ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے منظرِ عام پر نہ آنے اور ان کی صحت سے متعلق میڈیا پر مختلف قسم کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
اب حال ہی میں ایران کے نائب وزیرِ خارجہ اسماعیل بقائی نے بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی سپریم لیڈر کی حالت سے متعلق میڈیا پر گردش کرتی تمام خبروں کی تردید کر دی ہے۔
اُنہوں نے کہا ہے کہ میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ مجتبیٰ خامنہ ای بالکل ٹھیک ہیں، مجھے یقین ہے کہ آپ پہلے ہی ان کا پیغام سن چکے ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد وہ عوام کو ایک اور پیغام دیں گے۔
واضح رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تہران پر کیے گئے فضائی حملوں کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔
اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں یا نہیں۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ میں سن رہا ہوں کہ شاید وہ زندہ نہیں اور اگر زندہ ہیں، تو انہیں اپنے ملک کے لیے دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے اور ہتھیار ڈال دینا چاہیے۔
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو مبینہ طور پر فضائی حملوں میں زخمی ہونے کے بعد علاج کے لیے روسی دارالحکومت ماسکو منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی ٹانگ کی سرجری کی گئی ہے۔