• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ

ماڈل: وریشا

ملبوسات: Balreej Fashion by Billal 

آرائش: ماہ روز بیوٹی پارلر

کوارڈی نیشن: محمّد کامران

عکّاسی: ایم۔ کاشف

لےآؤٹ: نوید رشید

زبیر علی تابش کی موسموں، نظاروں کا انگ لیے کیسی سادہ، اُجلی سی نظم ہے۔ ؎ تمہیں اِک بات کہنی تھی… اجازت ہو تو کہہ دوں مَیں… یہ بھیگا بھیگا سا موسم… یہ تتلی، پھول اور شبنم… چمکتے چاند کی باتیں… یہ بوندیں اور برساتیں… یہ کالی رات کا آنچل… ہوا میں ناچتے بادل… دھڑکتے موسموں کا دل… مہکتی خوشبوؤں کا دل… یہ سب جتنے نظارے ہیں… کہو کس کے اشارے ہیں… سبھی باتیں سُنی تم نے… پھر آنکھیں پھیر لیں تم نے… مَیں تب جا کر کہیں سمجھا…کہ تم نے کچھ نہیں سمجھا… مَیں قصّہ مختصر کر کے… ذرا نیچی نظر کر کے… یہ کہتا ہوں ابھی تم سے…‎محبّت ہوگئی تم سے۔‘‘ انسانی مزاج کا موسموں سے رشتہ ایک قدیم ہم آہنگی ہے۔ 

مُوڈ اچھا، مزاج شاد ہو تو جُون کی تیز دھوپ بھی لمسِ محبّت بن جاتی ہے، اور مَن آنگن میں اداسی سایہ کرلے تو مارچ کی بہار بھری گنگناہٹیں بھی صحرا کا دل دوز نغمہ بن کر سُنائی دیتی ہیں۔ بقول خالدہ عظمیٰ‎ ؎ ‎ چلے آتے ہیں بے موسم کی بارش کی طرح آنسو… بسا اوقات رونے کا سبب کچھ بھی نہیں ہوتا۔ انسان نے ویسے بھی خُود کو بری الذمہ قرار دینے کے لیے موسموں کے ساتھ ایک دل چسپ معکوسیت قائم کر رکھی ہے۔ 

کبھی بےسبب چہکنے اور موج میں آنے کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ باہر کا موسم خوش گوار ہے، جس نےقلب و جاں کو مستانہ کر دیا، تو کبھی سبز رُتوں میں بھی خزاں رسیدہ آہیں بھرنے کا الزام موسم کے سر ڈال دیا جاتا ہے کہ جس کے تغیّر نے اُمنگوں بھرا دل یاسیت کی نذر کردیا۔ جیسے احمد فراز کے وہ زبان زدِعام اشعار ہیں ؎ اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں… یاد کیا تجھ کو دلائیں تِرا پیماں جاناں… یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے…کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں۔


دراصل، حضرتِ انسان نےخُود کو ہر حال میں ’’کلین چِٹ‘‘ دینے کی جو ایک عادت پائی ہے، اُس کے سبب رعایت ہی رعایت ہے، خواہ اُس کے لیے موسم ہی کو کیوں نہ موردِ الزام ٹھہرا دیا جائے۔ جب کہ درحقیقت ؎ شعلوں کی طرح ہیں، کبھی شبنم کی طرح… ہیں زخموں کی صُورت، کبھی مرہم کی طرح… کوئی بھی نہیں، جس پہ بھروسا کیجے… یاں لوگ بدل جاتے ہیں، موسم کی طرح۔

‎سچ تو یہ ہے کہ موسم محض ہمارا دل لبھانے کے لیےنہیں، بلکہ قدرت کے مقرر کردہ سائنسی اصولوں کے تحت وجود میں آتے ہیں اور انہی وجوہ کی بنا پر تغیّر و تبدّل اختیار کرتے ہیں۔ مگر انسان کا موسموں کے ساتھ یہ رومانس شاید اِسی فطرت کا عکس ہے، جو ہر فانی شے سے دل لگا لینے کی عادی ہے۔ 

موسم کی بدلتی ادائوں نے یوں ہی تو نہیں، ایک خلقت کے دل اپنے سحرمیں لے رکھے۔ تو چلیں، اب کے موسموں، رُتوں سے بیر باندھنے کی بجائے، جنوری سے فروری میں پھسلتے پُربہار اور معتدل درجۂ حرارت والے موسم سے دوستی کر کے مختلف تقریبات کے لیےکچھ حسین و رنگین سے ملبوسات کا اہتمام و انتخاب کرتے ہیں۔

ذرا دیکھیے، جارجٹ فیبرک میں، ٹی پنک رنگ کا پہناوا، جس کی قمیص پر چاندی رنگ کی کڑھت ہے۔ گلےکے ڈیزائن اور قمیص کے اطراف بیل بوٹے ہیں، جب کہ درمیانی حصّے میں چھوٹے پھولوں کا چھڑکاؤ سا ہے۔ نسبتاً کم لمبائی کی قمیص کے ساتھ کُھلا پلازو بےحد مناسب لگ رہا ہے، جس کے پائنچوں پر قمیص ایمبرائڈری ہی سے ہم آہنگ سلور بیل بوٹے ہیں، تو نازک سی جیولری کے انتخاب نے لباس کا حُسن کچھ اور بھی بڑھا دیا ہے۔ پیورشیفون کے سُرخ رنگ میکسی اسٹائل لباس کے گلے پر باقی تمام پہناووں کی نسبت بھاری ہینڈ ورک ہے، جس میں موتی، ستارے، دردوزی کا کام نمایاں ہے۔ 

درمیانی حصّے پر عمودی گوٹا پٹّی قدآور دکھانے میں معاون ثابت ہو رہی ہے، تو دوپٹے اور بازوؤں کی ڈیزائننگ میں کمال ہم آہنگی ہے۔ نیز، آستین کا چوڑا بارڈر اوور آل لباس کو شاہانہ لُک دیتا نظر آرہا ہے۔ کتان فیبرک میں، گُھٹنوں تک آتی نیلے رنگ کی قمیص کے اگلے پورے حصّے پر تلّے، ستاروں سے بھاری کڑھت اور دامن پر شیشہ ورک ہے، جب کہ بارڈر کا کٹ ورک ڈیزائن اور پیچ و خم میں جھولتے موتی لباس کوجدّت وندرت کا ایک حسین امتزاج بنارہے ہیں۔ 

شیفون فیبرک کے گہرے سیاہ رنگ پہناوے پر سیاہ ہی رنگ کی سیلف ایمبرائیڈری ہے، پیپلم کے باٹم پر خاصا چوڑا کٹ ورک ہے، تو بڑے گھیر کا پلازو اور سیاہ رنگ ہی کا شیفون دوپٹا، لباس کوانتہائی ساحرانہ سا بنائے دے رہا ہے۔ بلاشبہ، رات کی کسی بھی تقریب کے لیے یہ ایک آئیڈیل انتخاب ثابت ہوسکتا ہے۔ اور… جارجٹ کے روایتی گہرے سُرخ رنگ میں کم لمبائی کی قمیص پر سلور رنگ کڑھت نے لباس کا حُسن بہت بڑھا دیا ہےکہ سُرخ وسفید کا امتزاج ہمیشہ ہی نگاہوں کو بھلا معلوم ہوتا ہے، جب کہ ساتھ پلازو اور دوپٹے پر بھی ہم رنگ کڑھت ہی کی جادوگری نمایاں ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید