• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئی کہانی، نیا فسانہ: بے دیارم (دوسری قسط)

(مبین مرزا)

گھر والوں سے بات کا وہی نتیجہ نکلا، جس کا مجھے پہلے سے اندازہ تھا۔ بیوی راضی ہوئی اور نہ بچّے۔ اُن میں سے کوئی مجھ سے الجھا نہیں، سب نے آرام سے بات کی، بلکہ سچ یہ ہےکہ وہ سب تو میری طرف سے پریشان ہوئے کہ شاید میں اُن لوگوں سے خوش نہیں، اس لیے یہ خیال میرے دل میں آیا۔ وہ ہفتے کا دن تھا۔ دونوں لڑکےگھر پہ تھے اور ہفتے والے دن میری بیٹی بھی دوپہر سے شام تک کے لیے ملنے آجاتی ہے۔

شام کی چائے کے بعد جب دونوں بہوئیں اپنےاپنے کاموں اور بچّوں میں مصروف ہوگئیں تو مَیں نے بیوی کو مخاطب کرکے کہا کہ بھئی تمھیں ایک بات بتانی تھی اور وہ یہ کہ مَیں نے ملتان واپس لوٹنےکا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے تو سب نے تعجب سے یوں میری طرف دیکھا، جیسے سوچ رہےہوں کہ مَیں ان سے وہی کہہ رہا ہوں، جو اُن کے کان سُن رہے ہیں۔ 

مَیں نے پھر اپنی بات دُہرائی اور ساتھ یہ اضافہ بھی کیا کہ مَیں آپ لوگوں میں سے کسی سے نہیں کہہ رہا، کوئی میرے ساتھ چلے۔ مَیں بس اکیلا ہی جانا چاہتا ہوں۔ سب خالی نظروں سے میری طرف دیکھ رہے تھے، جیسے کچھ نہ سمجھ پا رہے ہوں۔ چند لمحے بعد سوالات کا سلسلہ شروع ہوا کہ مجھے یہ خیال کیوں آیا؟ کیا مجھے گھر میں کوئی پریشانی ہے؟ کیا مَیں گھر والوں سے خوش نہیں؟ کیا مجھے کسی بات سے رنج پہنچاہے؟ 

کیا مجھے کسی نےملتان بلایا ہے؟ جب مَیں نے اُن میں سے ہر سوال کا جواب اطمینان سے نفی میں دیا تو بیوی، بچّوں کو اور زیادہ تعجب ہوا۔ بیوی نے پوچھا۔ ’’آخر پھر آپ کو گھر والوں کو چھوڑ کر جانے کا خیال آیا ہی کیوں؟‘‘’’نہیں، تم غلط سمجھ رہی ہو۔ مَیں گھر والوں کونہیں چھوڑ رہا، مَیں بس اس شہر سے رخصت ہو رہا ہوں۔‘‘ ’’لیکن بابا! اس کی وجہ؟‘‘ میری بیٹی نے، جو اس گفتگو میں اب تک خاموشی سے شریک تھی، سوال کیا۔ ’’بیٹےجان!وجہ کیا… وجہ بس یہ ہے کہ مَیں اب یہاں رہ نہیں پارہا… اور… اور یہ بھی کہ مَیں ملتان کو مِس کررہا ہوں۔ اور مجھے ایسا لگ رہا ہے، جیسے صرف مَیں نہیں، ملتان بھی مجھے مِس کررہا ہے۔‘‘

میرے اس جواب پر سب نے مجھے حیرت، تذبذب اور پریشانی کے مِلے جُلے جذبات سے دیکھا، لیکن بولا کوئی نہیں۔ تب مَیں نےکہا۔ ’’یہ جو مَیں نے ابھی آپ لوگوں کو بتایا ہے، حقیقت میں بات یہی ہے، لیکن سُننے کے بعد مَیں جو آپ لوگوں کے چہرے پر تاثرات دیکھ رہا ہوں، اُن سے محسوس ہورہا ہے کہ آپ لوگوں کو میری بات سمجھ نہیں آئی یا شاید مَیں ٹھیک طرح سے اپنی بات کہہ نہیں پایا۔‘‘ مَیں نے باری باری سب کے چہروں کی طرف دیکھا، پھر بات آگے بڑھائی۔ 

’’ممکن ہے، آپ میں سے کسی کو میری ذہنی صحت پر شبہ ہو رہا ہو کہ مَیں یہ کیا کہہ رہا ہوں۔‘‘ ’’نہیں بابا! ایسا بالکل نہیں ہے۔‘‘ بڑے بیٹے نے کہا۔ چھوٹے بیٹے اور بیٹی نے بھی فوراً اُس کی تائید کی۔ ’’ہم کیوں سوچیں گے ایسا؟‘‘ بیوی نے کہا۔ ’’لیکن ہم سب پریشان ہیں، الجھن میں ہیں کہ آپ کو بیٹھے بٹھائے آخر یہ سوجھی کیا؟‘‘ ’’بابا، آئی ڈونٹ نو، واٹس ایکچولی یور مائنڈ ازپرسیونگ، بٹ آئی فیل، یو نیڈ اے بریک۔ آپ کو کہیں جانا چاہیے، گھومنے کے لیے، ری لیکس ہونے کےلیے۔ یو ریئلی نیڈ اِٹ۔‘‘ بیٹی نے کہا۔ ’’دیٹس واٹ آئی فیل ٹو۔‘‘ بڑے بیٹے نے اُس کی تائید کی۔ بیوی بولی۔ ’’ارے ہاں، آپ کو ری لیکس ہونے کے لیے پروگرام بنانا چاہیے بلکہ ہم سب ہی کیوں نہ پروگرام بنائیں؟‘‘’’نہیں مما! سب نہیں۔‘‘ 

چھوٹے بیٹے نے ماں سے اختلاف کیا۔ ’’اچھا بھئی، کوئی اور چلے نہ چلے، لیکن مَیں تو ہر صُورت آپ کے ساتھ چل رہی ہوں۔‘‘ بیوی نے کہا۔ ’’نہیں اور کوئی بھی نہیں۔ صرف بابا گھومنے جائیں۔‘‘ بیٹی نے قطعیت سے کہا۔ بڑا بیٹا بولا۔ ’’ہاں۔ اس لیے کہ ہم سب یا کوئی بھی ہم میں سے بابا کے ساتھ ہوگا، تو اُنھیں وہ بریک ملے گا ہی نہیں، جو اِس وقت اُنھیں چاہیے۔‘‘’’یہ کیا بات ہوئی؟‘‘ بیوی الجھ کر بولی۔’’بھائی جان بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔‘‘ بیٹی نے کہا۔ 

اس وقت میں نے شدّت سے بےبسی محسوس کی۔ جن لوگوں کے لیے آدمی دنیا سے، حالات سے، زمانے سے ساری عُمر جھوجتا رہتا ہے، بعض اوقات اُن کو بھی اپنی بات، اپنی کیفیت سمجھانا ممکن نہیں ہوتا۔ ’’دیکھیے بھئی، آپ لوگ پتا نہیں کیا سمجھ رہے ہیں اور بات کہاں سے کہاں لے گئے۔ نہ میرا یہ مقصد ہے کہ مَیں گھر یا آپ لوگوں کو چھوڑ کر کہیں چلا جاؤں اور نہ ہی میرا مسئلہ بریک ہے۔ مَیں بس اب واپس ملتان جانا چاہتا ہوں اور زندگی کے باقی دن اُسی شہرمیں گزارنا چاہتا ہوں۔ بس اتنی سی بات ہے۔‘‘ 

مَیں نے ایک لمحہ تامل کیا، پھر بات آگے بڑھائی۔ ’’مَیں جانتا ہوں، آپ دونوں بھائیوں کی نوکری ہے اور پھر تعلیم اور کام بھی آپ دونوں کا ایسا ہے، جس کے لیے یہاں کراچی ہی میں رہناضروری ہے، ملتان میں آپ لوگوں کو ایسی نوکریاں نہیں ملیں گی۔ ستارہ اپنے گھر کی ہے۔ 

ظاہر ہے، اُس کے ساتھ چلنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ اب رہ گئیں، آپ کی مما، وہ اس شہر کی زندگی کی عادی ہیں اورسب سے بڑھ کر اس گھر کی اور آپ سب لوگوں کی بھی۔ سو، اُن کا بھی یہاں سے اُٹھ کر چلے چلنا ممکن نہیں۔‘‘ مجھےیوں لگا، جیسے بولتے بولتے میری سانس پھول گئی ہے۔ سب خاموشی سے مجھے دیکھ رہے تھے کہ شاید مَیں اب اور کچھ کہوں گا۔

مجھے خاموش پا کربڑا بیٹا بولا۔ ’’نو ایشو بابا۔ آپ کی ساری باتیں ہنڈرڈ پرسینٹ ٹھیک ہیں، لیکن مَیں بس ایک بات آپ سے کہنا چاہتا ہوں۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگیا، جیسے اپنی بات آگے بڑھانے کے لیے موزوں الفاظ ترتیب دے رہا ہو۔ سب لوگ اُسی کی طرف متوجّہ تھے۔ اُس نے حلق سے کچھ اتارتے ہوئے پھر بولنا شروع کیا۔ ’’مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں بابا کہ آپ کہیں گے تو ہم سب ملتان یا آپ دنیا میں جہاں بھی کہیں گے، آپ کے ساتھ جا کر رہنے کے لیے تیار ہیں۔ 

آپ ہم دونوں کے کام کی بلکہ کسی بھی چیز کی کوئی فکر نہ کریں۔ بس آپ ایک بار کہیں اور ہم سب آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں…اور…اور پوری خوشی سے۔‘‘ میری نظریں بیٹے کے تمتماتے ہوئے چہرے پر تھیں۔ اچانک مجھے یوں لگا کہ حرارت کی ایک تیز اور پہاڑ جیسی بلند موج آناً فاناً مجھ پر سے گزر گئی۔ آنکھوں کے آگےاس قدر تیز روشنی محسوس ہوئی کہ سارا منظر اوجھل ہوگیا۔ 

کانوں سے جیسے شائیں شائیں کرتے بگولے گزر رہے تھے۔ بولنا چاہا تو آواز گم تھی۔ یوں لگا، جیسے حلق میں کچھ اٹک گیا ہے۔ معلوم نہیں یہ کیفیت کتنی دیر رہی، چند لمحے یا شاید لامحدود وقت تک۔ تب مَیں نے بیٹی کو بولتے سُنا۔’’اور مَیں اکیلی یہاں؟‘‘ کسی کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ مَیں نےکچھ بولنا چاہا، لیکن سمجھ نہ پایا، کیا کہوں۔ بیٹی پھر بولی۔ ’’اچھا بابا! آپ ایک کام کیجیے پلیز۔‘‘ مَیں نے اُس کی طرف دیکھا۔ وہ بولی۔’’آپ ملتان جانا چاہتے ہیں، جائیں۔ 

ایک ہفتہ، دو ہفتے، ایک مہینہ…جتنے دن آپ رہنا چاہتے ہیں، وہاں رہیے۔ اُس کے بعد اطمینان سے طے کیجیے کہ آپ کوکیاکرنا ہے۔ یعنی کیا آپ مستقل وہیں رہیں گے، رہ سکتے ہیں؟‘‘ ’’یس بابا! دیٹس واٹ آئی وانٹ ٹو سے ٹو۔ ایٹ لِیسٹ یو کین چیک پریکٹی کیلیٹی آف یور آئیڈیا اور ڈیسیشن۔‘‘ چھوٹے بیٹے نے کہا۔ گھر والوں سے جو کچھ طے ہوا، مَیں مطمئن تھا اُس سے۔ میری بات کو اگرچہ اس طرح تو قبول نہیں کیا گیا تھا، جیسے مَیں چاہتا تھا، لیکن بہرحال رد بھی نہیں کیا گیا تھا۔ 

مَیں اس بات سےخوش تھا کہ میرے مسئلے کو کسی حد تو تک سمجھ ہی لیا گیا تھا۔ رات گئے اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھے یہ سوچتے ہوئے مجھے خُود پر ہنسی آئی۔ آدمی کی مٹّی کیسی کم زور ہوتی ہے کہ گھڑی میں تولہ، گھڑی میں ماشہ۔ دُکھ کی رِم جِھم میں بہہ جاتی ہے اور خوشی کی دھوپ میں بھی چٹخ جاتی ہے۔ گھر میں ہونے والی گفتگو کے آغاز میں، یہ سوچ کر مَیں بیوی بچوں سے نالاں تھا کہ وہ میری بات ہی نہیں سمجھ رہے اور اس وقت اکیلے میں یہ سوچ کرخوش کہ اُنھوں نے میرے مسئلے کو کسی حد تک سمجھ ہی نہیں لیا، قبول بھی بہرحال کر لیا تھا۔

خلافِ معمول اُس روزمَیں جلد سونے کے لیے لیٹ گیا۔ ایسا مَیں نے تھکن یا کسی الجھن کی وجہ سے نہیں کیا تھا، بلکہ اس اطمینان کی وجہ سےکہ اب مَیں جلد حسبِ منشا زندگی گزار سکوں گا۔ تھوڑی ہی دیر میں مجھے نیند بھی آگئی اور مَیں نے پُرسکون نیند لی۔ اِس کا احساس مجھے آنکھ کُھلنے پر ہوا۔ مَیں کب اور کیوں جاگا، اِس کا مجھے کوئی اندازہ نہیں تھا، لیکن جو چیز مَیں نےسب سے پہلے اور واضح طور پر محسوس کی، وہ تھی، تازہ دَم ہونے کی کیفیت۔ مَیں یقیناً گہری نیند لےکر اُٹھا تھا۔ 

اس لیےکہ میری طبیعت ہشاش بشاش تھی۔مَیں نےبائیں طرف کی دیواری گھڑی میں وقت دیکھا۔ چار بجنے والے تھے۔ ابھی تو فجرکی اذان میں بھی کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے سے زیادہ وقت باقی تھا۔ یوں ہی سائیڈ ٹیبل پر رکھا موبائل اُٹھا کر دیکھا۔ پہلے سوچا، تھوڑی دیراور سو لیتا ہوں۔ کروٹ لےکر اور آنکھیں موند کر پھر سونےکی کوشش کی۔ تھوڑی ہی دیر میں اندازہ ہوگیا کہ نیند پوری ہوچُکی ہے، مزید سونے کی کوئی خواہش نہیں۔ مَیں نے اُٹھ کر مدھم روشنی والا بلب بند کیا اور پوری روشنی والا کھولا۔

پہلےخیال ہوا کہ کوئی رسالہ یا کتاب اُٹھالوں، پھر ٹی وی چلانے کا سوچا، لیکن میرے قدم خود بخود کھڑکی کی طرف بڑھ گئے۔ پردہ سرکا کرکھڑکی کا ایک پٹ کھولا۔ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا میرے چہرے کو چُھوتا، سر کے بالوں میں سرسراتا کمرے میں داخل ہوا۔ ٹھنڈک کا احساس تو ضرور تھا، لیکن ناگوار نہیں۔ کراچی میں ایسی ٹھنڈ پڑتی ہی کتنے دن ہے، جو آدمی کو ٹھٹھرا دے۔ 

بس اتنے ہی دن، جب کوئٹہ سے آنے والی سائبیریا کی یخ بستہ، خشک ہوا شہر میں دندناتی پھرتی ہے۔ سردی کے پورے سیزن میں کُل ملا کر بھی مشکل سے ایک مہینہ ایسا بنتا ہوگا۔ میرا کمرا مکان کی پہلی منزل اور مغربی رُخ پر ہے۔ اس شہر میں اس رُخ کا مطلب ہوتا ہے، ہوا کارُخ۔ کھڑکی کے سامنے کھڑے ہوئے چند ہی منٹ میں خنکی کااحساس ہونے لگا۔

باہر گہری خاموشی تھی۔ آسمان پر دُورتک یہاں وہاں تارے بکھرےہوئےتھے۔ آخری تاریخوں کاچاند معمول سے زیادہ اونچائی پر ٹکا ہوا تھا۔ سبک رُو ہوا چہرے اور کان کی لویں گدگدائے جارہی تھی۔ دروازے پرآہٹ محسوس ہوئی۔ پلٹ کر دیکھا تو بیوی کمرے میں داخل ہورہی تھی۔ ’’کیا بات ہے، کیوں جاگ رہے ہیں، اِس وقت؟‘‘ بیوی نے قدرے تشویش سے پوچھا۔ ’’آنکھ کُھل گئی تھی، پھرسونے کی کوشش کی، تو نیند نہیں آئی۔‘‘ ’’طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ بیوی کے چہرے پر بےآرامی کی تھکن اور پریشانی تھی۔ ’’ہاں بالکل ٹھیک ہے۔‘‘ ’’تو پھر اِس وقت کیوں آنکھ کُھل گئی؟‘‘ ’’بھئی، خُود ہی کُھل گئی ہے۔

اصل میں رات کو جلدی لیٹ گیا تھا، شاید اس لیے۔ میرا مطلب ہے، نیند پوری ہوگئی تو آنکھ کُھل گئی، لیکن تم اِس وقت کیوں جاگ رہی ہو؟ چہرے پر بھی اضمحلال ہے۔‘‘’’ہاں، نیند ہی نہیں آئی رات بھر۔ آپ کا سوچ کر پریشان ہوتی رہی۔ آپ کے کمرے میں روشنی محسوس ہوئی تو یہاں چلی آئی۔‘‘’’لیکن میری وجہ سے کیا پریشانی تھی؟‘‘ ’’آپ کی رات والی بات کی وجہ سے۔‘‘ ایک لمحہ تامل کے بعد پھر بولی۔’’آپ کیوں جانا چاہتے ہیں، کوئی مسئلہ ہے، تو کم سے کم مجھے تو بتادیں۔‘‘ مجھے ہنسی آگئی۔ ’’ٹالیں نہیں۔

کوئی بات ہے، تو بتائیں ناں پلیز۔‘‘ ’’کچھ بھی نہیں ہے، اور بتانے کی جو بھی بات تھی، مَیں نے تم لوگوں کو رات بتا دی تھی۔‘‘ ’’آپ کیوں ہم لوگوں سے الگ ہو کر کہیں رہنا چاہتے ہیں؟‘‘ اُس کے چہرے پر ملال اوراضطراب تھا۔ ’’مَیں نہ الگ ہورہا ہوں اور نہ ہی گھر والوں کو چھوڑ رہا ہوں۔ رات کو مَیں نے یہ سب کچھ تفصیل سے بتا دیا ہے۔

بس وہی بات ہے اور کچھ بھی نہیں۔ تم خواہ مخواہ اپنے ذہن کوکسی الجھن میں نہ ڈالو۔ تم تو ویسے بھی نیند کی دوا لیتی ہو، کیا رات دوا نہیں لی تھی؟‘‘ ’’لی تھی۔‘‘’’ارے تو پھر کیوں نہیں سوئیں؟‘‘’’بتایا تو ہےکہ نیند نہیں…‘‘’’اس طرح تو طبیعت خراب ہو جائے گی اور تمھارے ساتھ تو یہ مسئلہ پھر بڑھ جاتا ہے۔ تم جاؤ اور آرام کرو۔ ناشتےکے بعد بیٹھ کر بات کریں گے۔‘‘

تھوڑی رد وقدح کے بعد مَیں نے بیوی کو یہ کہہ کر آرام پر آمادہ کرلیا کہ مَیں بھی دوبارہ لیٹ رہا ہوں، لیکن اُس کےجانے کے بعد مجھے اِس خیال سے شدید کوفت کا احساس ہوا کہ مَیں نے گھروالوں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ تم خُودغرضی پر آئے ہوئے ہو۔ کسی نے بلند آواز سے کہا، لیکن کس نے، یہاں تو مَیں تنہا ہوں، کوئی آس پاس نہیں ہے۔ بیوی، بچّوں میں سے تو کوئی ایسی بات مجھ سے کہے گا بھی نہیں، اس لیےکہ ایسی کوئی بات اُن میں سےکسی کے ذہن تک میں نہیں آئےگی۔ 

میرے یہ سب رشتے، اعتبار کے رشتے ہیں۔ تو پھر تم اُنھیں چھوڑ کر کیوں جانا چاہتے ہو؟ مَیں کسی کو نہیں چھوڑ کرجا رہا… بس اب یہاں، اس شہرمیں نہیں رہنا چاہتا۔ لیکن کیوں…؟اس کی کوئی ایک نہیں، بہت سی وجوہ ہیں، کیا کیا بتاؤں۔ کوئی وجہ نہیں ہے۔اگرہوتی توفوراً بتا سکتے تھےتم۔ 

نہیں… کئی ایک وجوہ ہیں۔ تو پھر بتائو… آخر کچھ تو بتائو۔ یہ شہرمجھ سے بےگانہ ہوگیا ہے۔ یہ کون سی نئی بات ہے۔ شہر بلکہ ریاستیں اورسلطنتیں تو ہمیشہ سے یہ کرتی آئی ہیں۔ تیمور، ٹیپو سلطان، شاہ جہاں، بہادرشاہ ظفر…ان سب لوگوں سے تو تم واقف ہو، بتاؤ، اُن کے ساتھ شہروں اور سلطنتوں نے کیا کیا، معلوم ہے ناں تمھیں۔ معلوم ہے، سب معلوم ہے، لیکن وہ سب جنگجو تھے، بادشاہ تھے، مَیں ایک عام آدمی ہوں۔ 

اُن کے اور میرے ماجرے میں فرق ہے۔ آدمی کا ماجرا تواُس کی تقدیر کا کھیل ہے، شہر کو الزام دینا ٹھیک نہیں۔ یہ الزام نہیں، احوال ہے اور میرا رنج یہ ہے کہ مَیں نے اس شہر کو اپنی جوانی دی ہے، اپنی عُمر، صحت اور توانائی کے بہترین سال۔ تو اس شہر نے تمھیں کیا نہیں دیا… پہچان، عزت، مال، پناہ اور کیا چاہتے ہو؟ مانتا ہوں یہ سب کچھ دیا ہے… لیکن اب یہ سب واپس بھی تو لےرہا ہے۔ کم سے کم پہچان اور پناہ تو کھو رہا ہوں مَیں۔ 

جو تم کھو رہے ہو، وہ صرف تم اکیلے نہیں کھورہے، وہ سب تو یہ شہر خُود بھی کھو رہا ہے، مسلسل کھوئے چلا جا رہا ہےاوران لوگوں کے ہاتھوں جنھیں اُس نے تمھاری طرح پہچان، پناہ اور مال دیا بلکہ اقتدار بھی۔ اُنھیں زمین سے اُٹھا کر آسمان پر بٹھا دیا اور پھر انھی لوگوں نےاس کی زمین کوکھود ڈالا۔ اس کے آسمان میں چھید کیے۔ 

شہر بےسبب نہیں بدلتے، نوچ کھسوٹ کی جاتی ہے، تہ وبالا کیا جاتا ہے انھیں، تب ان کے اندر تبدیلی آتی ہے۔ اس شہر کے چالیس برس… ان برسوں کے شب و روز تو تمھاری آنکھوں کے آگے ہیں۔ کیا نہیں کیا گیا اس شہر کے ساتھ؟ لیکن مَیں نے تو کچھ نہیں کیا، پھر مجھ سے کیوں… گیہوں کے ساتھ گُھن بھی پستا ہے۔ پِس چکا جتنا پِس سکتا تھا… اب اورنہیں۔ اسی لیے یہاں سےجانا چاہتا ہوں۔ جہاں تم جانا چاہتےہو، وہاں تمھیں سب کچھ اپنی پسند کا مل جائےگا؟ مَیں نہیں جانتا۔ ویسے اب مجھے کچھ نہیں چاہیے۔

مَیں زندگی کے باقی دن خاموشی سے فقط محرومی اور بےمہری کے احساس کے بغیر گزارنا چاہتا ہوں۔ یہ درست فیصلہ نہیں ہے۔ مَیں اپنے تجربے کے بغیر اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ دیکھو، بات کو سمجھو۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اپنی جوانی کے دن کسی بھی خطّے میں اور کسی بھی طرح کے لوگوں کےدرمیان گزار سکتا ہے، لیکن بڑھاپا اپنے بچّوں اور مانوس شہر کے سوا کہیں نہیں گزارا جاسکتا۔ (جاری ہے)

سنڈے میگزین سے مزید