سیاست اپنے اصولوں پر کھڑے رہتے ہوئے بھی ’لچک‘ کا نام ہے، ایک دوسرے کے موقف سے اتفاق نہ کرتے ہوئے بھی برداشت کا نام ہے۔ پاکستان کی سیاست میں الیکشن کبھی شفاف نہیں ہوتے جسکی ایک بڑی وجہ وہ ’ متنازع بیانیہ‘ ہے جس کا محور یہ ہے کہ الیکشن جیتنے کے بعد بھی اقتدار ’مشروط‘ ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی76سالہ تاریخ میں کوئی بھی سویلین حکمران اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکا۔ کسی پارٹی نے پانچ سال پورے کیے بھی تو دووزیر اعظم کے ساتھ جسکی واضح مثال پی پی پی کا 2008ء سے 2013ء اور مسلم لیگ (ن) کا 2013ء سے2018ء کا دور حکومت ہے۔ جب یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو نااہل قرار دیکر اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا اور انکی جگہ راجہ پرویز اشرف (پی پی پی) اور شاہد خاقان عباسی (مسلم لیگ ن) کے ذریعے باقیماندہ مدت پوری کی گئی۔
عمران خان کو سیاست میں پہلی کامیابی 2006ء کے الیکشن میں اپنی آبائی نشست میانوالی سے حاصل ہوئی مگر یہ بھی مشروط تھی جس کا حال ایک بار تحریک انصاف کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل معراج محمد خان مرحوم نے مجھے سنایا تھا۔ وہ انتخابات جنرل مشرف مرحوم کے دور میں ہوئے۔’’ عمران اس وقت تک جنرل مشرف کے زبردست حامیوں میں سے تھے اور ہم دونوں اس ملاقات میں موجود تھے جس نے پہلی بار عمران کی آنکھیں کھول دیں جب جنرل احتشام ضمیر نے ہمیں بتایا کہ آپ کو اپنی ایک نشست مل جائے گی۔ شاید عمران کے ذہن میں اس وقت یہ تھا کہ مشرف صاحب اسے وزیراعظم بنائیں گے مگر ان کا واضح اشارہ گجرات کے چوہدریوں کی طرف تھا۔ وہ عمران اور مشرف کے تعلقات کا آخری دن ثابت ہوا‘‘۔
2018ء کے الیکشن سے پہلے سابق وزیراعظم نواز شریف ’پانامہ لیکس‘ کے نتیجے میں نااہل قرار دیے جاچکے تھے مگر اس سب کے باوجود مسلم لیگ(ن) کی مقبولیت میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی تھی لہٰذا الیکشن سے پہلے ہی بلوچستان میں مسلم لیگ کے اندر بغاوت کروا دی گئی اور ایک نئی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی معرض وجود میں آ گئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی مقبولیت مسلم لیگ ن اور پی پی پی کی حکومتوں کی ’بیڈ گورننس‘ کی وجہ سے بڑھ رہی تھی اور عوامی سطح پر لوگ عمران کو ایک تھرڈ آپشن کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ مگر عمران نے2018ء کے الیکشن کے بعد شاید وہی غلطی کی جو 1988ء کے انتخابات کے بعد سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے مشروط اقتدار لے کرکی تھی۔
عمران نے حکومت بنانے کیلئے دوسرے گروپس کے ساتھ سمجھوتہ کیا۔ جس کا پس منظر بہرحال سیاسی نہیں تھا۔عمران کو جلدہی اندازہ ہوگیا کہ وہ بھی بے نظیر اور نواز شریف کی طرح با اختیار وزیر اعظم نہیںہیں گوکہ بادی النظر میں ان کے اور سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے تعلقات بہت اچھے تھے۔ اکتوبر2022تک، بعض معاملات پر ان کے درمیان اختلاف رائے ہواتھا خاص طور پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے معاملے پر۔ خود پی ٹی آئی کے اندر بھی اس حوالے سے اختلاف ہمیشہ موجود رہا۔ بدقسمتی سے عمران خان کو اس وقت بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ بزدار کی حمایت کی وجہ سےان کی جماعت غیر مقبول ہورہی ہے پنجاب میں وہ مسلسل ضمنی الیکشن ہار رہے ہیں اوربلدیاتی الیکشن کرانے کو تیار نہیں۔
مگر ہمارے یہاں اقتدار کی کرسی اس وقت کمزور ہوجاتی ہے جب اختلافات ’ مقتدرہ‘ سے شروع ہوجائیں۔ عمران افغان تنازع اور طالبان کی نئی حکومت کے پس منظر میںISIکے سابق سربراہ جنرل فیض حمید کو دسمبر2021تک اسی پوزیشن پررکھنا چاہتے تھے جبکہ جنرل باجوہ ان کا تبادلہ چاہتے تھے۔ اسی کشمکش میں جنوری ،2022ءسے مارچ2022ءتک سویلین ملٹری تعلقات میں کشیدگی کی خبریں آنا شروع ہوگئیں۔ اور یوں بات عمران کے خلاف ‘عدم اعتماد‘ کی تحریک تک آ گئی۔ابتدا میں عمران اپنےاراکین اسمبلی کو یقین دلاتے رہے کہ’ سب ٹھیک ہے‘ مگر جب معاملات زیادہ سنجیدہ ہوگئے تو انہوں نے جنرل باجوہ سے ایک ملاقات میں ،جس میں کہتے ہیں کہ جنرل فیض بھی موجود تھے، یہ واضح کیا کہ اگر عدم اعتماد کی تحریک واپس لے لی جائے تو وہ مستعفی ہوکر اسمبلیاں تحلیل کرکے نئے انتخابات کرانے کوتیار ہیں۔ ذرائع کہتے ہیں یہ پیغام جب سابق وزیر اعظم نواز شریف کو دیا گیا تو وہ بھی اس بات پرتیار تھے مگر پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور جے یو آئی کے مولانا فضل الرحمن کے تحفظات تھے لہٰذا بات بگڑ گئی اور عمران کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوگئی۔ دلچسپ امریہ ہے کہ نواز شریف اس کے بعد بھی فوری الیکشن چاہتے تھے مگر اس وقت بھی ان دونوںرہنماؤں نے فوری الیکشن کی مخالفت کی۔ البتہ ان کا خیال تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے علاوہ کسی اور کو بنایا جائے۔ تاہم مقتدرہ کے حلقے شہباز شریف کے حق میں تھے۔ اس کے بعد جو16ماہ میں ہوا وہ عمران کو مقبولیت کی بلندی پر لے گیا مگر اس دوران اس سے ایک سنگین سیاسی غلطی پنجاب اور کے پی اسمبلیوں ،جہاں اس کی اکثریت تھی ،کو تحلیل کرنا تھا جس کے محرک ،کہتے ہیں عمران نہیں ،شاہ محمود قریشی تھے۔ یوں پی ٹی آئی اور عمران نے کھیل اپنے مخالفین کے ہاتھوں میں دے دیا۔
آج اس بات کو چارسال ہوگئے ہیں اب تو2024کے الیکشن کو بھی دوسال ہوگئے ہیں۔ تمام تر غلطیوں کے باوجود8فروری کا الیکشن بہرحال عمران اور پی ٹی آئی کے حق میں گیا جسکی بڑی وجہ شہباز شریف کے وہ16ماہ کا اقتدار تھا جس میں ڈالر اور مہنگائی کا مقابلہ رہاکہ کون اوپرجاتا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل تھے جسکی وجہ سے اس وقت نئے الیکشن پر اتفاق نہ ہونے دیا گیا ورنہ آج نہ جمہوریت کا یہ حال ہوتا نہ عدلیہ کا نہ ہی میڈیا کا اور شاید عمران کی مقبولیت بھی ایسی نہ ہوتی۔