امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بہت سے اتحادیوں نے ان پر اور ان کی میک امریکا گریٹ اگین تحریک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل سے اپنے قریبی تعلقات اور مشرق وسطیٰ میں فوجی پیچیدگیوں سے دور رہیں۔
امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کے روز اس ہنگامے کو کم کرنے کی کوشش کی کہ آیا اسرائیل نے امریکا کو ایران کے ساتھ جنگ میں گھسیٹا ہے، لیکن انہوں نے اور اعلیٰ عہدیداروں نے متضاد وضاحتیں پیش کیں کہ ٹرمپ نے فوجی کارروائی کا حکم کیوں دیا تھا۔ بہت سے مخالف مداخلت پسند حامی پہلے ہی امریکا، اسرائیل کی مشترکہ فوجی مہم کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار تھے۔
یہ ردعمل اس وقت دیکھنے میں آیاجب وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا کو ایک فوری خطرے کا سامنا ہے کیونکہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے والا ہے۔ مارکو روبیو نے وضاحت کی کہ اگر اسرائیل حملہ کرتا تو ایران امریکی افواج کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کے لئے تیار تھا ۔
غیرملکی اخبار کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو کے تبصرے نے صدر ٹرمپ کے کچھ بنیادی حامیوں کو اشارہ دیا کہ اسرائیل کے فیصلے نے امریکا کو جنگ کی طرف دھکیلا۔
انہی اتحادیوں میں سے کئی برسوں سے صدر اور وسیع تر میک امریکا گریٹ اگین موومنٹ پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات اور مشرق وسطیٰ میں فوجی الجھنوں سے دور رہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اور مارکو روبیو دونوں نے منگل کو کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ ان واقعات کے متضاد بیانات پیش کرتے رہے جو 2003 میں عراق پر حملے کے بعد سے امریکا کو اس کے سب سے زیادہ وسیع فوجی تنازعے کی طرف لے گیا تھا۔