امریکہ نے غزہ میں امن قائم کرنے کے بہانے دراصل اقوام متحدہ کے سامنے ایک نئی بین الاقوامی تنظیم کھڑی کر دی ہے۔ اس تنظیم کو ”بورڈ آف پیس“ کہا جا رہا ہے جس کی بالائی تین کمیٹیوں میں فلسطینیوں کو کسی بھی قسم کی نمائندگی نہیں دی گئی اور انہیں صرف ایک تکنیکی کمیٹی تک محدود کر دیا گیا ہے جس کی ذمہ داریاں محض بلدیاتی امور پر منحصر ہونگی۔ ابتدا میں تواس بورڈ کا مقصد غزہ کی بحالی کی نگرانی بتایا گیا تھا لیکن اب اس کے چارٹر میں غزہ کا نام تک موجود نہیں ہے۔ یہ بورڈ دراصل نوآبادیاتی طرز پر بنایا گیا ہے جس میں غزہ کا کنٹرول نہ صرف باہر کے لوگوں کے ہاتھ میں ہو گا بلکہ اس کے اختیارات کا دائرہ غزہ سے آگے بڑھا کر عالمی تنازعات کی ثالثی تک پھیلا دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کو بطور چیئرمین غیر معمولی اختیارات اور ویٹو پاور سے نوازا گیا ہے اور تمام تنازعات میں آخری اختیار بھی انہی کوہی سونپ دیا گیا ہے۔ رکن ممالک تین سالہ مدت کیلئے اس بورڈ کے ممبر ہونگے جن سے غزہ کی تعمیر نو کیلئے مالی تعاون کی توقع کی جائے گی جبکہ ایک ارب ڈالردینے والے ممالک کو مستقل رکنیت دے دی جائے گی۔ یہ تنظیم ٹرمپ کی مدتِ صدارت سے آگے بھی قائم رہے گی جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی ذات، خاندان اور قریبی دوستوں سے جڑی ہوئی ایسی تنظیم ان کے اقتدار کے بعد کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ مستقبل میں اس بورڈ کے ذریعے اپنے ایسے منصوبوں کیلئے بھی عالمی توثیق حاصل کرنا چاہ رہے ہیں جو ابھی تک منظر عام پر ہی نہیں آئے۔
یاد رہے کہ اپنے دوسرے دور اقتدار میں صدر ٹرمپ، اقوام متحدہ کے کئی اداروں سے علیحدہ ہو چکے ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ بورڈ آف پیس نہ صرف اقوام متحدہ کو کمزور کرنے کی سازش ہے بلکہ وہ اقوام متحدہ کو امریکہ کے تابع بھی رکھنا چاہتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے 1945ء میں اقوام متحدہ کے قیام کے ساتھ ہی اینگلو امریکن ممالک نے اس پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا شروع کر دی تھی، ان ممالک نے عالمی معیشت کو اپنے مفاد میں استوار کرنے کیلئے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور انٹرنیشنل ٹریڈ جیسے ادارے بنائے جن کا مقصد بین الاقوامی تجارت کو ریگولیٹ کرنے کیساتھ ساتھ تیسری دنیا کی معیشت کو بھی اپنے تابع بنانا تھا۔
دوسری طرف 1947ء میں ہی اقوام متحدہ کے ہوتے ہوئے 23امیر ملکوں نے الگ سے بیٹھ کر نہ صرفGATT کا معاہدہ کر لیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت کو بھی ریگولیٹ کرنا شروع کر دیا۔ اس معاہدے میں نہ تو تیسری دنیا کی تجارت اور نہ ہی نئی صنعتوں کے قیام کا کوئی ذکر تھا، اسی وجہ سے تیسری دنیا کے ممالک نے اس معاہدے کو ”امیر ملکوں کا کلب“ قرار دیا تھا۔ لیکن پھر تیسری دنیا کے ممالک اقوام متحدہ کے ممبر بننے شروع ہوئے اور 60ء کے عشرے میں ان ممالک کی تعداد 60سے بڑھ کر 99ہو گئی جس سے اقوام متحدہ کے اداروں پر امریکہ اور یورپین یونین کا تسلط ماند پڑ گیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کرنے والے حریت پسندوں کی حمایت کی اور مسلسل فلسطین کی ریاست کے حق میں قرادادیں منظور ہونے لگیں جنہیں امریکہ مسلسل مسترد کرتا رہا۔ اس کیساتھ ساتھ تیسری دنیا کے ممالک نے سوویت یونین کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کے تحت یونیکٹاڈ اور یونیڈوجیسے ادارے قائم کیے جن کا مقصد نہ صرف دنیا کے تجارتی معاہدوں کی نگرانی کرنا تھا بلکہ ان معاہدوں میں نابرابری اور ناہمواری ختم کرنا بھی شامل تھا۔
ان اداروں نے جی ایس پی کے نفاذ کا راستہ ہموار کیا اور تیسری دنیا کے ممالک کے قرض کے بوجھ کو کم کرنے کیلئے پیرس کلب بنانے میں مدد کی، یوں جی ایس پی کے تحت ہر سال تیسری دنیا کی ساٹھ بلین ڈالر کی برآمدات ترقی یافتہ ممالک کو بھیجی جانے لگیں اور اس کیساتھ ساتھ 1991ء تک تیسری دنیا کے پچاس غریب ملکوں کو 6.5بلین ڈالر کا قرضہ بھی دیا گیا۔ یونیڈو نے نارتھ اور ساؤتھ ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کو منتقل کرنے کیلئے کنسلٹیشن اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا کام شروع کر دیا۔ لیکن سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک نے نہ صرف ان اداروں کی امداد بند کر دی بلکہ انہیں آئی ایم اور ورلڈ بینک کے ماتحت کر دیا، یوں وہ ذمہ داریاں جو اقوام متحدہ کو سونپی گئی تھیں وہ دوبارہ برٹن ووڈز اور ڈبلیو ٹی او کو منتقل کر دی گئیں، اس طرح امریکہ اور یورپین ممالک نے مل کراقوام متحدہ کے زیراہتمام چلنے والے ان اداروں کو تباہ و برباد کر دیا جو تیسری دنیا کے ممالک کی حالتِ زار بہتر کرنے کا فریضہ ادا کر رہے تھے۔ صدر ٹرمپ کی اقوام متحدہ کو کمزور کرنے کی تازہ کوشش دراصل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور وہ اس موقع کا انتظار کر رہا تھا کہ کب امریکہ کو اقوام متحدہ کے بغیر عالمی ثالثی کا اختیار مل جائے تاکہ وہ اپنے عالمی تسلط کو آگے بڑھا سکے۔
اس بورڈ آف پیس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بورڈ تنازعات سے متاثرہ یا خطرے سے دوچار علاقوں میں استحکام پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ قابل اعتماد اور قانون کی حکمرانی کو بحال کرکے پائیدار امن کو بھی یقینی بنائے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پائیدار امن کی ذمہ داری ایک ایسے صدر کو دی جا رہی ہے جس نے حال ہی میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے صدر اور اس کی اہلیہ کو فوجی کارروائی کے ذریعے اغوا کیا ہوا ہے۔ اس بورڈ کے قیام اور جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج نے اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے چار سو پچاس سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ بورڈ مستقبل کے بارے میں کوئی قابل عمل ویژن پیش نہیں کرتا۔ حال ہی میں اداکار جیکی چن ایک ویڈیو دیکھ کر رو پڑے جس میں ایک بچے سے پوچھا گیا ”تم بڑے ہو کر کیا بنو گے؟“ اس نے بڑی بے نیازی سے جواب دیا ”ہمارے ہاں بچے بڑے نہیں ہوتے“۔ اس پر آنکھوں سے آنسو روکنا تو ایک مشکل امر ہے لیکن کیایہ منظر نامہ ”بورڈ آف پیس“ اور اس کے حواریوں کے دل کو جھنجھوڑ سکے گا۔