پاکستان میں اس وقت انڈسٹری اور کاروباری طبقے کو سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے سبب پیداواری لاگت بڑھنے کا ہے۔ ایک طرف مقامی سطح پر لوگوں کی قوت خرید کم ہونے کے باعث پیداواری عمل سست ہے اور دوسری طرف عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات خطے کے دیگر ممالک سے مقابلے میں مسابقت کی دوڑ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ اس حوالے سے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز زیادہ دباو میں ہیں کیونکہ بڑے کاروباری اداروں نے تو خود کو کسی نہ کسی طرح سولر انرجی پر منتقل کر لیا ہے لیکن چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے، کاٹیج انڈسٹری، کمرشل اور گھریلو صارفین مشکل میں ہیں۔ علاوہ ازیں نیشنل گرڈ سے سولر پر منتقل ہونے والے صارفین کی وجہ سے پیدا ہونے والا اضافی مالیاتی بوجھ بھی موجودہ صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے نیشنل گرڈ کو چھوڑنے کے رجحان میں مزید تیزی آنے کا اندیشہ ہے۔
اس حوالے سے نیٹ میٹرنگ کی پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں ایک اور پریشان کن اقدام ہے کیونکہ سولر انرجی پر منتقل ہونے والے صارفین کی جانب سے نیشنل گرڈ میں فراہم کی جانے والی اضافی بجلی کے معاوضے کی شرح میں کمی پر ماہرین پہلے ہی تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود حال ہی متعارف کروائی گئی پالیسی کے تحت 2015 کے نیٹ میٹرنگ رولز کو تبدیل کرکے گراس میٹرنگ کا نظام متعارف کروا دیا گیا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے منظور شدہ بجلی کے لوڈ کے اندر سولر پینل لگانے تک محدود رکھنا ہے۔ اس طرح سولر انرجی پر منتقل ہو کر نیٹ میٹرنگ کا حصہ بننے والے صنعتی، کمرشل اور گھریلو صارفین کو حاصل ہونے والے فوائد ختم ہو جائیں گے۔ اگرچہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد صنعتی، کمرشل اور گھریلو صارفین کو دوبارہ نیشنل گرڈ پر لانا ہے لیکن اندیشہ یہ ہے کہ اس پالیسی کی وجہ سے زیادہ تر صارفین مکمل طور پر آف گرڈ ہو جائیں گے۔
ان حالات میں بجلی پیدا اور تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو بچانے کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت کم کرنے اور طویل المدت بنیادوں پر سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے انرجی سیکٹر کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اس سلسلے میں پائیدار اصلاحاتی عمل کا آغاز بجلی کے شعبے میں بہتر طرزِ حکمرانی اور مالی نظم و ضبط سے کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں چند سیاسی بنیادوں پر کئے گئے فیصلوں کی وجہ سے ملک میں بجلی کی اضافی پیداوار کے ذریعے صارفین پر "کیپسٹی پیمنٹس" کا اضافی مالی بوجھ لاد دیا گیا تھا۔ اس کے برعکس اگر اس وقت سولر انرجی کے استعمال کو فروغ دیا جاتا تو آج پاکستان کے انرجی سیکٹر کی صورتحال یکسر مختلف ہوتی۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت مہنگی بجلی پیدا کرنے والے نجی بجلی گھروں سے معاہدے ختم کر رہی ہے جس سے اگلے ایک، دو سال میں بجلی کے صارفین پر موجود اضافی مالیاتی بوجھ مکمل ختم ہونے کی امید ہے۔ اس کیساتھ ساتھ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لائن لاسز میں کمی کرنے کے علاوہ بجلی چوری کی روک تھام اور سپلائی چین میں بروقت ادائیگیوں کو یقینی بنا کر مجموعی لاگت میں کمی لانے پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ناصرف انڈسٹری کو پیداواری لاگت میں اضافے کے درپیش چیلنج میں ریلیف میسر آئے گا بلکہ عام صارفین کے نیشنل گرڈ کو چھوڑ کر سولر انرجی پر منتقل ہونے کے رجحان میں بھی کمی لائی جا سکے گی۔
علاوہ ازیں بجلی کی اصل پیداواری لاگت کی بنیاد پر شفاف ٹیرف اسٹرکچر تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی انڈسٹری کو خطے کے دیگر ممالک کے مساوی قیمتوں پر بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ اس طرح ناصرف پاکستان میں صنعتوں کے پیداواری عمل کو فروغ دینے میں مدد ملے گی بلکہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی برآمدکنندگان کی مسابقت بہتر بنا کر برآمدات میں بھی اضافہ ممکن ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ عمل سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافے کا باعث بنے گا اور پیداواری شعبوں کو بجلی کی قیمت میں ہونے والے اچانک اضافے سے تحفظ مل سکے گا۔ ارباب اقتدار کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ توانائی کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے ترسیل اور تقسیم کے نظام کو جدید بنانے کے لئے اسمارٹ گرڈز میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ اس کے علاوہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ بھی سپلائی کو مستحکم رکھنے اور تکنیکی نقصانات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ان اقدامات کی بدولت مینوفیکچرنگ، کان کنی اور برآمدات سے وابستہ صنعتوں کے لئے سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے جس سے ناصرف ملک میں انڈسٹرئلائزیشن کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار کی فراہمی سے عام آدمی کی زندگی میں بھی بہتری آئے گی۔ تاہم اس کے لئے جامع اصلاحات کا نفاذ اور بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کاروباری لاگت میں کمی، صنعتی پیداوار میں اضافے اور طویل المدت سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ممکن نہیں ہے۔
علاوہ ازیں پاکستان کو درپیش موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے فوسل فیول پر انحصار کم کرنے اور برآمدی مسابقت بڑھا کر صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے کیلئے بھی فوری اصلاحات ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں انرجی مکس کو بہتر بنانے کیلئے مقامی وسائل مثلا ہائیڈل، سولر اور ونڈ پر انحصار بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمدی فیول پر انحصار کم کرنے کیلئے لانگ ٹرم فیول سکیورٹی پلان بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ناصرف صنعتوں بالخصوص ایکسپورٹ انڈسٹری کیلئے مسابقتی انرجی ٹیرف متعارف کروایا جا سکے گا بلکہ کاربن کے اخراج میں کمی کو یقینی بنا کر یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کو پاکستان کی برآمدات میں تسلسل اور اضافہ بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔