مدوّن و مرتب: عرفان جاوید
(مبین مرزا)
یہ آخری فقرہ مَیں نےکئی بار سُنا۔ یوں لگتا تھا، جیسے ایک گونج دار آواز کی بازگشت ہے، جو بار بار میری طرف آتی ہے۔ اتنی بار کہ اُس کی گونج اور ارتعاش کےاثر سےپھر مجھ پر اکتاہٹ اور غفلت طاری ہونے لگی۔ یہ کوئی خواب تھا یا بےداری کا عمل یا پھر اِن دونوں کے بیچ کی کوئی کیفیت، کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
حواس بحال ہوئے تو مَیں نے اِس کے بارے میں سوچا، لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچ پایا۔ کچھ مِلی جُلی کیفیت تھی۔ کبھی لگتا خواب تھا اور کبھی بے داری۔ مجھے لگا کہ یہ خواب تھا، لیکن یہ سوچ کر حیرت ہوئی کہ کیسا خواب تھا، جو مجھے پورا کا پورا یاد تھا، یوں جیسے سب کچھ ابھی ہوش و حواس میں میرے سامنے ہوا ہے، لیکن یہاں تو مَیں اکیلا ہوں، پھر یہ کون مجھ سے ہم کلام تھا۔
مجھے اچھی طرح دھیان تھاکہ ٹھنڈ محسوس کرتے ہوئے مَیں نے کھڑکی بند کی تھی، پردہ برابر کیا تھا۔ بڑا بلب بند کرکے مدھم روشنی والا جلایا تھا۔ پہلے کچھ دیر بیڈ کے سرہانے سے ٹیک لگا کر بیٹھا، پھر نیم دراز ہوا اور اس کے بعد کب اور کیسے یہ گفتگو شروع ہوئی، یہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ البتہ گفتگو اب بھی میرے اندر اسی طرح گونج رہی تھی۔
ایک روز صلّو کا فون آیا۔ پوچھنے لگا، شام کو کیا کررہے ہو، کہیں جانا تو نہیں؟ مَیں نے بتایا کہ گھر پر ہی ہوں۔ شام کو وہ آگیا۔ اُس نے دریافت کیا کہ تمھارے پروگرام کا کیا ہوا؟ مَیں نے کہا۔ بدستور ہے۔ پوچھا، گھرمیں بات ہوئی تو مَیں نے تفصیل سے سب کچھ بتایا اور پھر وہ بےداری و خواب کی مِلی جُلی کیفیت والا واقعہ بھی بتایا۔ کچھ دیر سنجیدگی سے میری طرف دیکھتا رہا، پھر ہنس کربولا۔ ’’میرا پتا ہے، کیا خیال ہے؟‘‘ مَیں نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو بولا۔ ’’مَیں سمجھتا ہوں کہ تمھیں ملتان کے بجائے کسی اچھے سائیکائٹرسٹ کے پاس جانا چاہیے۔‘‘
مجھے کوفت محسوس ہوئی، اُس کی بات سے نہیں، اس احساس سےکہ مَیں بیوی، بچوں اوراس جیسے دوست کو بھی اپنی کیفیت نہیں سمجھا پا رہا۔ تب مَیں نے سوچا، یہ کیا ہے؟ آدمی کی بےبسی یا اُس کے احساس کی پیچیدگی جو اُس کے وجود، اُس کی رُوح میں کہیں ڈیرے ڈالے رہتی ہے اوراس کااحوال کسی بھی دوسرے شخص پر نہیں کُھل پاتا۔
صلّو مسلسل میرا چہرہ تکےجارہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں تشویش تھی۔ ’’بچوں کی رائے یہ ہے کہ مَیں پہلے پندرہ بیس دن یا ایک مہینے کے لیےملتان جائوں، اُس کے بعد سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کروں۔‘‘ ’’سو فی صد درست رائے ہے۔‘‘ ’’مَیں بھی اِس پر آمادہ ہوں۔‘‘ ’’بہت اچھا ہے۔‘‘ ایک لمحہ تامل کے بعد پھر بولا۔ ’’تم کہو تو مَیں بھی تمھارے ساتھ چل سکتا ہوں۔‘‘ مَیں نے تعجب سےاُسے دیکھا۔ ’’میں سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں۔‘‘مجھے اپنا ذہن ایک دَم بالکل خالی محسوس ہوا۔
کچھ سمجھ نہ آیا کیا جواب دوں۔ صلّو نےمیری طرف دیکھا، پھر سر کُھجاکربولا۔ ’’یہ وعدہ رہا کہ وہ آب پارہ تم سے ملنے آئی تو مَیں گھرسے باہر چلا جائوں گا اور اگر تم اُس سے ملنے گئے تو مَیں ہرگز ساتھ چلنے پر اصرار نہیں کروں گا۔‘‘’’تم بہت رذیل آدمی ہو۔‘‘ مجھےہنسی آگئی۔ ’’دوست ہوں، جوجی میں آئے کہہ لو۔‘‘ ’’ابے منحوس! اِس عُمر میں آدمی کے یہ مسائل تھوڑی ہوتےہیں۔‘‘’’جانی! اِسی عُمرمیں تو یہ مسائل زیادہ ہوتے ہیں اور یہ تم عُمرکا رعب گانٹھنے کی کوشش کیوں کرتے ہومجھ پر۔ مَیں بھی تمھاری عُمرکا ہوں، چار ہی مہینے تو چھوٹا ہوں۔‘‘
پھر ایک روز مَیں ملتان واپس پہنچ گیا۔ اس عرصے میں کتنی ہی مرتبہ میں اِس شہر میں جہاز سے اُترا تھا۔ اس دفعہ بھی مَیں ہوائی جہاز سے سفر کرسکتا تھا، لیکن مَیں نے نہیں کیا تھا، ٹرین سے آیا تھا۔ اس لیے کہ مَیں ہوا سے، خلا سے کُود کر شہر میں نہیں اُترنا چاہتا تھا، بلکہ دھیرے دھیرے اُنھی قدموں پر لوٹنا چاہتا تھا، جن پر مَیں یہاں سے رخصت ہوا تھا۔ اس شہر کی ہوا، خوش بُو اور فضا کو سانسوں کے ذریعے اپنے اندر اُتارتے ہوئے۔
ملتان کینٹ کا اسٹیشن مَیں نے بہت برسوں بعد دیکھا تھا۔ کتنا بدل گیا تھا یہ۔ صُبح سویرے پلیٹ فارم پر آہستہ آہستہ قدم رکھتے ہوئے مَیں ایک طرف جا کر کھڑا ہوگیا۔ اِس لیے کہ مجھے کہیں جانے کی جلدی نہیں تھی۔ جہاں پہنچنا تھا، پہنچ چُکا تھا۔ مَیں اطمینان سے اسٹیشن کودیکھ کر، پہچان تازہ کر کےیہاں سے نکلنا چاہتا تھا۔
اِس کے لیے ضروری تھاکہ مَیں جس ٹرین سےاُترا ہوں، وہ اگلی منزل کی طرف روانہ ہو جائے۔ اِس کے لیے مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ جلد ہی ٹرین روانہ ہوگئی۔ اب مَیں نےسُکون سےاسٹیشن کو آنکھوں میں بھرنا شروع کیا۔ سیدھے ہاتھ کی طرف اپر کلاس کے مسافروں کی انتظارگاہ، اس کے بعد … ارے یہ کیا، اس کے بعد تو یہاں پر وہ کچھ ہے ہی نہیں، جو کبھی ہوا کرتا تھا اور اب بھی میرے ذہن میں ہے۔ چائے اور کولڈ ڈرنک کی دکانیں، سفر میں درکار سامان کا اسٹور، اور وہ بُک شاپ، جس میں سامنے کے شوکیس اور پیچھے دیوار سے لگی شیشے کی الماریاں اخباروں، رسالوں اور کتابوں سے بھری رہتی تھیں۔
اُن میں سے توکچھ بھی یہاں نظرنہیں آرہا تھا۔ ڈھنڈار رقبہ میرے سامنے تھا۔ اسٹیشن پہلے سے کہیں زیادہ صاف سُتھرا دکھائی دے رہا تھا، لیکن رونق، چہل پہل، گہماگہمی اب کہیں نہیں تھی۔ وقت بدل گیا ہے۔ لوگوں کو اب ان چیزوں کی ضرورت نہیں رہی اور پھر سب سے بڑا مسئلہ تو سیکوریٹی کا ہے۔ مَیں نے خُود سے کہا۔ میرے قدم خود بخود تیز اُٹھنے لگے اور مَیں گیٹ پر کھڑے ٹکٹ چیکر کو ٹکٹ دے کر باہر آگیا۔ مَیں نےمحسوس کیا، ملتان کی مٹّی میرے قدموں سے اُسی طرح لپٹ رہی تھی، جیسے کوئی منتظر شخص کسی اپنے کے لوٹ آنے پر والہانہ لپٹتا ہے۔
شہرکی فضا، آب و ہوا سب کچھ مجھے بےحد مانوس اور اپنا اپنا سا لگا۔ تب مَیں نے خُود سے کہا۔ چالیس بیالیس برس پہلے ایک وقت تھا، جب مَیں نے کچھ خواہشوں اورخوابوں کےتعاقب میں اس شہر کوچھوڑا تھا اور یہ بھی ایک وقت ہے کہ کچھ خواہشیں اور خواب مجھے اِس شہر واپس لے آئے ہیں۔ مَیں اپنے آپ سے خوش تھا کہ مَیں نےیہ فیصلہ کیا اورمَیں زندگی سے بھی خوش تھا کہ جیتے جی اس فیصلے پرعمل کا موقع بھی مل گیا تھا۔
اسٹیشن سے باہربھی منظربدلاہوا تھا۔ سب سے پہلےتو وہ خالی پن جو اندر دیکھا تھا، وہی یہاں بھی ملا۔ اسٹیشن کے سامنے جو سائیکل اور موٹر سائیکل اسٹینڈ تھا، وہ بھی نظر نہیں آیا۔ یہاں وہاں اِکادُکّا گاڑیاں پارک تھیں۔ تھوڑی دیر میں آگے سڑک کے اس طرف الٹے ہاتھ پر اسٹینڈ دکھائی دیا۔ اسٹیشن کے الٹے ہاتھ پر جہاں پلیٹ فارم پر جانے والا آخری گیٹ تھا، جو عام پر بند رہتا، اُس کے سامنے والی سڑک پر ڈاک والوں کاایک دفترتھا۔ وہاں خاصی چہل پہل رہتی تھی، لیکن اس وقت وہ حصّہ بھی سنسان تھا۔
سیدھے ہاتھ پر، جہاں لوئر کلاس مسافروں کے نکلنے کا گیٹ تھا، اس سےآگے ایک نئی عمارت اِستادہ تھی۔ لوئر کلاس کے ٹکٹ اب وہاں ملتے تھے۔ رش اس طرف بھی نہیں تھا۔ اسٹیشن کے سامنے جو ہوٹل بنے ہوئے ہیں، چند دن وہیں رُکوں گا، اس کے بعد فیصلہ کروں گا کہ اب کہاں جانا ہے۔ یہ سوچتے ہوئے مَیں آگے بڑھ رہا تھا۔
درمیانی عُمر کا ایک آدمی، جس نے سر پر رومال باندھا اورشیو بڑھی ہوئی تھی، قریب آکربولا۔ ’’سر! کہاں چلیں گے، رکشا حاضر ہے۔‘‘ ’’یار! مَیں یہیں اسٹیشن کےقریب رُکنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔‘‘ ’’لیکن سر! یہ ہوٹل آپ کے رہنے جیسے نہیں ہیں۔‘‘ ’’کیوں؟‘‘ مَیں نے ہنس کر پوچھا۔ ’’سر! آپ جیسی جینٹری یہاں نہیں رُک سکتی۔ وہ معیار ہی نہیں ہے اِن کا۔‘‘ مَیں نے نگاہ اٹھائی۔
اُس کے چہرے پر بردباری اور آنکھوں میں اپنے پیشے کی سُوجھ بوجھ تھی۔ مجھے وہ آدمی اچھا لگا۔ مَیں نے آگے بڑھتے ہوئے پوچھا۔ ’’کیا نام ہے تمھارا؟‘‘ ’’رمضان ہے سر! محمّد رمضان۔‘‘ وہ میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ اب مَیں اس سڑک کےپاس پہنچ گیا، جس کے دوسری طرف ہوٹل تھے۔ مَیں نے رُک کر ایک لمحہ سوچا اور طے کیا کہ ٹھیک ہے، یہاں نہیں کہیں اور جا کر ہی ٹھہرنا چاہیے۔ دراصل مَیں نے یہ فیصلہ اُن ہوٹلز کی وجہ سےنہیں کیا تھا۔ وہ جیسے ہو سکتےتھے، اس کا تو مجھے پہلے بھی کچھ اندازہ تھا اور اس وقت ان کا خارجی نقشہ بھی میرے اندازے سے کچھ زیادہ مختلف نظرنہیں آرہا تھا۔
میرے اس فیصلے کا سبب یہ تھا کہ وہاں دائیں بائیں بنی ہوئی اجنبی اور فضول دکانوں اور اسٹیشن کی بےرونقی سے مجھے اچانک سخت الجھن اور کوفت سی محسوس ہونے لگی۔ بس پھروہاں نہ ٹھہرنا ہی مجھے مناسب معلوم ہوا۔ ’’رمضان!‘‘ مَیں نے رکشے والے کی طرف دیکھا۔ ’’جی سر!‘‘ ’’دیکھو، ایک تو مَیں کسی منہگے ہوٹل میں نہیں رُکنا چاہتا۔
دوسرے یہ کہ مَیں شہر کے مرکزی اور رونق والے علاقے میں رہناپسندکروں گا۔ اب تم بتاؤ، کہاں جانا چاہیے؟‘‘ ’’سر! آپ برا نہ مانیں، تو پہلے دو ایک باتیں مجھے بتائیں۔‘‘ ’’ہاں ہاں، پوچھو۔‘‘’’آپ کا اِدھر ملتان میں قیام کتنے دن ہے؟‘‘ مَیں نے ذرا توقف کے بعد کہا۔ ’’ہو سکتا ہے، مہینہ بھر یا اِس سے کچھ دن اوپر بھی۔‘‘ ’’اچھا، یہ تو پھر زیادہ دن ہیں۔ کوئی صاف سُتھرا، مگرکوئی اوسط درجے کا ہوٹل ہونا چاہیے تاکہ بجٹ قابو میں رہے۔‘‘
مَیں نے اُس کی بات پر مُسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔ ’’اور سر… آپ کو کن علاقوں میں کام کے لیے جانا آنا ہوگا؟‘‘مجھے تو پورا شہر ہی گھومنا ہے رمضان۔‘‘ ’’سر! تو پھر آپ ڈیرا اڈے یا پھر نواں شہر کے پاس دیکھ لیں۔‘‘’’ٹھیک ہے، مَیں بھی یہی سوچ رہا تھا۔‘‘’’سر! آپ تو پھر ملتان سے واقف ہیں۔‘‘’’مَیں ایک زمانے میں یہاں رہا بھی ہوں۔‘‘’’سرجی! پھر تو یہ آپ کا اپنا شہر ہوا ناں۔‘‘ مجھے رمضان کے لہجے میں اپنائیت محسوس ہوئی اور اچھی لگی۔ ’’سر! آپ بس ایک منٹ رُکیں، مَیں رکشا نکال کر لاتا ہوں۔‘‘
اسٹیشن سے ہوٹل کی تلاش میں ڈیرا اڈے پہنچے، تو مَیں نے حیرت سے اس ساری جگہ کا جائزہ لیا۔ جی ٹی ایس کا اڈا بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ معلوم ہوا، کب کی بند ہوگئی، گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس۔ اس کے مقابل دوسرے روڈ پر اور ڈیرا اڈے چوک سے آگے بھی کئی اڈے تھے،جہاں سے مزدا ہائی ایس گاڑیاں کوٹ ادّو، جتوئی، لیہ، چیچہ وطنی، میاں چُنوں، چنیوٹ اور سرگودھا وغیرہ کے لیےچلا کرتی تھیں۔ وہ بھی سب اڈے ختم۔
یہ سب کے سب نئے اڈے پر، وہاڑی چوک منتقل ہوگئے ہیں۔ رکشے والے نے بتایا تھا۔ مَیں نے رکشارُ کوایا اور اُترکر چوک کاجائزہ لیا۔ یہاں ایک حبشی حلوے کی دکان تھی اور روڈ کے اُس طرف اس کے مقابل جو دکان تھی، وہاں گرمیوں میں دودھ کی ٹھنڈی بوتلیں مِلا کرتی تھیں۔ اُس کے سامنے والی سڑک کے اُس طرف دو متصل دکانیں تھیں، جہاں آم کا شیک ملتا تھا۔ اُدھر نواں شہرکی طرف مُڑتے تو ذرا سا آگے فردوس ہوٹل تھا اور اس سے آگے اسٹارلٹ سنیما۔ مَیں نے دائیں بائیں ٹہل کر دیکھا۔ سب کچھ نیا تھا میرے لیے۔ کچھ بھی پہچاننے میں نہ آیا۔
مجھے ملتان آئے ہوئے آج پورا ایک ہفتہ ہوگیا تھا۔ دوپہر بعد سےمَیں اپنےکمرےمیں تھا۔ طبیعت میں کچھ کسل مندی تھی۔ چائے کی ضرورت محسوس ہوئی، تو مَیں نے سوچا کہ ہوٹل کے لڑکے سے کہوں کہ چائےلا دے، لیکن پھر خُود ہی اُٹھ کھڑاہوا۔ باہرایک جگہ چائے پی اور وہاں سے رکشا لے کر قلعہ کہنہ قاسم باغ، حضرت شاہ رکنِ عالم کے مزار پرچلا آیا۔
یہ جمعرات کادن تھا۔ مزار پرخاصے لوگ تھے۔ مَیں نے مزار کے بیرونی احاطے کا چکر لگایا اور کم رش والی ایک جگہ دیکھ کر بیٹھ گیا۔ آتے جاتے لوگوں پر بےمقصد نظریں دوڑاتے ہوئے خیال آیا کہ اس پورے ہفتے میں یہ پہلا موقع ہے، جب مَیں خُود کو اُسی پرانے دیکھےبھالے شہر میں محسوس کر رہا ہوں اور یہ واحد جگہ تھی، جومجھے اِس وقت بھی ویسی لگ رہی تھی، جیسی مَیں نےپہلے دیکھی ہوئی تھی۔ وہی گہما گہمی، وہی دِلوں کی کیفیت کا اثرچہرے پر لیے آتے جاتے لوگ۔
فضا میں تیرتے اور مزار کے احاطے میں گاہےگاہے اِدھر اُدھر اُترتے پرندے۔ مزار کے گنبد کےعقب میں ہلکے نارنجی رنگ کا آسمان، جو دھیرے دھیرے سرمئی چادر کی اوٹ میں اُترتا جا رہا تھا۔ اچھے خاصے لوگوں کے باوجود ایک عجیب سُکون وثبات کی کیفیت سے معمور ماحول۔ یہاں کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ مَیں نے خُود سےکہا۔ تھوڑی دیرخالی الذہن بیٹھا لوگوں کو دیکھتارہا، پھر جی چاہا کہ لیٹ جائوں۔ مزار کوسرہانے کی طرف کرکے مَیں سیدھا لیٹ گیا۔
آسمان اور زمین کے بیچ سُرمئی چادر کا رنگ ابھی ہلکا تھا اور دُور بہت فاصلے پر ٹھہرا ہوا آسمان بالکل خالی محسوس ہورہا تھا، جیسے اُس کی ساری رونق ایک طرف سمیٹ کر رکھ دی گئی ہو۔ یوں لگا، جیسے میرے اندر اور باہر دونوں جگہ اس وقت بالکل ساکت و صامت خلا ہے۔ کوئی آہٹ، آواز، چہرہ، کوئی حرکت کچھ بھی نہیں۔ میرا دل ایک دَم بہت بوجھل ہوگیا۔
یہ احوال تو مَیں کراچی میں چھوڑ کرآیا تھا، یہاں ایسا کیوں؟ مجھے خُود ہی اِس سوال کا جواب دینا تھا، لیکن مَیں توگم صُم تھا۔ آسمان کا رنگ گہرا ہوتا جارہا تھا اور وہ پہلے سے زیادہ فاصلے پر محسوس ہو رہا تھا۔ ہوا کا جھونکا سرسراتا ہوا گزرا تو ٹھنڈک کا احساس ہوا۔ مَیں نے ہاتھ سینے پر رکھے اور آنکھیں موند لیں۔پچھلے ہفتےکےدن ایک ایک کرکے آنکھوں کے آگے سے گزرنے لگے۔
ملتان آنے کے بعد مَیں اگلی ہی صبح کالے منڈی گیا تھا، کلّوکی نہاری کھانے کے لیے۔ کلّو اور اس کی نہاری میرے بچپن کی یادداشت کا حوالہ تھے۔ سردیوں میں اکثر چُھٹی والے دن ابّا گھرسےتانبے کی دیگچی یا اسٹین لیس اسٹیل کی ڈھکن والی بالٹی سنبھالے کلّو کی نہاری لینے جاتے تھے۔
اگر کبھی مَیں اُس وقت اُٹھ جاتا تو وہ مجھے بھی اپنے ساتھ سائیکل پربٹھا لیتے۔ نہاری لینے کے لیے وہ صُبح فجر کی نماز پڑھنے کے فوراً بعد نکلتے تھے۔ ایک دن مَیں نے پوچھا کہ اتنے سویرے کیوں جاتے ہیں، تو اُنھوں نے بتایا کہ اَدلے کی بوٹی، مغز اور نلی ڈلوانے کےلیےصبح سویرے جانا ضروری ہے، ورنہ صرف نہاری ملے گی، اور نہاری بھی ساڑھے آٹھ نو بجے تک ختم ہو جاتی ہے۔
یہی سب سوچتے ہوئےمَیں خُود بھی اُس دن سویرے گیا تھا، مگر وہاں تو کہیں کلّو تھا اور نہ کوئی اورآدم زاد۔ خیال ہوا کہ شاید جگہ بھول گیا ہوں۔ تیز تیز چلتا آگے وہاں تک گیا، جہاں راستہ چوک بازار کی سمت جا ملتا ہے، لیکن نہیں، کلّوکی نہاری کا وہاں کوئی سراغ نہیں تھا۔ واپس ہوا۔ راستے میں ایک صاحب ملے تو اُن سے پوچھا۔ کچھ میری ہی عُمر کے رہے ہوں گے۔ میرے استفسار پر اُنھوں نے غور سے میری طرف دیکھا۔ پوچھا۔’’کہاں سے آئے ہیں؟‘‘ ’’کراچی سے۔‘‘ ’’بہت دن میں آئے ہیں۔‘‘ ’’جی ہاں بہت برس بعد۔‘‘ ’’کلّو توکوئی بیس سال پہلے فوت ہوگئے تھے۔‘‘ ’’ اللہ مغفرت کرے۔‘‘ مجھے افسوس ہوا۔ ’’اُن کے بچّے نہیں آئے، اس کام میں؟‘‘ ’’کیوں نہیں آئیں گے جناب۔
ایسا چلتا ہوا کام بھلا کیوں چھوڑتے، لیکن وہ یہاں سے چلے گئے۔ کینٹ میں ہوٹل بنایا ہے۔ نہاری کھانی ہے تو وہاں جائیے۔‘‘ پھر وہ داہنے ہاتھ کی طرف جاتی گلی میں مُڑتے مُڑتے رُکے اور بولے۔ ’’سویرے مت جائیے۔ دوپہر میں شروع ہوتا ہے ہوٹل، رات تک کسی بھی وقت چلےجائیے۔‘‘ یہ کہہ کراُنھوں نے پَل بھر میری طرف دیکھا، جیسے پوچھتے ہوں، کوئی اور سوال؟ مجھے خاموش پاکرگلی میں مُڑگئے۔ دوپہر یا رات کو تو کراچی میں بھی نہاری کھائی جاسکتی ہے، اِس کے لیے ملتان آنے کی کیا ضرورت ہے۔ مَیں نے خُود سے کہا اور آگے بڑھ گیا۔ (جاری ہے)