وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان حملوں میں دو جگہ خواتین کو استعمال کیا گیا، جو لوگ گرفتار کیے گئے ہیں ان کے انکشافات سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت ملوث ہے۔
سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے انسانی حقوق کا لبادہ بھی اوڑھ رکھا ہے، یہ مسنگ پرسن کا معاملہ ٹوٹل فراڈ ہے، صرف ایک بیانیہ بنایا گیا ہے، ان کے زیادہ تر لوگ دبئی اور مسقط میں رہتے ہیں، یہ لوگ ریاستی دفاتر پر حملے کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بارہ مقامات پر دہشت گردوں کے حملے مکمل طور پر ناکام بنائے گئے، دہشت گرد بے شمار لاشیں چھوڑ کر فرار ہوئے، یہ لوگ چھوٹے بچوں اور خواتین کو استعمال کر رہے ہیں، افغانستان میں ان کے پلانر اور ہینڈلر بیٹھے ہوئے ہیں، بھارت اور افغانستان بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے فرنچائز استعمال نہ کریں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد میں سے اکثر بیرون ممالک مقیم ہیں اور ان کے لواحقین لاپتہ افراد کا الاؤنس بھی لیتے ہیں، یہ عناصر ہمیں دوبارہ معاشی اندھیروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں، بی ایل اے ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم ہے جو دیگر ممالک میں بھی موجود ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ہم طویل عرصے سے ان کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور دہشت گردوں کا مکمل طور پر خاتمہ کریں گے، کوئٹہ کے سریاب روڈ پر واقعہ پیش آیا، دالبندین میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملہ ہوا جبکہ نوشکی میں بھی حملہ کیا گیا، مجموعی طور پر 12 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مودی اسرائیل کی خوشنودی اور امریکا کی قربت کے لیے مجرے کراتے ہیں اور خود بھی ڈانس کرتے ہیں، ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان نے بھارت کے 7 جہاز گرائے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کو فنڈنگ کی جاتی ہے، سرکاری ملازمین اور سویلین کو اغوا کیا جاتا ہے، کراچی میں پکڑی گئی خودکش بمبار بچی نے اعتراف کیا کہ اس کی ذہن سازی کی گئی تھی، اب دہشت گرد غریب لوگوں کو بھی ٹارگٹ کر رہے ہیں، جبکہ کل کے تمام ٹارگٹس نیوٹرلائز کر دیے گئے ہیں، جیسے جیسے سہولت کاروں کا پتہ چلتا ہے انہیں ختم کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے طول و عرض میں امن قائم ہوچکا ہے اور افواج اب بھی آپریشن میں مصروف ہیں، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور کل کے واقعے میں جن سہولت کاروں کا سراغ ملا انہیں وہیں پہنچایا جائے گا جہاں دہشت گردوں کو پہنچایا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملک کی حفاظت کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانا پڑا تو اس سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گرد کارروائیوں میں تمام صوبوں کی بچیاں اور بچے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں، لہٰذا تمام سیاسی جماعتیں اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر مٹی سے محبت کو اولین ترجیح بنائیں۔