• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جو کھالیں جمع کرتے یا کھینچتے ہیں ان سے امید نہ رکھیں: میئر کراچی

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب—فائل فوٹو
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب—فائل فوٹو

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ جو کھالیں جمع کرتے یا کھینچتے ہیں ان سے امید نہ رکھیں۔

میئر کراچی نے فریئر ہال میں گیندے کے پھولوں کی 3 روزہ نمائش کا افتتاح کیا اور اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علی خورشیدی اور خالد مقبول صدیقی کو وزیرِ اعظم کو کہنا چاہیے کہ گل پلازا سانحے میں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، تاجر و صنعت کار اربوں روپے ٹیکس دیتے ہیں مگر وفاق نے کچھ نہیں کیا، مجھے وزیرِ اعظم کا گل پلازا سانحے پر فون نہیں آیا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جنہوں نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا کہا تھا وہ خود سانحے کے مقام پر نہیں پہنچے، ایم کیو ایم کی قیادت اپنوں کی نہیں ہوئی آپ کچھ بھی کر لیں، ایم کیوایم خوش نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی والے کہتے ہیں کہ اچھا ہے تو انہوں نے کیا ہے، برا ہے تو پیپلز پارٹی نے کیا ہے، یہ تنقید کرتے رہیں، باتیں کرتے رہیں، ہم کام کرتے رہیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومتی سطح پر گل پلازا کی تحقیقات کر لی گئی ہیں، حکومت کی کمیٹی نے تفتیش کی اور فیصلے کیے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ سیاسی رسہ کشی سے شہر کے مسائل حل نہیں ہوں گے، تمام لوگوں کو کہتا ہوں کہ مل کر کام کریں گے تو شہر کے مسائل حل ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ مشکل حالات میں وسائل کو استعمال کر رہے ہیں اور جہاں غلطی ہو گی میں اپنے عملے کی سرزنش کروں گا۔

میئر کراچی نے کہا کہ کچھ لوگ اپنے سیاسی تعصب کی وجہ سے شہر کو نیچا دکھا رہے ہیں، سانحۂ بلدیہ ٹاؤن کے وقت وفاق نے کراچی کی مدد کی تھی، سانحۂ گل پلازا پر کسی کو عدالت جانا ہے تو ضرور جائے۔

 انہوں نے کہا کہ کراچی، لاہور، فیصل آباد، پنڈی میں کہیں سانحہ ہو گا تو میں اس کو سانحہ کہوں گا، گل پلازا دل دہلا دینے والا سانحہ ہے، گل پلازا واقعے پر سیاسی بیان بازی کرنے والے کہیں غائب ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ یہاں فریئر ہال میں 100 سال پرانے درخت ہیں جو کراچی والوں کے لیے ہیں، آج درخت لگانا معاشرے کے لیے کام کرنے کے برابر ہے، بلدیہ عظمیٰ سول سائٹی کو ممکن مدد فراہم کرے گی، جہاں جگہ ہے وہاں نیم، گل موہر،  برگد، چیکو، امرود اور بادام کے درخت لگائیں۔

قومی خبریں سے مزید