وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور قازقستان مشترکہ کوششوں سے اقتصادی تجارتی تعاون کے اہداف حاصل کریں گے۔
پاکستان اور قازقستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اپنے بھائی صدر قاسم جومارت توکایووف اور ان کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہیں، یہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے بہت اہم ہے، قازقستان کے کسی صدر کا 23 سال بعد پاکستان کا یہ دورہ ہے، صدر قاسم جومارت توکایووف کے ساتھ تعمیری اور مثبت گفتگو ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کو عملی شکل دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ معاہدوں کے حقیقت کا روپ دھارنے سے معاشی اور ثقافتی تعاون میں اضافہ ہو گا، صدر قاسم جومارت توکایووف کے لیے نشانِ پاکستان کا اعزاز قریبی تعلقات کا عکاس ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے بورڈ آف پیس اہم فورم ہے، دعاگو ہیں کہ غزہ میں مستقل امن ہو اور خوشحالی آئے۔
قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے اپنے خطاب میں کہا کہ دوست ملک پاکستان کے دورے پر بہت خوشی ہے، پاکستان قازقستان کا قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔
قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے اپنے خطاب میں کہا کہ دوست ملک پاکستان کے دورے پر بہت خوشی ہے، پاکستان قازقستان کا قابل اعتماد شراکت دار ہے، دونوں ملک مشترکہ اقدار اور روایات کے امین ہیں، 1 ارب ڈالر کا تجارتی ہدف حاصل کرنے کے لیے مل کر آگے بڑھیں گے۔
مشترکہ اعلامیہ اور معاہدے دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہیں، دفاع کے شعبے میں پاکستان کی ترقی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے، خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوشیں قابل تعریف ہیں۔
وزیراعظم پاکستان سے ٹرانزٹ ٹریڈ، کراچی اور بندرگاہوں کے استعمال پر گفتگو ہوئی، دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے میں وزیراعظم شہباز شریف کے کردار کا معترف ہوں۔
صدر قاسم جومارت توکایووف نے پیدارواری شعبے میں پاکستان کو پروڈکشن پلانٹ لگانے کی دعوت دے دی۔