وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ بھارتی پراکسی سرحد کی دوسری جانب ٹریننگ لیتی ہیں اور کارروائی کرتی ہیں۔
میڈیا سے گفتگو میں طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہونے کے ثبوت دنیا کو دیے، ہمارے شواہد پر دنیا نے یقین کیا، بی ایل اے کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے عام آدمی کے پیچھے چھپ کر انہیں ڈھال بنایا ہوا تھا، یہ کہتے ہیں کہ وہ بلوچوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں، ان دہشت گردوں نے بازاروں میں اسکولوں پر حملہ کیا۔
وفاقی وزیر مملکت نے مزید کہا کہ بھارت نے جنگ ہارنے کے بعد پراکسیز پر سرمایہ کاری بڑھا دی ہے، دہشت گردوں نے سافٹ ٹارگٹ پر حملہ کیا، عورتوں بچوں کو ڈھال بنایا، عام شہریوں کو نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ان کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ سیکیورٹی فورس کے ساتھ لڑ سکیں، انڈین چینلز پر یہ کمنٹری اس طرح چلائی گئیں کہ یہ کوئی میچ ہو رہا ہو، بھارت نے جنگ ہارنے کے بعد پراکسی پر انویسٹمنٹ بڑھا دی ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ یہ پراکسی سرحد کی دوسری جانب ٹریننگ لیتی ہیں، اور کارروائی کرتی ہیں، بہت سے دہشت گرد بھاگ گئے ہیں، ان کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ میں جرگہ اراکین نے وفاقی حکومت کے موقف پر مہر لگائی، پی ٹی آئی نے سیاسی مقاصد اور نااہلی چھپانے کے لیے سیکیورٹی فورسز پر جھوٹ اور تہمت لگائی۔
وفاقی وزیر مملکت نے کہا کہ صوبائی حکومت نے وادی تیراہ میں بڑا اسپتال بنانے کا معاہدہ کیا تھا، اس علاقے میں 12 تھانے بننے تھے لیکن ایک بھی نہیں بنا۔
اُن کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ کے مختلف علاقوں میں اسکول نہیں بنے، 4 ارب روپے پر خورد برد کی گئی، وادی تیراہ کے لوگوں تک نہیں پہنچے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ رقم کوہستان اسکینڈل کی طرح ایک ڈمپر ڈرائیور کے اکاؤنٹ میں گئی، نیشنل ایکشن پلان چلتا رہے گا یہ سب متفقہ فیصلہ ہے۔