سماجی و معاشی ترقی کیلئے اعلیٰ معیار کی تحقیق و ترقی ناگزیر ہے۔ یہ وہ نازک عمل ہے جسکے ذریعے علم جدت طرازمصنوعات کی تیاری اور منسلک عملیات میں منتقل ہوتا ہے۔ اگرچہ بنیادی سائنسی تحقیق جدت طرازی کی بنیاد رکھتی ہے، تاہم نجی شعبہ ہی وہ منفرد صلاحیت، وسائل اور کاروبار پر مبنی ترغیب رکھتا ہے جو ان دریافتوں کو بہتر بنا کر تجارتی پیمانے پر عملی شکل دے سکتا ہے۔اسی لئے حکومت کی جانب سے نجی شعبے میں تحقیق و ترقی کے فروغ کیلئے محتاط طور پر تیار کردہ منصوبوں اور مراعات کا نفاذ، طویل المیعاد مسابقتی برتری ، مضبوطی اور خوشحالی کے حصول کیلئے ایک انتہائی اہم حکمت عملی بن چکا ہے۔تحقیق و ترقی بذاتِ خود ایک مشکل لیکن نہایت اہم عمل ہے، جس میں ناکامی کے بلند امکانات نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو روک دیتے ہیں۔ اگر حکومت مؤثر پالیسی طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے تحقیق و ترقی کی لاگت یا خطرات کم کرے تو وہ جدت طرازی کے ایک مثبت چکر کو متحرک کر سکتی ہے۔ اس سے معیشت میں غیر معمولی بہتری آتی ہے نئی صنعتوں کی تخلیق، تمام شعبوں میں پیداواریت میں اضافہ، بڑے عالمی چیلنجوں جیسے ماحولیاتی تبدیلی، امراض کے حل اور بین الاقوامی سرمایہ و مہارت میں اضافہ ہوتا ہے ۔
درحقیقت نجی تحقیق و ترقی کا فروغ کسی قوم کےمستقبل کی معاشی خودمختاری میں نہایت اہم سرمایہ کاری ہے۔چند مخصوص مثالوں پر غور کیجیے۔ امریکہ نے تاریخی طور پر ایک طاقتور بالواسطہ ذریعہ استعمال کیا: تحقیق و ترقی پر ٹیکس ادھار جسے باضابطہ طور پر تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ پر ٹیکس کٹوتی بھی کہا جاتا ہے، جسے 2015 ءمیں مستقل حیثیت دے دی گئی تھی ۔ اس پالیسی کے تحت کمپنیاں اپنے قابلِ اطلاق تحقیقاتی اخراجات کا ایک فیصد اپنے ٹیکس سے کٹوتی کر سکتی ہیں۔ اس بالواسطہ نوعیت کی ترغیب نےحکومت کو یہ موقع دیا کہ وہ مخصوص کمپنیوں کا انتخاب کئے بغیر وسیع پیمانے پر جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کرے۔ مطالعات سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ نجی تحقیق و ترقی کے فروغ کیلئے سب سے مؤثر پالیسی آلات میں سے ایک ہے۔ بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے ایپل، گوگل اور انٹل نے اس پروگرام کے ذریعے سالانہ 80ارب ڈالر سے زائد تحقیق و ترقی پر خرچ کئے، جس سے انکی عالمی قیادت کو مزید فروغ حاصل ہوا ۔
اسرائیل کا ’’یو زما اقدام‘‘جو 1993ء میں شروع کیا گیا، ایک شاندار منصوبہ تھا۔ یہ منصوبہ صنعت کی عدم موجودگی جیسے ایک خاص مارکیٹ مسئلےکو حل کرنے کیلئے بنایا گیا تھا۔ حکومت نے نجی طور پر منظم نئے کاروباری فنڈز میں مشترکہ سرمایہ کاری کی، اور نجی سرمایہ کاروں کو پانچ سال بعد حکومتی حصص خریدنے کی پرکشش پیشکش کی۔ اس اقدام نے غیر ملکی سرمایہ کاری، مہارت اور مقامی نئی کاروباری صنعت کے قیام کو فروغ دیا۔ محض اس پالیسی نے اسرائیل کوStart-Up Nationیعنی دنیا کے بلند ترین اسٹارٹ اپ اور تحقیقاتی اخراجات والے ممالک میں سے ایک میں تبدیل کر دیا۔ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے وہاں 500سے زائد تحقیق و ترقی مراکزقائم کئے، اور مقامی ادارے جیسے چیک پوائنٹ سافٹ ویئر اورMobileyeعالمی سطح کے قائد بن گئے۔
چین نے اپنی ٹیکنالوجی خودمختاری کے حصول کیلئے وسیع ریاستی متحرک کاری کا ماڈل اپنایا۔میڈ ان چائنا 2025ءجیسی پالیسیوں کے ذریعے اس نے واضح اہداف مقرر کیے۔ اس پالیسی کے نتائج واضح ہیں خاص طور پر برقی گاڑیوں کے شعبے میں جہاں بی وائی ڈی عالمی رہنما بنی، اور ٹیلی مواصلات میں ہواوے نے G 5 ٹیکنالوجی میں غلبہ حاصل کیا۔فن لینڈ نے بڑے پیمانے پر تحقیقاتی پروگراموں کو مالی مدد فراہم کی، اس سے جدت طراز تعاون ماحول کا مضبوط جال تشکیل پایا، جسے عالمی سطح کے اسٹارٹ اپ ایونٹس جیسےSlushنے مزید مستحکم کیا۔ اس کامیاب ماڈل کا ثبوت صرف نوکیا کی میراث میں نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے منظرنامے میں بھی نظر آتا ہےجیسے گیم سازی کی عالمی کمپنی سپر سیل ۔عالمی سطح پر جدت طرازپالیسیوں کے منظرنامے سے ظاہر ہوتا ہے کہ نجی تحقیق و ترقی کے فروغ کا کوئی ایک واحد راستہ نہیں۔ امریکہ کی ٹیکس ترغیبات، اسرائیل کی شراکتی فنڈنگ، جنوبی کوریا کی ریاستی منصوبہ بندی، چین کی وسیع متحرک کاری، اور فن لینڈ کے اشتراکی نیٹ ورکس سب اپنے قومی سیاق و سباق کے عکاس ہیں۔ لیکن ان سب میں ایک مشترکہ نکتہ ہے ’حکومت کا سب سے مؤثر کردار نجی شعبے کو فعال کرنا ہے‘بدقسمتی سے پاکستان کی پالیسیوں کی صورتحال اس حوالے سے مایوس کن ہے۔ ہمارے ہاں نجی تحقیق و ترقی کا حصہ جی ڈی پی کا ایک فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ مذکورہ ممالک میں یہ شرح ساٹھ فیصد تک ہے۔ معیشت کو بحران سے نکالنے کیلئے پاکستان کو فوری طور پر تجارتی ماڈل کی بجائے علم پر مبنی معیشت کی طرف منتقل ہونا ہوگا، جسکی بنیاد نجی تحقیق و ترقی کے فروغ پر ہو۔ یہ تبدیلی پائیدار ترقی کیلئے ناگزیر ہے اور ملک کو وقتی طور پر IMF جیسے اداروںسے نجات دلا کر اعلیٰ قدر کی برآمدات کی طرف لے جائے گی۔
اس مقصد کیلئے بنیادی ستون آسان مالیاتی ترغیبات کا نفاذ ہونا چاہیے، جیسے تحقیقاتی اخراجات پر سپر ٹیکس کٹوتی اور چھوٹی و درمیانی صنعتوں کیلئے شفاف گرانٹس ۔ اس کے ساتھ نجی و سرکاری شراکتوں کو فروغ دینا ہوگا، خصوصاً ان شعبوں میں جہاں پاکستان کو تقابلی برتری حاصل ہے جیسے موسمیاتی لحاظ سے مضبوط زراعت ، ٹیکسٹائل ویلیو چین میں تکنیکی کپڑوں (Technical Fabrics) کی ترقی، اور آئی ٹی شعبے کو فری لانسنگ سے پروڈکٹ پر مبنی سافٹ ویئر کمپنیوں کی طرف بڑھانا۔اسی طرح تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔ جامعات کو صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے، جیسا کہ میرے زیرِ نگرانی ہری پور ہزارہ میں قائم پاکستان آسٹرین فاخ ہوخ شُولے میں کیا گیا۔Centers of Excellenceقائم کیے جائیں تاکہ اعلیٰ صلاحیت کے حامل پاکستانی ماہرین کو واپس لایا جا سکے، جیسا کہ ہم نے جامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم میں صنعتی تعاون کیساتھ کیا۔ آخر میں، حکومت کو وینچر کیپٹل نظام کی تشکیل کیلئے ’’یوزما‘‘ طرز کا فنڈ قائم کرنا چاہئے جو نجی سرمایہ کاروں کیساتھ ملکر اسٹارٹ اپس کیلئے سرمائے کے خطرات کو کم کرے۔ ایسے مربوط ماحول واستحکام، مالیاتی ترغیبات، انسانی وسائل کی ترقی اور سرمایہ جاتی خطرہ کم کرنے کے ذریعے پاکستان اپنے نجی شعبے کی اختراعی صلاحیت کی بنا پر ایک مضبوط اور جدید معیشت تعمیر کر سکتا ہے۔