افشاں نوید
قرآنِ مجید، بنی نوع انسان، انسانیت کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات اور ہدایت کا سرچشمہ ہے، یہ اللہ کا مقدّس الہامی کلام ہے، جو انسانوں کے تحریر کردہ کسی بھی کلام سے افضل و برترہے۔ یہ زندگی کے ہرہر شعبے میں ایسی رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ جس سے دنیا و آخرت کی فلاح ممکن ہے۔ اللہ نے اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اور یہ ہر طرح کی تحریف سے پاک ہے۔ یہ صرف مسلمانوں ہی کے لیے نہیں،پوری انسانیت کے لیے ایک رہنما کتاب ہے۔
یہ اخلاقیات، عقائد، احکام اور قصص کا ایسا جامع مجموعہ ہے،جس کی کہیں نظیر نہیں ملتی اور قرآنِ مجید کی عظمت و مرتبے کے ادراک کے لیے ’’اعجاز القرآن‘‘ کا سمجھنا ازحد ضروری ہے۔ اعجاز کے معنی معجزے کے ہیں، دوسرے کو معجزہ دکھا کر عاجز کردینا۔ معجزہ، اسلامی ادب میں ایک مذہبی اصطلاح ہے،جو انبیائے کرام ؑ اور اللہ کے رسولوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جب کہ قرآنِ مجید میں نشانی، دلیل اور علامت کے لیے ’’آیت‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔
حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے لیے آیت کا لفظ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کے لیے بھی یہی لفظ استعمال ہوا ہے۔ ترجمہ:’’ہم نے موسیٰ کو نو کُھلی کُھلی نشانیاں عطا فرمائیں۔‘‘ (سورۂ بنی اسرائیل، آیت 101)۔ قرآنِ مجید کی دوسری اصطلاح ’’برہان‘‘ ہے، جس کے معنی ہیں،ایسی دلیل ، جو ناقابلِ تردید ہو۔ چناں چہ ’’دلائل النبوۃ‘‘ کے نام سے کُتب موجود ہیں اور سیرتِ رسولِ کریمﷺ کی کُتب میں بھی اس عنوان سے ابواب ہیں۔
اس اصطلاح کوجامع بنانے کے لیےعلماء کرام نے معجزے کی اصطلاح استعمال کی، جو اپنی جامعیت کے سبب مشہور ہوگئی۔ اسی سے ’’اعجاز‘‘ کی اصطلاح نکلی۔ اعجاز کے اصطلاحی معنی ہیں ’’ وہ خارق عادتِ امر، جو انسان کے بس میں نہ ہو، اس کی سکت سے باہر ہو۔‘‘ یعنی، پیغمبر کے مخاطبین یہ کام نہ کر سکیں اور پیغمبر اپنی نبوت کی صداقت کے لیے کر کے دکھا دے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنّت رہی ہے کہ اُس نےاپنے انبیاءؑ کی تائید و حمایت کے لیے ہمیشہ نشانیاں (آیات) اور معجزے ظاہر فرمائے۔
اگرچہ یہ بات بھی انبیائے کرامؑ کی تاریخ سے سامنے آتی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے انتہائی قریبی عزیزوں کو کبھی معجزے کی ضرورت نہیں پڑی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، قبیلہ قریش سے تعلق رکھتی تھیں اور کاروبار میں شرکت کی وجہ سےحضور اکرمﷺ کے شخصی کردارسے خوب واقف تھیں۔ انبیائے کرامؑ کی شخصیات کی یہ عظمت تھی کہ ان کی ذات سے جو جتنا قریب ہوتا، اُن کی خوبیوں اور کمالات سے واقف ہوتا اور ان کا معترف ہوجاتا۔
جب سیّدہ خدیجہؓ کو آپ ﷺ کی نبوت کی خبر ملی، تو اُنہوں نے کوئی معجزہ طلب نہیں کیا، بلکہ فرمایا۔ ’’اللہ تعالیٰ آپؐ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا، اس لیے کہ آپ صلۂ رحمی کرتے ہیں، کم زوروں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں، محروم کو کما کر دیتے ہیں، مہمان نواز ہیں اور حق کے کاموں میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔‘‘(صحیح بخاری، باب بدء الوحی)۔ گویا آپﷺ کے عظمتِ اخلاق کی گواہی حضرت خدیجہؓ کے دل میں پہلے سے موجود تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ سلیم الطبع اور راست فکر انسان معجزہ طلب نہیں کیا کرتے۔ فرعون معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لایا۔
ابولہب اور ابوجہل ساری عُمر معجزہ ہی طلب کرتے رہے۔ چاند کو ٹکڑے ہوتے دیکھا، پھر بھی ایمان نہیں لائے۔ ہر معاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہوتی ہے، جن کے دل حق کی طرف مائل تو ہوتے ہیں، لیکن دل پر ایک پردہ سا پڑا ہوتا ہے۔ معجزہ دیکھنے کے بعد اُن کا گمان یقین میں بدل جاتا ہے اور پردہ ہٹ جاتا ہے۔(واضح رہےکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نےاللہ سےجو معجزہ طلب کیا تھا، وہ ایمان کے بعد اطمینانِ قلب اور قدرتِ الٰہی کا مشاہدہ چاہتے تھے)۔
نبوّت کا سماجی شعور: اللہ ربِّ کریم نے اپنے پیغمبروں کوجس علاقے اور جس قوم میں بھیجا، اُنھیں اُس علاقے، حالات، ماحول اور وہاں کے لوگوں کی ذہنی، عقلی، علمی، ثقافتی اور تمدّنی سطح کے مطابق معجزہ عطا کیا۔ مثلاً حضرت صالح علیہ السلام کا تعلق جزیرۂ عرب سے تھا۔ وہاں اونٹ چَرانے والے بدّو کثرت سے تھے، اِس لیے انھیں اونٹنی کا معجزہ عطا کیا گیا۔
ترجمہ:’’یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی ہے، اسے اللہ کی زمین میں چَرنے دو اور اسے کوئی نقصان نہ پہنچانا، ورنہ تمہیں دردناک عذاب آلے گا۔‘‘(سورۃ الاعراف،آیت 73) ۔ واضح رہے، یہ معجزہ صرف ایک جانور کی شکل میں نہیں تھا، بلکہ اطاعت اور اخلاقی امتحان، ایک طاقت وَر قوم کے غرور کو للکارنے والی نشانی تھا۔اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں چوں کہ جادوگری عام تھی، اس لیے اُن کو اس قوم کی ذہنی سطح کے مطابق معجزات عطا کیے جانے کا ذکرملتا ہے۔
مثلاً عصا کا سانپ بن جانا، یدِ بیضاء (چمکتا ہوا ہاتھ)، سمندر کا پھٹ جانا۔ حضرت موسیٰؑ کے معجزات، جابر نظام (فرعونیت) کے مقابل، مظلوم قوم کی آزادی کی بنیاد ثابت ہوئے۔ حضرت عیسیٰؑ کے دور میں طبِ یونانی عروج پر تھا، لہٰذا زیادہ ترمعجزات انسانی جسم یعنی بیماریوں سے متعلق تھے، یعنی مٹّی سے پرندہ بنانا، پیدائشی نابینا کو بینائی اور کوڑھ کے مریض کو شفا عطا کرنا اور مُردوں کو زندہ کرنا۔
اہم قرآنی توازن: ہر معجزے کے ساتھ یہ جملہ دہرایا گیا۔ ’’باذن اللہ‘‘ (اللہ کے حُکم سے) تاکہ واضح رہے کہ معجزہ نبی کا ذاتی کمال نہیں، بلکہ اللہ کی قدرت کا ظہور ہے۔ حضرت صالح ؑ کا معجزہ اخلاق کا امتحان تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے معجزات طاقت کے مقابل حق تھے اور حضرت عیسیٰؑ کے معجزات انسان کے زخموں کا مرہم۔ اللہ تعالیٰ نے جس علاقے میں جو معجزہ کسی نبی اور رسول کے ذریعے ظاہر فرمایا ،وہ اس علاقے کے اعلیٰ ترین انسانی کمال سے ماورا اور اس کی عظمت کی انتہا سے بہت بلند تھا۔ جب تک نبی موجود رہے، وہ معجزہ موجودرہا۔ تمام معجزات حواسِ خمسہ سے محسوس ہوتے تھے۔
نبوتِ محمدی ﷺکا عقلِ عصر سے مکالمہ: قرآنِ مجید آپﷺ کے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے۔ اس کے علاوہ جتنے معجزات تھے، انھیں آپؐ نے اپنی نبوّت کی دلیل کے طور پر کبھی پیش نہیں کیا۔ قرآنِ مجید کے علاوہ خود آپﷺ کی ذاتِ گرامی بھی معجزہ ہے،جسے دیکھ کر ہر قلبِ سلیم نے بلا تامّل قبول کیا کہ یہ پیغام اور دعوتِ برحق ہے۔ آپؐ کے زمانے کی خصوصیت، جو اسے سابقہ زمانے سے ممیّز کرتی ہے، وہ علم، تحقیق اور معرفت ہے۔
لسانی اعجاز: آپؐ کا دَورعلم، حکمت و دانائی کا دَور تھا، اس لیے آپ ؐ کو جو معجزہ دیا گیا، وہ علمی معجزہ ہے۔ چوں کہ آپ ؐ کے اوّلین مخاطب کفارِ عرب اور مشرکینِ مکّہ تھے۔ انھیں جو چیز متاثر کرسکتی تھی، وہ فصاحت، بلاغت، کلام کے اسلوب کی بلندی تھی، جن سے اہلِ عرب متاثر ہو سکتے تھے۔ وہ قانون، فلسفے اور ریاضی سے تو واقف نہیں تھے۔
زبان دانی، فصاحت وبلاغت ان کامیدان تھا، اِسی لیے وہ خود کو فصیح الّلسان اور اپنے علاوہ ہر ایک کو عجمی یعنی ’’گونگا‘‘ سمجھتے تھے۔ عربوں میں زبان دانی کا معیار، شاعری، خطابت اور کہانت تھی۔ (کہانت:وہ چھوٹے چھوٹے بےمعنی جملے، جوکاہن لوگ غیب کے اظہار کے لیے بولا کرتے اور دعویٰ کرتے کہ اُنہیں غیب کا علم ہے۔
یہ جملے بھی بعد کی نسلوں میں شاعری اورادب کی طرح منتقل ہوتے رہے)، ان میں سب سے نمایاں درجہ شاعری کا تھا۔ اُن کے سات شعراء کی عظمت کے عرب کے تمام شعراء معترف تھے اور اُن کے سات بڑے قصائد کو’’مذہبات‘‘ یعنی سونے سے لکھنے کے قابل کہا کرتے، لیکن نزولِ قرآنِ کے بعد اس کی فصاحت و بلاغت کے سامنے ان سب بڑے بڑے زبان دانوں نے سر تسلیمِ خم کر دیا۔ سیرت اور تاریخِ اسلام میں یہ واقعہ معروف ہےکہ حضرت عُمرؓ اُس وقت جب اسلام کے سخت مخالف تھے۔ ایک رات غصّے اور اضطراب کےعالم میں گھر سے نکلے۔
راستے میں، دل میں خیال آیا کہ آج محمد ﷺ کو(معاذاللہ) کوئی سخت بات کہہ دوں۔ جب آپ ﷺ خانہ کعبہ کے پاس نماز ادا کررہے تھے، تو حضرت عُمرؓ خاموشی سے ایک طرف رُک گئے۔ رات کا سنّاٹا تھا۔ اُسی وقت رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے قرآن کی تلاوت بلند ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ سورۂ الحاقّہ کی آیات تلاوت فرمارہےتھے۔’’یہ ایک معزز رسول کا قول ہے، یہ کسی شاعر کا کلام نہیں، نہ یہ کسی کاہن کی بات ہے، یہ ربّ العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔‘‘
حضرت عُمرؓ خُود روایت کرتےہیں۔’’میرے دل میں خیال آیا، یہ تو شاعر ہے۔‘‘ (مفہوم) اُسی وقت اگلی آیت آئی۔ ’’اور یہ شاعر کا قول نہیں۔‘‘ ’’پھر مَیں نے سوچا۔ شاید کاہن ہے۔‘‘ تو فوراً آیت آئی۔ ’’اور نہ یہ کاہن کا قول ہے۔‘‘’’تب میرا دل لرز گیا۔‘‘ یہ وہ لمحہ تھا، جب قرآن نے براہِ راست حضرت عمرؓ کے دل سے مکالمہ کیا۔
اُن کے دل میں آنے والے خیالات کا جواب آیات کی صُورت میں آ رہا تھا۔یہ واقعہ اُسی وقت اسلام قبول کرنے پر منتج نہیں ہوا، لیکن غرور کی دیوار میں پہلی دراڑ پڑ گئی۔ قرآن کی حقّانیت دل میں اترنے لگی اور کچھ ہی عرصے بعد سورۂ طہٰ سُن کر وہ فیصلہ کن لمحہ آیا، جب حضرت عُمرؓ کو قبولِ اسلام کی سعادت نصیب ہوئی۔
قرآنِ مجید نے اپنے علمی اعجاز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مخالفین کو اس بات کی دعوت دی۔ ترجمہ: ’’اگر تمہیں اس قرآن میں شک ہے، جو ہم نے اپنے خاص بندے پر نازل کیا ہے، تو اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ اور اللہ کے سوا اپنے سب مددگاروں کو بلا لو اگر تم سچے ہو۔‘‘ (سورۃ البقرہ، 23)۔
یہ چیلنج اب بھی موجود ہے، جس کا آج تک کوئی جواب نہ دے سکا۔ قرآنِ مجید کا دنیا کی 205سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چُکا ہے۔ سیکڑوں تراجم پر مشتمل کروڑوں نسخے دنیا کے چپّے چپّے میں موجود ہیں، مگر آج تک کوئی بڑا شاعر، ادیب، فلسفی اس چیلنج کو قبول نہ کر سکا۔ قرآن مجید کو کوئی آسمانی کتاب مانے یا نہ مانے، لیکن یہ انسانی ادبیات و لسانیات کا ایک عظیم کرشمہ ہے۔
اسلوبِ قرآنِ کریم: قرآنِ مجید کے اسلوب اور احادیثِ مبارکہ کے اسلوب میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے۔ کوئی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ لوگوں میں تئیس برس تک الگ الگ اسلوب میں کلام کرتا رہے۔ دیکھنے والے مبصّر اور سننے والے سامع کو سُنتے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کون سا کلامِ الٰہی ہے اور کون سی حدیثِ مبارکہ۔ اگرچہ آپﷺ کے کلمات بھی فصاحت وبلاغت میں بہت اونچا مقام رکھتے ہیں، لیکن آپؐ نے اپنے الفاظ کومعجزے کے طور پر پیش نہیں کیا۔
قرآنِ مجید ہی کو ہمیشہ معجزے کے طور پر پیش کیا کہ اعجازِ قرآن کا سب سے اہم پہلو ہی اس کی فصاحت و بلاغت تھی۔ فصاحت کے معنی ہیں، کسی خاص موقعے پر کسی بہترین اور موزوں ترین لفظ کا استعمال۔ بلاغت سے مراد، الفاظ کی عمومی بندش اور باہمی ترکیب سے جو مفہوم نکلتا ہے، وہ اس طرح نکلےکہ بالکل حقیقتِ حال کے مطابق ہو۔ اِسی لیے قرآنِ مجید فصیح بھی ہے اور بلیغ بھی۔
قرآنِ کریم کی فصاحت و بلاغت کا ایک وصف یہ ہے کہ یہ کلام ان شخصیت کی زبانِ مبارک سے جاری ہوا، جنھوںنے کبھی کسی مکتب میں بیٹھ کر تعلیم حاصل نہیں کی۔ اگر آپﷺ ایک دن کے لیے بھی کسی مدرسےمیں حصولِ علم کے لیے چلے جاتے، تو آج مستشرقین آسمان سر پر اٹھا لیتے۔ ترجمہ:’’تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک میں پڑ سکتے تھے۔‘‘(سورئہ عنکبوت، 48)۔
اعجازِ قرآن کا حیرت انگیز پہلو: اس کلامِ مبین میں ماضی کی اقوام کے ایسے ایسے تفصیلی واقعات شامل ہیں، جو کبھی عربوں کےعلم میں نہیں تھے۔ ان میں سوالوں کے جوابات بھی شامل ہیں، جو یہودیوں کے اکسانے پر کُفارِ مکّہ نے کیے۔ جن میں اصحابِ کہف کا واقعہ، حضرت موسیٰؑ و حضرت خضرعلیہ السلام کا واقعہ، ذوالقرنین کا واقعہ۔ جس کے جواب میں پوچھنے والوں کے پاس خاموشی کے سوا کچھ نہ تھا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی۔ ترجمہ:’’رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں اوراپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے۔‘‘ (سورئہ روم، 2)۔
اس وقت رومی مکمل شکست کھا چُکے تھے، جس وقت یہ فتح کی خوش خبری سُنائی جا رہی تھی۔ اور تاریخ نے دیکھا کہ قرآنِ مجید کی پیش گوئی کے چند سال میں رومی غالب آگئے۔ ایک اوربات، جو قرآنِ مجید کی فصاحت و بلاغت میں بڑی معنویت رکھتی ہے، وہ یہ کہ دنیا کے بڑے سے بڑے ادیب اور بڑے سے بڑے صاحبِ کمال کا سارا کلام یک ساں معیار کا نہیں ہوتا۔
کہیں اعلیٰ ترین، تو کہیں قدرےکم۔ لیکن قرآنِ مجید واحد کتاب ہے، جو اوّل تاآخر ایک جیسے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اعجازِ قرآن کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ یہ ایسی کتاب ہے، جس کے ایک ایک جملے، ایک ایک لفظ نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔ قرآن خُود اپنے بارے میں یہ اعلان کرتا ہے۔ ترجمہ:’’بےشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خُود اپنی حالت نہ بدل لے۔‘‘(سورۃ الرّعد، آیت 11)۔
یہ ایک آیت ہے، مگر اس نے انسانی تاریخ کا فلسفۂ تبدیلی بیان کردیا۔ انقلاب باہر سے نہیں، لفظ کے ذریعے اندر سے شروع ہوتا ہے۔ ترجمہ:’’اللہ اور رسولؐ کی پکار پر لبیک کہو، جب وہ تمہیں اس چیزکی طرف بلائیں، جو تمہیں زندگی عطا کرتی ہے۔‘‘(سورۃ الانفال، آیت 24)۔ یہ صرف ایمان نہیں، زندگی کا نیا شعور ہے۔ قرآن مُردہ دلوں میں جان ڈال دیتا ہے۔
ترجمہ:’’ہم قرآن میں سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جوایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔‘‘ (سورۃالاسراء، آیت82 )۔ چاہےدِلوں کی بیماری ہو، معاشرتی زخم ہوں یا فکری انتشار، قرآن کا ایک لفظ مرہم بن جاتا ہے۔ ترجمہ:’’بڑی بابرکت ہے، وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا، تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے خبردار کرنے والا ہو۔‘‘(سورۃ الفرقان، آیت 1)۔
قرآن کی قوتِ تاثیر: اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ تر جمہ:’’اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ جاتا۔‘‘(سورۃ الحشر،آیت 21)۔ جب ایک پہاڑ قرآن کے ایک خطاب سے ریزہ ریزہ ہوسکتا ہے، تو انسانی دل کیوں نہیں بدل سکتا؟ ارشادِ ربّانی ہے۔ترجمہ:’’یہ ایک کتاب ہے، جو ہم نے آپ پر نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئیں۔‘‘(سورئہ ابراہیم،آیت 1)۔
قرآن نے تلوار سے پہلے لفظ اتارا، اور اُسی لفظ نے دنیا کی سمت انسانوں کےعقائد وطریقے، نظریات، تہذیب و تمدّن سب ہی کچھ بدل دیا۔ نیز، اس کتاب کا پیغام اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ اس کے محدود نصوص سے لامتناہی احکام، اصول اور قواعد ہر زمانے میں نکلتے ہی چلے آ رہے ہیں۔ دنیا کی ہر کتاب کی ایک مدت، تحریر کی ایک عُمر ہوتی ہے۔
تھوڑے عرصے بعد وہ کتاب، تحریریں آثارِ قدیمہ میں چلی جاتی ہیں۔ قرآنِ مجید دنیا کی وہ واحد کتاب ہے، جو ہر وقت ہر نماز میں زندہ ہے۔ آج بھی ہزاروں مفسرینِ قرآن موجود ہیں۔ ہر صدی میں ان میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ اس کے اعجاز کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہاں انسانی ضروریات کی تکمیل کا لامتناہی سامان موجود ہے۔ جو فلسفے سے دل چسپی رکھتے ہیں، ان کی بھی پیاس بجھتی ہے۔ جو معاشیات سے شغف رکھتے ہیں، اُنھیں بھی رہنمائی ملتی ہے، جو سیاسیات سے متعلق ہیں، انھیں فلاحی ریاست کے اصول ملتے ہیں۔
الغرض، قرآن کو پڑھنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا، اسے دوسروں تک پہنچانا، یہ سب اس کے عملی اعجاز کا حصّہ ہے۔ قرآن کا اعجاز ہی اس کی عظمت کا اصل معیار ہے، جو اسے صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک معجزہ، ایک رہنما اور نجات کا ذریعہ بناتا ہے۔