سعودی عرب اور امریکا کے درمیان سول جوہری تعاون کے معاہدے نے مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کے خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
امریکی میڈیا دی نیویارک ٹائمز پر شائع ہونے والی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب کو یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت ملتی ہے تو مستقبل میں یہ صلاحیت جوہری ہتھیار بنانے کی بنیاد بن سکتی ہے، خاص طور پر اگر ایران بھی ایسا کرتا ہے۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کیے تو سعودی عرب بھی اس راستے پر چل سکتا ہے۔
دی نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بدھ کے روز معاہدے پر دستخط کا اعلان کیا تاہم اگلے ہی روز صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس معاہدے کا نفاذ اس بات سے مشروط ہو گا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے۔
دوسری جانب سعودی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی واضح پیش رفت کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق اگرچہ اس معاہدے پر تنازع موجود ہے لیکن سعودی عرب کی سول جوہری توانائی حاصل کرنے کی خواہش کئی دہائیوں پرانی ہے اور اس کے پیچھے صرف دفاعی نہیں بلکہ معاشی اور توانائی سے متعلق اہم وجوہات بھی ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کی معیشت اب بھی بڑی حد تک تیل پر منحصر ہے، 2022ء میں خام تیل سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 40 فیصد تھا، سعودی قیادت کا ماننا ہے کہ مستقبل میں معاشی استحکام کے لیے تیل پر انحصار کم کرنا ناگزیر ہے۔
گزشتہ 10 برس میں صرف 1 سال کو چھوڑ کر سعودی عرب کو بجٹ خسارے کا سامنا رہا ہے جبکہ ملک مستقبل کے بڑے منصوبوں، جدید شہروں اور مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا مراکز پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے جن کے لیے بڑی مقدار میں بجلی درکار ہو گی۔
رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق اگر سعودی عرب جوہری توانائی سے اپنی بجلی کی ضرورتیں پوری کرتا ہے تو زیادہ خام تیل برآمد کر کے اضافی آمدنی حاصل کر سکتا ہے۔
ولی عہد محمد بن سلمان نے ویژن 2030ء کے تحت سعودی عرب کو جدید اور متنوع معیشت بنانے کا منصوبہ پیش کیا تھا جس کا مقصد تیل پر انحصار کم کرنا اور توانائی کے نئے ذرائع اپنانا ہے۔
سعودی عرب نے 2021ء میں اعلان کیا تھا کہ 2030ء تک اپنی نصف بجلی قابلِ تجدید توانائی سے پیدا کرے گا لیکن موجودہ صورتِ حال میں 1 فیصد سے بھی کم بجلی شمسی اور ہوائی توانائی سے حاصل ہو رہی ہے جبکہ باقی تقریباً تمام بجلی تیل اور گیس سے پیدا کی جا رہی ہے۔
ایسے میں جوہری توانائی کو سعودی قیادت اپنے جدید اور ماحول دوست وژن کا اہم حصہ سمجھ رہی ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ سول جوہری پروگرام سعودی عرب کی علاقائی اور عالمی حیثیت مضبوط کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے، اگرچہ اس کا مقصد بجلی پیدا کرنا ہے لیکن مستقبل میں یہی صلاحیت دفاعی توازن کے لیے بھی اہم سمجھی جا سکتی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس معاہدے سے سعودی عرب اور امریکا کے تعلقات بھی مزید مضبوط ہو سکتے ہیں، ماضی میں سعودی عرب نے اشارہ دیا تھا کہ اگر امریکا تعاون نہ کرے تو وہ چین یا روس کے ساتھ بھی جوہری ٹیکنالوجی پر کام کر سکتا ہے تاہم سعودی قیادت نے بالآخر امریکا کے ساتھ آگے بڑھنے کو ترجیح دی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کو اب بھی یقین ہے کہ آنے والے کئی برسوں تک امریکا عالمی سیاست میں سب سے طاقت ور کردار ادا کرتا رہے گا۔