وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بھارتی فنانس سے چلنے والے ٹریننگ کیمپس کی معلومات دنیا کو دی ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ہمیں انٹرنیشنلی شواہد دیے گئے، اسی لیے بی ایل اے دہشت گرد قرار دی گئی، بلوچستان میں انٹرنیٹ نہیں مگر اس کی فوٹیج بھارتی ٹی وی چینلز پر چل رہی ہوتی ہے۔
وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ہر بار کہہ دینا کہ ایجنسی اٹھاتی ہے، آپ خود پہاڑوں پر چڑھ جائیں، روپوش ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسن ڈھائی ہزار سے بھی کم ہیں، یورپ اور مغرب کے نمبر دیکھ لیں، کتنے مسنگ پرسن ہیں۔
طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ آزادی کی جنگ نہیں، ان کا مقصد لوگوں سے بھتہ لینا، لوٹ مار اور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان معدنیات سے مالا مال ہے، چاغی میں 5 ایسے منصوبے ہیں جہاں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری پر کام شروع ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ظلم، مظلومیت اور محرومی کا بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اگر این ایف سی میں شیئر بلوچستان کا پنجاب سے زیادہ ہو تو اسے کوئی نہیں دکھاتا، اگر کوئی یہ بتانے کے بجائے کہے کہ محرومی ہے، یہ غلط ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میں 13 کیڈٹ کالج ہیں جو کسی صوبے میں نہیں، ٹیکنیکل اسکولز اور ووکینشنل کالج 321 ہیں، بلوچستان میں 13 بڑے اسپتال ہیں۔
وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ بلوچستان میں 25000 کلومیٹر کے قریب سڑکیں ہیں، دہشت گرد اگر لوگوں کی جنگ لڑ رہے ہیں تو یہ اسکولوں، اسپتالوں اور بینکوں پر حملہ کیوں کرتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ اگر یہ حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں تو ہائی ویز کے پل گرانا کون سے حقوق ہیں؟ اگر اسکول کالج بینکس جل رہے ہوں تو پھر محرومی کا بیانیہ نہیں بنتا، لاپتہ افراد کا کمیشن کام کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وزیرِ داخلہ وہ وزیر تھے جو کوئٹہ پہنچے، اس واقعے کے علاوہ وزیرِ داخلہ ایک درجن سے زائد دفعہ خود گئے ہیں، ان کے اپوزیشن لیڈر نے جعفر ایکسپریس واقعے کی مذمت نہیں کی۔
بعد ازاں قوی اسمبلی کا اجلاس جمعہ دن 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔