• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سید منظور حسین گیلانی آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہے ہیں اور وہ گلگت بلتستان کے حوالے سے کچھ اہم عدالتی فیصلوں میں بھی شریک تھے ۔ آپ کو تاریخ و ادب سے گہرا شغف ہے لہٰذا اکثر ان کے مضامین مختلف اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے حوالے سے گیلانی صاحب جو نقطہ نظر رکھتے ہیں وہ دیگر کشمیری زعماء سے مختلف ہے اور بقول ان کے تاریخی ،قانونی اور زمینی حقائق کے عین مطابق ہے۔

وہ گلگت بلتستان کی ایک الگ حیثیت کے قائل ہیں اور اس علاقے کو وفاق پاکستان میں شامل کرنے کے حامی ہیں۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے حوالے سے کافی کچھ لکھا ہے نیز افضل شگری اور کئی دیگر معتبر پاکستانی Diplomats کے ہمراہ ARJK نامی آرگنائزیشن کے تحت بھی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو دو الگ الگ اکائیوں کی شکل میں پاکستان میں شمولیت کی تجاویز دی ہیں۔ اس فورم کی سفارشات ایک کتابی شکل میں چھپ بھی چکی ہیں۔ گیلانی صاحب نے گلگت بلتستان کے حقوق کے تعین کیلئے بنائی گئی سرتاج عزیز کمیٹی میں بھی اپنا یہی موقف پیش کیا تھا۔ گیلانی صاحب کی اب تک چار سے زائد کتابیں شائع ہوئی ہیں اور اب بھی مشق سخن جاری ہے۔

حال ہی میں ان کی ایک نہایت اہم کتاب ’آئینہ کشمیر‘ کے نام سے چھپ کر منظرعام پر آئی ہے۔ اتفاق سے 29دسمبر کو جب میں اسلام آباد میں تھا تو اسی دن Black Hole کے زیر اہتمام اس کتاب کی تقریب رونمائی اور اسی کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کے ممکنہ حل پر گفتگو کی ایک نشست رکھی گئی تھی جس میں شرکت کا موقع ملا۔ بلیک ہول ایک روشن خیال پلیٹ فارم ہے جسکے روح رواں ڈاکٹر پرویز ہودبھائی ہیں۔ تقریب میں منظور گیلانی صاحب بڑےتپاک سے ملے ۔

آئینہ کشمیران کی تازہ تصنیف ہے اور اس میں 1947 سے لیکر چند سال پہلے تک مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کی گئی کوششوں اور ہماری کوتاہیوں کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق کے تحت اس مسئلے کے ممکنہ حل پر منطقی تحقیق کی گئی ہے۔ اس کتاب میں اقوام متحدہ کے کمیشن کے تحت نیز بیک ڈور ڈپلومیسی اور پاک بھارت مذاکرات کے ذریعے سامنے آنے والے پچیس کے قریب ایسے پروپوزل کی تفصیل دی گئی ہے جنہیں کسی نہ کسی وجہ سے عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔ اس کے علاوہ کتاب میں ایسے کئی مواقع کا تذکرہ بھی ہے جن سے ہماری کوتاہی اور بصیرتی فقدان کے باعث خاطر خواہ فائدہ اٹھایا نہیں جاسکا۔

اس نشست میں سب سے پہلے گیلانی صاحب نے مسئلہ کشمیر کی ’’تاریخ ، ضائع شدہ مواقع اور منصفانہ حل کی تلاش ‘‘ کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر سب کے سامنے رکھا جس کا تفصیلی جائزہ انہوں نے اپنی کتاب آئینہ کشمیر میں قلمبند کیا ہوا ہے۔مختصراً انہوں نے کہا کہ ستر سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے اور مسئلہ کشمیر اسی نہج پر کھڑا ہے جہاں روز اول سے تھا۔ گیلانی صاحب کے مطابق اس عرصے میں کئی اہم مواقع اور موڑ آئے جن سے پاکستان کوئی حقیقت پسندانہ فائدہ اٹھا سکتا تھا مگر اس کا سیاسی ادراک نہیں کیا گیا اور یوں یہ مواقع ضائع ہوگئے۔

گیلانی صاحب کا کہنا تھا کہ اب پلوں کے نیچے سے کافی پانی بہہ گیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے موقف کو کوئی خاص پذیرائی بھی حاصل نہیں۔ ان کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے جن علاقوں یعنی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر نے پاکستان سے شمولیت کا اعلان کیا ہے ان کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے انہیں آئین پاکستان میں جگہ دی جانی چاہئے۔

ان کا موقف یہ ہے کہ تاریخی طور پر 1840ءسے پہلے ریاست جموں وکشمیر کا کوئی وجود نہیں تھا بلکہ یہ مختلف اکائیوں میں بٹا ہوا تھا اور یوں ہر ایک حصے میں مختلف طرز حکمرانی رائج تھا۔ گیلانی صاحب کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پاکستان کے حامی ہیں، لداخ اور جموں کا علاقہ انڈیا کی طرف زیادہ رحجان رکھتا ہے لہٰذا زمینی حقائق یہ ہیں کہ صرف وادی کشمیر کے حق خودارادیت پر دونوں ملکوں میں مذاکرات ہوں اور صرف اس حصے کا کوئی حل تلاش کیا جائے۔

تقریب میںمحترم فرحت اللہ بابر سے جب یہ سوال کیا گیا کہ وجہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کو پولیٹکل ڈائیلاگ کے ذریعے حل کرنے میں سیاسی حکومتیں ابھی تک ناکام رہی ہیں۔ ان کے جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ پہلے زیادہ تر سیاسی حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تفاوت رہتا تھا جسکی وجہ سے دونوں ملکوں میں کوئی بھی سیاسی ڈائیلاگ بار آور نہ ہوسکا۔میرے اس نکتہ پر کہ اب تو وفاق میں بھی سیاسی جماعتوں کی الائنس حکومت ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ بھی ایک پیج پر ہے تو ایسے میں گلگت بلتستان کو وفاق پاکستان کا حصہ بنانے میں کیا امر مانع ہے؟

فرحت اللہ بابر صاحب کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں پاکستان کا روایتی موقف آڑے آرہا ہے تاہم ان کے مطابق گلگت بلتستان کا موجودہ انتظامی سیٹ اپ مثالی نہیں ہے اور اس حوالے سےاسے زیادہ اختیارات ملنے چاہئیں۔

سید منظور حسین گیلانی صاحب کے اس تحقیقی کام پر صاحب نظر اور سیاسی طور پر مقتدر شخصیات جناب فرحت اللہ بابر اور سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے الگ الگ تحریری تبصرہ بھی کیا ہے۔ قصوری صاحب کا تبصرہ اس لئے بھی صائب اور منفرد ہے کہ وہ وزیر خارجہ رہ چکے ہیں اور مشرف دور میں تو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئےکی جانیوالی کوششوں میں براہ راست شریک بھی رہے ہیں۔

خورشید قصوری صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستان اور علاقے کے عوام گلگت بلتستان کو ہمیشہ سے مسئلہ کشمیر سے الگ سمجھتے ہیں کیونکہ یہ علاقے ڈوگرہ شاہی کی وجہ سے کنٹرول میں آئے تھے۔ جسٹس سید منظور گیلانی کا بھی گلگت بلتستان کے حوالے سے یہی موقف ہے جس کا ذکر ان کی کتاب میں ہے ۔

تازہ ترین