جانا چاہیے تھا۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ اگر کوئی سوال نہیں کرے گا یا تنقید نہیں کرے گا تو پھر ڈکٹیٹرشپ ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاستدان جوابدہ ہیں تو پھر عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور تمام افراد جوابدہ ہیں، ضروری ہے سوال کے جواب دیے جائیں، اگر غلطی ہے تو اصلاح کی جائے۔