حکومتی کمیٹی کی سانحہ گل پلازا پر تفتیشی رپورٹ سامنے آگئی۔ رپورٹ میں فائر بریگیڈ اور پولیس کی نااہلی کو اُجاگر کیا گیا ہے۔
کراچی میں سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کیلئے قائم حکومتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ جاری کردی۔
رپورٹ کے مطابق آگ گراؤنڈ فلور پر نیو توکل فلاور اینڈ گفٹ شاپ میں رات سوا دس بجے لگی۔ دکان مالک نے 11 سال کے بیٹے کو دکان پر چھوڑا ہوا تھا، جس نے ماچس کی تیلی جلائی جو غلطی سے مصنوعی پھولوں پر گر گئی۔ آگ بھڑکی اور آتش گیر مواد کی موجودگی کے باعث تیزی سے پھیلتی چلی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ چوکیدار نے پانچ منٹ بعد بجلی بند کر دی، اس وقت عمارت کے اندر تقریباً دو ہزار سے ڈھائی ہزار لوگ موجود تھے۔ غیر محفوظ برقی وائرنگ، ایئر کنڈیشنرز اور کھلے پائپس نے صورتحال کو سنگین بنادیا، عمارت میں بیسمینٹ کے علاوہ مرکزی ایئر کنڈیشننگ سسٹم موجود نہیں تھا۔ ای سی ڈکٹس کے ذریعے بہت کم وقت میں آگ بیرونی گیٹس کی چھت تک جا پہنچی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آگ لگنے کے وقت گراؤنڈ فلور کے 3 تا 4 گیٹس کھلے ہوئے تھے، گراؤنڈ فلور پر سیڑھیوں اور راستوں میں دھواں بھر گیا، جس سے لوگ دکانوں میں پھنس گئے۔ عمارت میں موجود خارجی راستے بند تھے یا تجاوزات قائم ہوچکی تھی، فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں نمایاں تاخیر ہوئی، پہلا واٹر باؤزر رات 11 بجکر 53 منٹ پر پہنچا، مسلسل پانی کی فراہمی رات 12 بجے کے بعد شروع ہوئی۔
لوگوں کو نکالنے کے لیے لوہے کی راڈز کاٹنے کے آلات موجود نہیں تھے، فائر فائٹرز کے پاس مناسب آلات، حفاظتی سامان، مطلوبہ تربیت اور مہارت نہیں تھی، ہجوم کو قابو میں رکھنے اور علاقے کو گھیرے میں لینے کے پولیس اقدامات مؤثر نہ تھے، ہجوم جمع ہونے کے باعث فائر فائٹنگ کی کوششیں متاثر ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں دکانوں کی تعداد 1102 سے بڑھا کر 1153 اور سیڑھیوں کی چوڑائی کم کی گئی جبکہ دروازوں کی تعداد 18 سے کم کر کے 13 کر دی گئی۔
رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ اس طرح کی آگ بجھانے کیلئے متعلقہ اداروں میں کوئی باقاعدہ ڈرل نہیں کروائی گئی۔
رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ تمام ہائی رسک عمارتوں کا فوری آڈٹ کروایا جائے، خلاف ورزی پر جرمانے، جزوی بندش یا سیل کرنے کی کارروائی کی جائے۔ بلڈنگ کنٹرول اور منظوری کے نظام میں اصلاحات کی جائیں، تمام عمارتوں میں فائر ایکسٹینگشرز، فائر ایگزٹ راستے یقینی بنائے جائیں۔
رپورٹ میں تجویز یہ بھی تجویز دی گئی کہ ایمرجنسی انخلا مشقوں کی تنصیب و نگرانی یقینی بنائی جائے، تمام فائر فائٹنگ اداروں کو جدید فائر فائٹنگ اور ریسکیو آلات سے لیس اور اپ گریڈ کیا جائے۔ سول ڈیفنس، کے ایم سی فائر ڈپارٹمنٹ اور ریسکیو 1122 کو ایک ہی کمانڈ کے تحت ضم کیا جائے۔