• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں ملکوں کی شراکت داری ایک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے جو محض انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ پیداوار،برآمدات،روزگار اور پائیدار ترقی پر مرکوز ہے۔ اس باب میں پاکستان کی معدنی دولت کو بروئے کار لانے کا پہلو خاص اہمیت کا حامل ہے ۔معدنیاتی ذخائر آج کی دنیا کے وہ اہم ترین اثاثے ہیں جن سے استفادے کیلئے دنیا بھر کےترقی یافتہ ملکوں میں ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ایک خبر کے مطابق واشنگٹن میں امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین، جی سیون سمیت تقریباً 20ملکوں کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے ایجنڈے کا خاص نکتہ اسی ضرورت کے حوالے سے ہے۔ پاک چین دوستی اور شراکت ایسے ہمہ جہت پہلوؤں کا احاطہ کرتی آگے بڑھ رہی ہے جن کا ایک مظہر پاک چائنا اکنامک کاریڈور (سی پیک) ہے اور جسے دونوں دوست ممالک کیلئے ہی نہیں، خطے کی خوشحالی کے حوالے سے بھی گیم چینجر کہاجاتا رہا ہے۔ تاہم خود کو خطے کی واحد برتر طاقت قرار دینے کے دعویدار اور ریجن کے دوسرے ملکوں کو اپنا زیردست رکھنے کیلئے ہر طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کے عادی ملک بھارت کی طرف سے سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کے کھلم کھلا دعووں میں نئی جان ڈالنے کیلئےاپنی پراکسیزکےذریعےپاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیاں زیادہ تیز کردی گئی ہیں۔ ان پراکسیز کا صفایا کرنے پرپاکستان کے سیکورٹی ادارے پوری طرح توجہ دے رہے ہیں ۔ اس ضمن میں 31جنوری کو افغان سرزمین سے صوبہ بلوچستان کے9شہروں پر کئے گئے اس وقت تک کے سب سے بڑے حملے کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے جسے ناکام بناکر تمام کے تمام 92حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس واقعہ میں پاکستان کے15سیکورٹی اہل کاروں اور18سویلینز نےوطن کی بقا وسلامتی کیلئےاپنی نقد جاں کا نذرانہ پیش کیا۔ بھارتی پراکسیز کا صفایا کرنے پر پاکستان کے سیکورٹی ادارے پوری طرح توجہ دے رہے ہیں اور انشاء اللہ جلد ہی ایسی فضا قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے جس میں دہشت گردوں کیلئے کوئی جائے پناہ نہیں رہے گی۔بیجنگ اور اسلام آباد کی دوستی وہ اثاثہ ہے جس نے اپنی اہمیت وافادیت پچھلے75برسوں میں بار بار ثابت کی ہے۔ پچھلے برسوں کے دوران پاکستان کو معیشت کے جس بحران کا سامنا کرنا پڑا اس سے نکلنے کی جدوجہد میں چین،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات سمیت دوست ممالک کا تعاون نمایاں رہا۔ سفارتی میدان میں بھی دوسرے قریبی دوستوں کیساتھ چین کی حمایت اور بھرپور اعانت حاصل ہے۔ اسٹرٹیجک میدان میں پاک چین شراکت داری کا ایک نمایاں نتیجہ مئی2025ء میں پاکستان پر بھارت کی طرف سے مسلط کردہ فل اسکیل مہم جوئی میں چینی ساخت کے جے ایف۔17 تھنڈراور جےسی 10 طیاروں کی کارکردگی کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔ چین کی شراکت سے بنائے گئے طیاروں نے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں حملہ آور دشمن کے سات طیاروں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کرکے نئی دہلی کی سفارتی ، فوجی ، معاشی برتری کے غبارے سے ہوا نکال دی اور ایسی صورت پیدا کردی کہ دشمن کو سفید جھنڈے لہراکر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کرکے انکی ثالثی میں جنگ بندی کی راہ تلاش کرنا پڑی۔ پاکستان کے ’’الخالد ٹینکس‘‘ اور زمینی وفضائی جنگ میں استعمال ہونیوالے دوسرے آلات اور روبوٹس بھی ایسی ہی کارکردگی کےحامل ہیں کہ عالمی منڈیوں میں انکی مانگ بڑھ رہی ہے جبکہ عساکر پاکستان کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت کا دنیا بھر میں اعتراف کیا جاتا ہے۔ یوں مئی2025میں پاکستان کو تباہ کرنے کے مذموم مقصد کے تحت مسلط کی گئی جنگ حق تعالیٰ کے کرم سے حملہ آور دشمن کی بدترین ہزیمت کا ذریعہ تو بنی مگر پاکستان کیلئےعالمی سطح پر بلندتر وقار اور معیشت میں اضافے کا ذریعہ بھی بن گئی ۔پاک چین اقتصادی راہداری اپنے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ پہلے مرحلے میں توانائی، انفرا اسٹرکچر،سڑکیں اور گوادربندرگاہ جیسے منصوبے شامل تھے جنہوں نے معیشت کے مختلف شعبوں میں ٹھوس نتائج دیئے اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ کیا۔ بدھ 20جنوری 2026ء کو اسلام آباد میں پاک چین ای مائننگ پلیٹ فارم کا افتتاح کیا گیا جس کے ذریعے پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری آنےاور تکنیکی ترقی کو فروغ دینے کا ڈیجیٹل نظام فعال ہوگیا۔ چائنا چیمبر آف کامرس ان پاکستان(CCCPK) کے زیراہتمام منعقدہ اس فورم کے800سے زائد شرکاء میں70چینی اور100پاکستانی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام اور صنعت سے متعلق اسٹیک ہولڈرز شامل تھے۔ اسلام آباد میں منعقدہ اس فورم سے توقعات وابستہ کی جارہی ہیں کہ یہ پاکستان کے معدنی شعبے میں10ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری لانے کا ذریعہ بنے گا۔ چینی سفیر برائے پاکستان چیان ژائی ڈونگ اور پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مشترکہ طور پر اس فورم کا افتتاح کیا۔اس موقع پر پروفیسر احسن اقبال نے جو باتیں کیں،ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سی پیک کا نیا مرحلہ پاکستان کے قومی معاشی تبدیلی کے فریم ورک’’ اڑان پاکستان‘‘ سے مکمل طور پرہم آہنگ ہے جسکا مقصد2035ء تک10کھرب ڈالر کی معیشت کی تکمیل ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان کے معدنی وسائل کی مالیت60کھرب ڈالر ہے تاہم معدنی برآمدات اس وقت دو ارب ڈالر سالانہ ہیں۔ پاکستان میں تعینات چینی سفیر چیانگ ژائی ڈونگ نے واضح کیا کہ اسلام آباد اور بیجنگ معدنی وسائل کے شعبے کو کان کنی تک محدود رکھنے کی بجائے فل ویلیو چین کی بنیاد پر اعلیٰ سطح تک لیجانا چاہتے ہیں جس میں معدنی وسائل کی تلاش، پیداوار، پراسیسنگ، تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق اور تربیت شامل ہوگی ۔عالمی سطح پر سامنے آنیوالی ضروریات کے تناظر میں اسلام آباد میں منعقدہ مذکورہ فورم کی کارروائی اور مفاہمتی یادداشتوں سے یہ امکانات نمایاں ہوئے ہیں کہ معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھے گی اور دنیا میں نظر آنیوالی معدنیاتی ضرورتوں کی تکمیل میں پاکستان کا کردار نمایاں رہے گا۔

تازہ ترین