• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی : رہائشی پلاٹوں پر پورشن کی تعمیر نے شہر کا نقشہ بگاڑدیا

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کراچی میں رہائشی پلاٹوں پر پورشن کی تعمیر نے شہر کی تعمیراتی منصوبہ بندی کا نقشہ بگاڑ دیا ہے۔

ملک کے معاشی حب کراچی میں تعمیرات کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، لیکن بے ہنگم اور غیرقانونی تعمیرات نے شہر کا نقشہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق میگا سٹی کراچی بیک وقت کئی اداروں کے درمیان تقسیم ہے، درجنوں ادارے زمین کی ملکیت کے دعویدار ہیں، تعمیرات سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کرانے والے اداروں میں بے انتہا کرپشن نے شہر کو کنکریٹ کا بےہنگم جنگل بنا کر رکھ دیا ہے، رہائشی یونٹس کی قیمتیں اور کرائے آسمان کو چھورہے ہیں۔

شہر کا ماسٹر پلان کیا تھا کہاں گم ہوگیا اور نئے ماسٹر پلان کی کیا ترجیحات ہیں؟ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) قانون کے مطابق کیا ذمہ داری انجام دے رہی ہے؟

کراچی بھر میں کرپشن کے ذریعے ہر طرح کی غیر قانونی تعمیرات کو کس طرح تحفظ دیا جا رہا ہے؟ آج کل بھی شہر کے مختلف علاقوں میں کئی منزلہ پورشن زیر تعمیر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایس بی سی اے سمیت دیگر اداروں پر غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں رشوت کے عوض سہولت کاری کا الزام لگ رہا ہے۔

250 سے 2 ہزار گز تک کے کمرشل پلاٹ کی منظوری مبینہ طور پر 2 کروڑ سے 8 کروڑ کی رشوت کے عوض ہوتی ہے، پلاٹ کی تعمیرات کے دوران بھی مبینہ طور پر بلڈر ڈھائی لاکھ سے ساڑھے 3 لاکھ روپے ادا کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شہر میں ایک سے ڈیڑھ برس میں رہائشی مکانوں کے کرایوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، میئر کراچی سمیت 30 سے زائد اداروں میں بٹے ہوئے کراچی کو ترقی کے لیے مرکزی اتھارتی کے قیام کی ضرورت ہے۔

شہر کی مختلف اداروں میں تقسیم نے انفرااسٹرکچر، تعمیرات اور بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی جیسے کھڑے ہیں، سڑک کی تعمیر ایک تو نکاسی آب دوسرے ادارے کی ذمے داری ہےجبکہ تیسرے کا کام کچرا اٹھانا ہے۔

قومی خبریں سے مزید