گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر نے مارچ 1951 ء میں پنجاب کی صوبائی قانون ساز اسمبلی کیلئے انتخابات کا اعلان کیا ۔ یہ انتخاب 10مارچ 1951 ء کو منعقد ہونا تھا۔ انتخابات کا چیلنج سامنے آنے پر جماعت اسلامی میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔ سید ابوالاعلیٰ مودود ی زور و شور سے انتخابی عمل کی مخالفت کر چکے تھے۔ اس ضمن میں انہوں نے مثال دی تھی کہ اگر دودھ زہریلا ہو تو اسے کیسے ہی کیوں نا بلویا جائے اس پر آنے والا مکھن زہر سے پاک نہیں ہو سکتا۔ سید مودودی نے عوام کو زہر آلود دودھ سے تشبیہ دی تھی۔ انتخابات سے قبل اسکندر مرزا اور ایوب خان نے 8 مارچ 1951 ء کو پنڈی سازش کیس کا انکشاف کر کے ایک اور ہی چال چل دی۔ عوام مسلم لیگ کی کارکردگی سے سخت بیزار تھے۔ حزب اختلاف کی رہنمائی میاں افتخار الدین ، باچا خان اور حسین شہید سہروردی کی پاکستان عوامی لیگ کے ہاتھ میں تھی۔ سازش کیس کا اعلان ہونے کے بعد سرکار نواز اخبارات میں طویل اداریے لکھے گئے کہ سازشی عناصر کو سزائے موت دی جائے۔ تب پاکستان میں کسی کو شفاف عدالتی عمل کا علم تھا اور نہ سیاسی جوڑ توڑ کی باریکیوں کا دماغ تھا۔ جماعت اسلامی کے پاس پاکستان بھر میں کل ملا کے کوئی 500کے قریب صالح ارکان تھے اور سید مودودی کی تحریر و تقریر کا اثاثہ تھا۔ جیسے آج تحریک انصاف کے کارکنوں کو عمران خان کے بلند آہنگ بیانات کی وضاحت میں سر کھپانا پڑتا ہے۔ جماعت اسلامی کو بھی شخصی قیادت کے اس ناگزیر بحران کا سامنا تھا۔ کشمیر سے متعلق سید مودودی کے پشاور میں بیان پر تو جماعت اسلامی کو باقاعدہ رجعت اختیار کرنا پڑی۔مسئلہ یہ تھا کہ مغربی پاکستان میں مسلم اکثریت نمودار ہو چکی تھی۔ ووٹ کیلئے اسی مسلمان اکثریت سے رجوع کرنا تھا جسے جماعت اسلامی نے اپنے قیام کے بعد سے’ نسلی مسلمانوں‘ کا لقب دے رکھا تھا۔ اب انہی مسلمانوں سے ووٹ کیلئے درخواست کرنا تھی۔ بحث یہ تھی کہ کیا جماعت اسلامی، اسلام کی مبادیات سے بے بہرہ عوام الناس سے اپنے امیدواروں کیلئے ووٹ کا مطالبہ کرے گی یا نہیں۔ بالآخر بیچ کا راستہ نکالا گیا کہ جماعت اسلامی اپنے امیدواروں کا اعلان کرے گی۔ تاہم امیدوار اپنے لیے ووٹ کی بجائے جماعت اسلامی کے نام پر انتخابی مہم چلائے گا۔ آٹھ فیصد شرح خواندگی اور سیاسی طور پر پسماندہ پنجاب میں یہ توقع کرنا کہ ان کے بااثر مقامی لوگ اس امیدوار کی حمایت کریں گے جو ان سے اصالتاً ووٹ مانگنے کا روادار تک نہیں تھا۔ کارِدارد تھا۔ نتیجہ یہ کہ 192 نشستوں میں مسلم لیگ کے 145 امیدوار کامیاب ہوئے۔ جناح عوامی مسلم لیگ نے 32نشستیں حاصل کیں۔ آزاد پاکستان پارٹی کو ایک نشست ملی۔ اسلامی لیگ اور کمیونسٹ پارٹی کا کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوا۔ سولہ آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ مسلم لیگ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔اس انتخاب میں ڈپٹی کمشنر لاہورایس ایس جعفری نے’ جھرلو‘ کی اصطلاح متعارف کروائی۔ کمیونسٹ لیڈر مرزا محمد ابراہیم کے بیشتر حامی لوکو شیڈ کے ملازم تھے جن کے ہاتھوں پر کام کے دوران راکھ لگنا معمول کی با ت تھی۔ جعفری صاحب نے فیصلہ دیا کہ جس ووٹ پر انگلیوں کی سیاہی پائی جائے اسے مسترد کر دیا جائے۔ پہلی گنتی میں احمد سعید کرمانی 7759 ووٹ لے کر تیسری پوزیشن پر تھے۔ چنانچہ ایس ایس جعفری کو جھرلو پھیرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ آخری گنتی ہوئی تو احمد سعید کرمانی 13ووٹوں سے کامیاب قرار دیے جا چکے تھے۔ اس انتخاب میں جماعت اسلامی کا صرف ایک امیدوار کامیاب ہو سکا۔ جماعت اسلامی کو مرحوم خرم جاہ مراد نے گزشتہ صدی کے اواخر میں انتخابی سیاست کا یہ بنیادی نکتہ سجھایا کہ انتخابات اخلاقی کامیابی کیلئے نہیں بلکہ جیتنے کیلئے لڑے جاتے ہیں۔ یہ وہی دن تھے جب قاضی حسین احمد پاسبان اور شباب ملی کے بل پر پاکستان اسلامی فرنٹ کے جھنڈے تلے انتخابی معرکے میں اترے، فضا ’ظالمو قاضی آگیا‘ کے نعروں سے گونج اٹھی۔ اسلامی فرنٹ نے کل 3 نشستیں حاصل کیں۔ ہم باہر سے نظارہ کر رہے تھے اور ہمیں جماعت اسلامی کے نوجوان کارکنوں کے جوش و جذبے کا اندازہ ہو رہا تھا۔
دسمبر 2025 میں امجد سلیم علوی آسودہ خاک ہو گئے۔ علوی صاحب مولانا غلام رسول مہر کے فرزند تھے اور آپ کے نیازمند پر خاص شفقت فرماتے تھے۔ میں نے کئی برسوں سے ایک درخواست کر رکھی تھی کہ حضرت جنوری 1947 سے دسمبر 1947 تک کے ایک برس میں لکھے گئے مولانا مہر کے اداریے مرتب کر دیجئے۔ مولانا مہر 1927 سے یونینسٹ پارٹی کے نفس ناطقہ رہے تھے اور پنجاب کی سیاست ان کے ناخنوں میں بھری تھی۔ معتدل مزاج عالم اور تجزیہ کار تھے۔ علوی صاحب گزشتہ کئی برس سے قیل و قال کر رہے تھے۔ بالآخر وفات سے چند ہفتے قبل مجھے مسودے کا پہلا باب واٹس ایپ پر بھیج دیا۔ اب استحضار نہیں ہو رہا کہ فون پر بھی کچھ بات ہوئی تھی یا نہیں۔ مجھے عاشق حسین بٹالوی سے مولانا مہر کی چشم کشا خط و کتابت کے تناظر میں خیال تھا کہ یہ اداریے مولانا کی سیاسی فراست اور اس طوفانی عہد کے اتار چڑھائو کا مستند بیان ہوں گے۔ علوی صاحب کے اہل خانہ سے درخواست ہے کہ اگر انہیں اس مسودے کی کچھ خبر ہو تو بااعتماد ذرائع سے اشاعت کا بندوبست فرمائیں۔ یہ ہماری تاریخ کاایک نادر اثاثہ ہے۔ گزشتہ جولائی میں بنگلہ دیش میں عوامی ابھار کے بعد جماعت اسلامی کے پاکستانی احباب کی مسرت دیدنی تھی۔ وہاں 12 فروری کو عام انتخابات منعقد ہونا ہیں۔جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما شفیق الرحمن نے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ایک برس پہلے تک ہمیں کوئی سنجیدگی سے نہیں لے رہا تھا اور آج ہم عام انتخابات میں اکثریت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یہ بیان پڑھ کر مجھے 1993 کے موسم سرما میں قاضی حسین احمد کے نوجوان حامیوں کا جوش و خروش یاد آیا اور خیال کی رو 1951 ءمیں پنجاب کی صوبائی قانون ساز اسمبلی کے انتخاب کی طرف نکل گئی۔ جماعت اسلامی کے احباب کو کون سمجھائے کہ دنیا نظریاتی سیاست کے عہد سے بہت آگے نکل گئی۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی کامیابی کی امید نہیں کیونکہ وہاں محض بنگالی عوام کا فیصلہ نہیں آنا، اس میں کچھ عالمی قوتوں کو بھی بہت سا دخل ہے۔