موسم بہار کا خیرمقدم کرنے کیلئے لاہورسمیت مختلف شہروں میں بسنت کے تہوار کی تیاریاں زوروں پر ہیں، دودہائیاں بعد حکومتِ پنجاب کی جانب سےبسنت منانے کی اجازت اورمقامی تعطیلات کے اعلان نے عوام میں جوش و خروش کی لہر دوڑا دی ہے، ملک کے کونے کونے بلکہ بیرون ملک مقیم افراد کی بھی لاہور آمد کی اطلاعات ہیں، میڈیارپورٹس کے مطابق لاہور میں 34کروڑ روپےکی پتنگیں اور ڈور فروخت ہوچکی ہیں، شہریوں کا مطالبہ ہے کہ پتنگ اور ڈور کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے سرکاری ریٹ مقرر کیے جائیں۔ ہندو دھرم کے مطابق فطرت کا ہر دور ایک مقدس ترتیب کے تحت چلتا ہے،قدیم رِگ وید میں وسنت فطرتی تبدیلی کا وہ خوشیوں بھرا مقدس مرحلہ ہے جب جمود کی علامت سردی کا خاتمہ ہوجاتا ہے اورمالک کی دھرتی پر زندگی پھر سے دوبارہ مسکراتی ہے۔ ہندووکرمی کیلنڈر کے مطابق بسنت کا مرکزی دن وسنت پنجمی ہے اور ہر سال یہ دن ماگھ کے مہینے کی پانچ تاریخ کو منایا جاتا ہے جبکہ انگریزی کیلنڈر میں یہ دن جنوری فروری کے مہینے میں آتا ہے، ہندودھرم میں بسنت کا دن خاص طور پر علم و دانش، فن اور موسیقی کی دیوی سرسوتی سے منسوب ہے، بسنت کے موقع پر سرسوتی پوجا کی جاتی ہے، سفید رنگ امن و خوشحالی کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ زرد رنگ سرسوں کے پھول اورسورج کی چمکتی دمکتی روشنی کا عکاس ہے ۔ قدیم ہندوستانی فلسفے میں رِتو چکرا وقت اور فطرت کے قدرتی نظام کو سمجھنے کا سب سے قابلِ بھروسہ جامع تصور ہے، رِتو چکرا کے مطابق ہررِتو(موسم) انسانی زندگی، زراعت اور روحانی شعور پر اثر انداز ہوتاہے۔ ہندو دھرم میں وسنت کورِتو راج (موسموں کا بادشاہ) کہا جاتا ہے جو زندگی کی واپسی اورزمین کی بیداری کا موسم ہے، یہ سیزن نئی فصل کی تیاری، بیج بونےاورپرندوں کے چہچہانےکا وقت ہے، وسنت ہرانسان کیلئے روشن مستقبل کی امید لیکر آتاہے۔ بسنت ہمارے خطے کا وہ عظیم تہوار ہے جو وقت بیتنے کے ساتھ ہندوستان میں سماجی اور ثقافتی رنگ اختیار کر گیا، تاریخی طور پر دہلی سلطنت اور مغلیہ دور میں بسنت کوشاہی سرپرستی حاصل ہوئی، مختلف مغل بادشاہوں بشمول اکبر اعظم، جہانگیر، اورشاہجہان کے درباروں کو بسنت کے موقع پرزرد رنگ سے سجایا جاتا، محل کی چھت سے موسم بہار کو خوش آمدید کہنے کیلئے پتنگ بازی کی جاتی جو بعد ازاں عوامی سطح پر گلی محلوں اور میدانوں تک جاپہنچی، روایت ہے کہ امیر خسرونے حضرت نظام الدین اولیاء کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے زرد لباس، زرد پھولوں ا ور صوفیانہ گیتوں کے ساتھ ساتھ بسنت منائی، انگریز کی ہندوستان آمد تک بسنت کا تہوار لاہور، دہلی اور آگرہ سمیت مختلف مقامات پر ریاستی سطح کا سالانہ جشن بن چکا تھا۔ برطانوی راج کے دوران بھی بسنت مختلف شہروں میں جوش و خروش سے منائی جاتی رہی ،اس دور میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی ،پارسی سمیت سب زرد لباس زیت تن کیے ایک ساتھ ہنسی خوشی بسنت منایا کرتے تھے، چھتوں پر موسیقی اور پکوانوں کا اہتمام کیا جاتا اور دور دراز سے مہمانوں کو مدعو کیا جاتا۔بسنت منانے کیلئے زندہ دلانِ لاہور ہمیشہ سب سے آگے آگے رہے، اندرونِ شہر،انارکلی ،شاہ عالمی، داتا دربار کے اطراف بسنت صرف ایک دن نہیں بلکہ بسنت منانے کا سلسلہ کئی دنوں تک جاری رہتا، لاہوری ثقافت میں بسنت منانے کے متاثرکن انداز کی وجہ سے" جِنے لہور نئیں تکیا اوجمّیا ای نئیں"یعنی جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا جیسی کہاوتیں زبان زدعام ہوئیں۔ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد بھی بسنت مذہبی ہم آہنی، سماجی یکجہتی اور خوشیوں کی علامت کے طور پرہر سال دھوم دھام سے منایا جاتی رہی، تاہم نئی صدی کے آغاز پرکچھ سماج دشمن عناصر کی جانب سے بسنت کے خوشیوں بھرے تہوار کومعصوم لوگوں کے خون سے رنگا جانے لگا، دھاتی تاراور کیمیکل لگی ڈور سے راہ چلتے مسافر بالخصوص موٹرسائیکل سوار لہولہان ہونے لگے، غیرذمہ دارانہ پتنگ بازی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے نے حکومت کو مجبور کردیا کہ وہ بسنت کے تہوار پر مکمل پابندی عائد کردے۔ آج دو دہائیوں بعد لاہورکا آسمان ایک مرتبہ پھر بسنت کا مرکز بن کر موسم بہار کو خوش آمدید کہنے کیلئے بے قرار نظر آتا ہے، میری نظر میں لوگوں کا جوش و خروش اس ناقابلِ تردید حقیقت کا اعتراف ہے کہ ہم نے اپنے خطے کے عظیم ثقافتی ورثے کو فراموش نہیں کیا ہے، بٹوارے کے بعد آبادی کی بڑی پیمانے پر نقل مکانی، ثقافتی پالیسیوں، مغربی تہذیب کی یلغار اور ریاستی ترجیحات میں تبدیلی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود بسنت کی تاریخی جڑیں عوام کے دِلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ آج کچھ شدت پسند عناصر بسنت کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے مخالفت کرتے بھی نظر آرہے ہیں، تاہم وہ اپنی کم علمی کے باعث یہ امر نظرانداز کردیتے ہیں کہ ہمارے خطے میں بسنت اور پتنگ بازی پر کبھی کسی مخصوص مذہب یا فرقے کی اجارہ داری نہیں رہی، قدیم ویدک دور میں وسنت کا تصورمتعارف ضرور ہوا لیکن یہ مذہبی سے زیادہ کائناتی اور فطری ہے، رِتو چکرا کے مطابق بہار کا موسم کسی خاص عقیدے کے پیروکاروں کیلئے نہیں بلکہ تمام انسانوں کیلئے امید کایکساں سندیسہ لیکر آتا ہے، اسی آفاقی بنیاد نے بسنت کوبرصغیر کی مشترکہ تہذیب کا انمول حصہ بناتے ہوئے برداشت، رواداری اورمذہبی ہم آہنگی کو پروان چڑھایا، وقت کے ساتھ بسنت ہمارے معاشرے کاوہ عظیم سماجی تہوار بن گیا جسکے دوران ماضی میں امیر غریب سب ایک ہی چھت پرایک ہی آسمان کے نیچے پتنگ بازی کرتے نظر آئے۔ میری نظر میں آج ہمارے پاس سنہری موقع ہے کہ ہم بسنت کو اصل تاریخی، ثقافتی اور سماجی پس منظر کے ساتھ ذمہ دارانہ انداز میں منانے کیلئے ہرممکن کوشش کریں، سماج دشمن عناصر کو کسی صورت بسنت کی آڑ میں انسانی جانوں سے کھیلنے کا موقع نہ دیا جائے،اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو لاہورنہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کاثقافتی مرکزبنکر اُبھر سکتاہے جبکہ بسنت کا تہوارہمارے پیارے ملک پاکستان کوعالمی سطح پرانسان دوست پُرامن شناخت فراہم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب لاہور کی فضاؤں میں رنگ برنگی پتنگیں اُڑیں گی تویہ پیغام ہر خاص و عام کو جائے گا کہ انسان اور فطرت کبھی ایک دوسرے سے جُدا نہیں ہوسکتے۔