• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماحولیاتی خدشات نظرانداز کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا پینٹاگون کو کوئلے سے بنی بجلی خریدنے کا حکم

فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی خریدنے کا حکم دے دیا ہے، اس اقدام کا مقصد امریکا میں کوئلے کی صنعت کو سہارا دینا ہے جبکہ یہ ایندھن مہنگا اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث سمجھا جاتا ہے۔

عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز جاری کیے گئے ایک صدارتی حکم نامے میں ٹرمپ نے محکمۂ دفاع کو ہدایت دی ہے کہ وہ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے ساتھ طویل المدتی معاہدے کرے اور کوئلے پر مبنی توانائی کے اثاثوں کو محفوظ رکھا جائے۔ 

حکم نامے میں بجلی کی مقدار یا مالی شرائط کی وضاحت نہیں کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں کوئلے کی صنعت سے وابستہ افراد سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ کوئلہ گھروں کو گرم، فیکٹریوں کو چلانے اور امریکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ محکمۂ توانائی شمالی کیرولائنا، اوہائیو، ویسٹ ورجینیا، کینٹکی اور ورجینیا میں واقع چھ کوئلہ بجلی گھروں کی بہتری کے لیے 175 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

واضح رہے کہ امریکا میں کوئلے کی پیداوار گزشتہ کئی دہائیوں سے کم ہو رہی ہے۔

2008ء سے 2023ء کے دوران پیداوار میں نصف سے زیادہ کمی واقع ہوئی جبکہ 2023ء میں کوئلہ امریکا کی مجموعی توانائی پیداوار کا صرف 16 فیصد رہا۔

اس کے باوجود صدر ٹرمپ امریکا میں ’خوبصورت، صاف کوئلہ‘ کے تصور کو فروغ دے رہے ہیں۔ 

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی توانائی کے محکمے نے کم از کم پانچ کوئلہ بجلی گھروں کو طے شدہ بندش کے باوجود کام جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔

ادھر، ٹینیسی ویلی اتھارٹی نے بھی دو کوئلہ بجلی گھروں کی مدتِ کار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جو پہلے 2035ء میں بند ہونے تھے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید