پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے 3 فیصلوں کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواستیں دائر کر دیں۔
خاتون کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کو زنا بالرضا قرار دینے کے فیصلے، 16 افراد کو قتل کرنے کے ملزم کی سزا کو الگ الگ کاٹنے کے بجائے ایک ساتھ سزا شمار کرنے اور فوجداری مقدمے میں دیگر ملزمان کے ساتھ مفرور ملزم کو بھی بری کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔
نظرِ ثانی درخواستیں ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احمد رضا گیلانی کے ذریعے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہیں۔
نظرِ ثانی درخواستوں میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ زنا بالجبر کو زنا بالرضا میں تبدیل کرنے کا فیصلہ درست نہیں، عدالتیں عام طور پر جنسی زیادتی کا شکار خاتون کے خلاف آبزرویشنز دینے سے گریز کرتی ہیں تاکہ احترام میں کمی نہ آئے، ملزم کے مکروہ اقدام سے پیدا بچے کے قانونی اور سماجی کردار پر بات کرنے میں عدالت ناکام رہی، عدالتی فیصلے سے جنسی زیادتی کی شکار خاتون اور اُس کے اہلِ خانہ پر مستقل داغ عائد کر دیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی سزا شمار کرنے کو مخصوص حالات اور مخصوص حقائق کے تناظر میں نظرِ ثانی کی جائے، 2 خاندانوں کے 21 افراد قتل ہو چکے ہیں، یہ معاملے انسدادِ دہشت گردی کے مقدمے کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، اس مقدمے میں 16 افراد کی جان گئی اور دوسری طرف 5 افراد کا قتل ہوا۔
نظرِ ثانی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 16 افراد کے قتل کی سزا ایک فرد کو قتل کرنے کے برابر دی گئی اور کہا گیا ہے کہ سزا اکٹھی چلے گی، سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ سزا اکٹھی ہو گی یا الگ عدالت یہ کیس کے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے طے کرے گی، سپریم کورٹ کے پیراگراف نمبر 16 اور 17 کو حل کیا جائے اور 16 افراد کو قتل کرنے کی سزا ایک ساتھ کرنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے۔