• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کرنے کے فیصلے نے پاکستان کو عالمی سفارتکاری کی توجہ کا مرکز بنادیا ہے، عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم بورڈ آف پیس کے مجوزہ اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ بالخصوص غزہ کے حوالے سے اہم بریک تھرو متوقع ہے، عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگلے چند ماہ میں فلسطین تنازع کاایک ایساچونکادینے والا حل منظرعام پر آنے والا ہے جو عالمی طاقتوں کے مابین نئی صف بندیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کی منظوری کے بعدٹرمپ کےقائم کردہ بورڈ آف پیس کوغزہ امن منصوبے کے مختلف مراحل کی نگرانی کی عبوری ذمہ داری سنبھالنے کیلئے عالمی حمایت حاصل ہوگئی ہے، بورڈ کے چارٹر کے مطابق ٹرمپ کو غیر معینہ مدت تک تاحیات چیئرمین اوردیگر ممالک کو شمولیت کی دعوت دینے کا خصوصی اختیار حاصل ہے، اب تک تقریباً ساٹھ ممالک کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی جا چکی ہے جبکہ سرکاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان کو بانی ممبر کا درجہ حاصل ہوگیاہے۔ مزید برآں،مذکورہ قرارداد کے تحت بورڈ کوفلسطینی علاقے میں ایک عارضی امن فورس تعینات کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ بورڈ آف پیس کی زیرنگرانی غزہ میں امن و امان یقینی بنانے کیلئے فلسطینی نیشنل کمیٹی برائے انتظامِ غزہ کے قیام، ایک انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کی تعیناتی، اورجنگ زدہ علاقوں کی تعمیر نو کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے ایک ٹرسٹ فنڈکے قیام کی منظوری شامل ہے،منصوبے کے مطابق بین الاقوامی امن دستوں کی تعیناتی کے بعد اسرائیلی افواج کو غزہ کے بیشتر علاقوں سے انخلاء کرنا ہوگا، جبکہ بورڈ آف پیس کو مقامی فلسطینی پولیس کی تربیت اور معاونت کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ اب تک کی موصول ہونیوالی اطلاعات کے مطابق ٹرمپ کی دعوت پرپاکستان سمیت ارجنٹائن، بحرین، مصر، ہنگری، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، ازبکستان ، ویت نام وغیرہ بورڈ کا حصہ بن چکے ہیں جبکہ بڑے ممالک بشمول فرانس، جرمنی، روس، چین اور برطانیہ کو شامل نہیں کیا گیا ہے، یہ امر باعث ِ دلچسپی ہے کہ ٹرمپ نے ورلڈ اکنامک فورم میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کے تنقیدی خطاب کے بعد کینیڈا کو شمولیت کا دعوت نامہ واپس لے لیا ہے۔ تاریخی طور پاکستان اپنے قیام سے بھی پہلے فلسطینی مظلوم عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا آرہا ہے، قائداعظم کی قیادت میں تحریک ِ پاکستان کے دوران 23مارچ 1940ءکے عظیم الشان جلسے میںفلسطینی عوام کی حمایت میں قرارداد منظور کی گئی، آزادی کے بعد پاکستان نے مسئلہ فلسطین پر اصولی، واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دوریاستی حل یقینی بنایا جائے ، پاکستان نے ہمیشہ1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کی وکالت کی ہے۔پاکستان نے نہ صرف اقوام متحدہ اور او آئی سی اجلاسوں میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل حمایت کی بلکہ عرب اسرائیل جنگوں میں عملی طور پر مظلوموں کا ساتھ دیا۔پاکستان کیلئے فلسطین مسئلہ صرف جغرافیائی نہیں بلکہ عوامی جذبات، نظریاتی وابستگی اور انسانی ہمدردی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ایسے پس منظر میں پاکستان کیلئے کسی بھی نئے امن منصوبے میں شمولیت اختیار کرناایک حساس معاملہ ہے، تاہم میری نظر میں پاکستان کی جانب سے بورڈ آف پیس میں کلیدی کردار ادا کرنا وقت کا تقاضہ ہے،ایسے نازک موقع پر اگرپاکستان ہچکچاہت کا مظاہرہ کرتا ہے تو اسکے منفی اثرات سے ہم کسی صورت خود کو محفوظ نہیں رکھ سکیں گےجبکہ اگر فلسطینی عوام کے ساتھ دوستی نبھاتے ہوئے پاکستان فرنٹ پر آکر عملی کردار ادا کرے تووہ عالمی منظرنامہ میں ایک اہم ذمہ دار کھلاڑی کے طور پر ابھر سکتا ہے اورجنگ زدہ غزہ کی تعمیر نو میں عملی کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان ماضی میں اقوام متحدہ کےتحت مختلف امن مشن دستوں میں نمایاں خدمات انجام دے چکا ہے،یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ پاکستانی امن دستے دنیا کے جس ملک گئے ہیں وہاں کے عوام کے دِل جیت لیے ، اب اگر پاکستان کوغزہ میں انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں ممکنہ شرکت کا موقع ملتا ہے تو ہم ایک مرتبہ پھر اپنی پیشہ ورانہ عسکری صلاحیت کا لوہا مزید منواسکتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی صدر اب محض جنگ بندی سے آگے بڑھ کر پائیدار استحکام کی طرف قدم بڑھا نا چاہتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں عالمی سیاست میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں، مگر یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں سے جاری سفارتی جمود کو توڑنے کی کوشش کی ہے،انکےدورَ اقتدار میں ابراہام معاہدوں کے ذریعے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان سفارتی روابط قائم ہوئے، اب بورڈ آف پیس کے ذریعے غزہ میں عبوری استحکام اور تعمیرنو کا خاکہ پیش کرنا اس امر کی عکاسی کرتاہے کہ وہ فلسطین تنازع کو صرف عسکری زاویے سے نہیں بلکہ انتظامی اور اقتصادی استحکام کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ عالمی سیاست میں قیادت وہی مؤثر ثابت ہوتی ہے جو مشکل تنازعات میں پیش رفت کی ہمت رکھتی ہو،اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں بورڈ آف پیس ایک جرات مندانہ سفارتی اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے جو نہ صرف غزہ بلکہ عالمی امن پر دوررس اثرات مرتب کرے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو ناگزیر قرار دیا ہے،میں اس بات سے سوفیصدمتفق ہوں کہ آج ہمیں ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہوگا، پاکستان کو ایسا کردار ادا کرنا ہوگا جو فلسطینی عوام کے اعتماد کو کسی صورت مجروح نہ ہونے دے ۔تاہم جو عناصر پاکستان کی شمولیت کے فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں، انہیں میں یہی کہنا چاہوں گا کہ پاکستان میدان میں ہوگا تو ہی مثبت کردار ادا کرسکے گا، ہماری عدم موجودگی سے پیدا ہونے والا خلا ہوسکتا ہے کہ وہ قوتیں پُرکریں جو ہماری طرح فلسطین کے ساتھ نظریاتی وابستگی نہ رکھتی ہوں، اس وقت غزہ کی لہولہان سرزمین پاکستان کے بہادر سپوتوں کی راہ تَک رہی ہے جو انہیں دہائیوں سے جاری مظالم سے نجات دلواسکیں۔

تازہ ترین