• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دو روز پہلے، شام دبے پائوں بڑھی آتی تھی۔ سارے میں دھند اور بادلوں نے چھائونی چھائی تھی۔ بارش کی بوندیں کھڑکی کے شیشے سے ٹکراتیں تو دل مچل مچل اٹھتا کہ برآمدے میں کھڑے ہو کر بارش سے لطف اٹھایا جائے۔ بارش سے اپنی دوستی بہت پرانی ہے۔ میں نے ابھی ٹھیک سے چلنا نہیں سیکھا تھا۔ برساتی تلے بچھی چارپائی پر دادی کی گود میں بیٹھ کر ٹپ ٹپ گرتی بوندیں دیکھتا۔ بارش کے قطروں سے جہاں تہاں بلبلے نمودار ہوتے تو دادی کہتیں کہ یہ گلگلے بن رہے ہیں۔ بچے معصوم ہوتے ہیں، ان کی خوشی اور حیرانی کے دائرے بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں، ان کی پھیلتی سکڑتی آنکھوں کی طرح۔ ذرا سی بات پر کھلکھلا اٹھتے ہیں اور کبھی کوئی نامعلوم خواہش پوری نہ ہو تو روٹھنے میں چھوٹے لیموں برابر ہونٹ سکیڑ کر احتجاج کی مورت بن جاتے ہیں۔ اقبال کا مشاہدہ غضب تھا۔ بچے کو بہلاتے ہوئے کہا کہ ’کھیل اس کاغذ کے ٹکڑے سے، یہ بے آزار ہے‘۔ جانتے تھے کہ یہ ننھی سی جان ’غبارِ آرزو‘ اور ’قیدِ امتیاز‘ سے آزاد ہے۔ یہ سب تو ہوا لیکن کاغذ کا ’بے آزار ٹکڑا‘ آئندہ زندگی میں غضب ڈھاتا ہے۔ اسی کاغذ پر شاکر علی اور زین العابدین جیسے پْرکار ہاتھ چند لکیروں سے انمٹ نقوش کھینچ دیتے ہیں۔ فیض اور منیر نیازی چند لفظوں میں سْکھ اور دکھ کی بنتی مٹتی موجوں کی جگل بندی سمیٹ لیتے ہیں۔ مجید امجد کا موضوع سخن فضل محمود اسی کاغذ پر کلک گوہریں سے ’حروف کج تراش کی لکیر سی‘ کھینچتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اسی کاغذ پر صاحب اختیار کا قلم حرکت میں آتا ہے تو لاکھوں زندگیوں پر محرومی اور ناانصافی کی مہر ثبت ہو جاتی ہے۔ اسی کاغذ پر کالم لکھا جاتا ہے۔ کالم پڑھتے ہوئے نصف صدی گزر گئی۔ خود اپنے حروف شکستہ کی کہانی تین دہائیوں سے جاری ہے۔ اب تو کسی کالم کی دو سطریں پڑھ کر معلوم ہو جاتا ہے کہ صاحب قلم نے ’حسن طلب‘ کی دستک دی ہے یا آئندہ مفاد کیلئے ’سرمایہ کاری‘ کی ہے۔ ایسا نہیں کہ کالم کے نام پر صرف یہی دھندا ہوتا ہے۔ ہم نے ابراہیم جلیس، انتظار حسین اور منو بھائی کے کالم بھی پڑھ رکھے ہیں۔ کالم کی کہانی بیان کرنے سے پہلے ہفتہ رواں کی اس شام کی طرف پلٹتے ہیں جب بارش اپنے حسن بے پروا کی جلوہ آرائی کر رہی تھی اور درویش اپنے گوشہ عزلت میں قید تھا کیونکہ کالم لکھنا تھا۔

کالم کی ابتدائی صورت مکمل ہو چکی تھی۔ سرگم میں بندش بیٹھ چکی تھی۔ اب اس میں چند سْرتیاں ایزاد کرنا تھیں۔ آپ تو جانتے ہیں کہ ہر راگ میں سْروں کی ترتیب مقرر ہے۔ استاد بڑے غلام علی خاں صاحب اور روشن آرا بیگم کی گائیکی میں ان کا مخصوص رنگ ان باریک سْرتیوں ہی سے مرتب ہوتا ہے جہاں فنکار معلوم سْروں کے بیچ نشتر رکھ دیتا ہے۔ اچانک تنویر جہاں کمرے میں داخل ہوئیں۔ حسب معمول پوچھا۔ کالم مکمل ہو گیا؟ عرض کی۔ ’ابھی کچھ کام باقی ہے۔ آپ دیکھ لیجیے‘۔ میری شکستہ نویسی اور تنویر جہاں کی نگہ سقم شناس میں چالیس برس کا تعلق ہے۔ میں سنہ 87 میں بھی ایک انگلی سے مشقت کر کے ایک صفحہ ٹائپ کرتا اور اس پرنٹر سے کاغذ پر اتارتا جس پر پنگ پانگ کی گیند جیسا ایک لٹو تیزی سے گھومتا اور حروف ابھارتا چلا جاتا تھا۔ پھولی ہوئی سانس سے تحریر تنویر کی میز پر رکھتا۔ محترمہ ایک نظر ڈالتیں اور ٹھیک اس لفظ پر انگلی جا کے ٹھہرتی جو خطا بر بنائے آدمیت کے زمرے میں آتا تھا۔ میں حیران ہوتا کہ پورے صفحے میں ہجے یا گرامر کی ایک ہی غلطی تھی اور تنویر کی آنکھ وہیں جا کے ٹکی ہے۔ آج بھی یہی ہوا۔ ایک نظر ڈالی اور فرمایا ’یہ جملہ حذف کر دو‘۔ نامعلوم کون سا لمحہ تھا۔ بولنے کا حوصلہ تو نہیں ہو سکا لیکن نیاز مند نے دل میں کہا ’یہ جملہ نہیں کٹے گا۔ اسے نکالنے سے کالم بحر سے خارج ہو جائے گا‘۔

بھائی سہیل وڑائچ نے کچھ برس پہلے ایک محفل میں کہا تھا کہ ’آج کی اردو دنیا میں کالم ہی غزل ہے اور کالم ہی افسانہ ہے‘۔ باون تولے پائو رتی بات تھی۔ دل میں اتر گئی۔ فرق صرف یہ تھا کہ سہیل وڑائچ کا اشارہ غالباً آگہی اور ابلاغ کی طرف تھا۔ درویش سمجھتا ہے کہ مصرعے اور افسانے کی طرح کالم بھی ایک بحر اور ایک لحن میں لکھا جاتا ہے۔ علم دریائو ہے۔ ایک لفظ ادھر ادھر ہونے سے کبھی معنی اور کبھی تاثیر میں خلل آ جاتا ہے۔ یوں کوئی لکھنا چاہے تو میرے دوست یاسر پیرزادہ کے لفظوں میں ’کالم پائوں کی انگلیوں میں قلم‘ رکھ کے بھی لکھا جا سکتا ہے مگر ایسا کرنے سے پڑھنے والے کی توہین ہوتی ہے۔ کالم امتحانی پرچے کا جواب مضمون نہیں۔ اس میں خیال کا الاپ، تاریخ کی بڑھت، حالات حاضرہ کی درت اور لکھنے والے کے شخصی ترانے کو ادارے کی بتائی ہوئی لفظی تعداد کی تنگنائے میں رکھنا ہے۔ میرے پڑھنے والے مٹھی بھر سہی مگر آپ کی دعا سے ایسے نکتہ رس ہیں کہ فون کر کے عین اس جملے کا حوالہ دیتے ہیں جہاں آنکھ چوکنے سے کمزوری در آئی ہو۔ تاریخ کا حوالہ درست ہونا چاہیے۔ اعداد و شمار میں اونچ نیچ ناقابل معافی ہے۔ دلیل منطق کی پابند ہے۔ اس پر تسلیم شدہ اصول یہ کہ ادارے کی پالیسی مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے۔ یہ تو مناسب نہیں کہ کالم نگار کی ذاتی تسکین کیلئے ہزاروں گھرانوں کے چولہے بجھا دیے جائیں۔ اور اس سب پر ’زبردست کا ڈنڈا‘۔ یہ زبردست کون ہے؟ فیض صاحب لکھنؤکے ایک مشاعرے میں شریک تھے۔ نظامت آپ کے نیاز مند جیسے کسی ان گڑھ کے سپرد تھی۔ اہل لکھنؤ کی نخوت ضرب المثل ہے۔ صاحب نظامت نے فیض صاحب کو دعوت کلام دیتے ہوئے فرمایا۔ ’فیض صاحب کہتے تو بہت اچھا ہیں، پڑھنت البتہ خراب ہے‘۔ فیض صاحب حسب معمول آہستہ آہستہ مائیک پر آئے اور ’صاحب پڑھنت‘ کی طرف نیم رخ ہو کے فرمایا ’سب اچھے کام ہم ہی کریں۔ کچھ آپ بھی تو کیجئے‘۔ تو صاحب اب یہ ’زبردست‘ کی شناخت بھی میں ہی بتائوں۔ آپ بھی تو ’پرندے کی فریاد‘ معلوم کیجئے۔

تازہ ترین