بھاٹی گیٹ میں ماں بیٹی کے سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے کے مقدمے نے مدعیان نے ملزمان کو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لیے معاف کردیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے کیس کی سماعت کی۔
عدالت نے صلح کی بنیاد پر گرفتار 5 ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
مدعی نے عدالت میں بیان دیا کہ ہم ملزمان کے خلاف مزید کارروائی نہیں کرنا چاہتے، ملزمان کو بری یا مقدمے سے ڈسچارج کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔
اس سے قبل بھاٹی گیٹ لاہور میں ماں بیٹی کے سیوریج لائن میں گرنے کے معاملے میں مقدمے کے مدعی خاتون کے والد ساجد حسین سے سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھے لگوانے کا الزام سامنے آیا تھا۔
ورثا نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار زبردستی سادہ کاغذ پر انگوٹھا لگوا کر لے گئے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل بھاٹی گیٹ علاقے میں ماں اپنی بیٹی سمیت سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہوگئی تھی۔
انتظامیہ نے ابتداء میں واقعے کو دبانے اور میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور ماں بیٹی کے گرنے کی اطلاع کو جعلی قرار دیا۔
انتظامیہ کا موقف تھا کہ ایسا کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا، تکنیکی طور پر اس ہول میں کسی انسان کا ڈوبنا ممکن ہی نہیں۔
دوسری جانب پولیس نے بھی ابتدائی تفتیش میں واقعے کو میاں بیوی کے جھگڑے کا رنگ دینے کی کوشش کی، شوہر کا بیوی کے ساتھ تنازع اور سنگین الزامات کی رپورٹ بنا دی۔
شک کی بنیاد پر شوہر سمیت 3 افراد کو حراست میں بھی لیا بعد میں کہا کہ کسی کو حراست میں نہیں لیا۔
علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب نے پروجیکٹ ڈائریکٹر، مینجر اور کنسلٹنٹ کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔