شرجیل میمن نے سابق رکن جماعت اسلامی عبدالرشید کے پولیس پر پتھراؤ کی ویڈیو چلادی اور کہا کہ یہ کونسا قانون ہے کہ آپ پولیس پر حملہ کرو اور کارروائی نہ ہو۔
سندھ اسمبلی میں خطاب میں شرجیل میمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی عبدالرشید پولیس کو پتھر مارنے کا کہہ رہے ہیں، دنیا کا کونسا قانون آپ کو پولیس کو پتھر مارنے کا کہتا تھا۔
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی آزاد اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے، لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ جب دل چاہے کوئی جماعت شہر کی مرکزی شاہراہ پر دھرنا دے دے۔
جماعت اسلامی کے شارع فیصل پر جلسے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات ہوئیں، ہفتے کےروز جماعت کے کارکن ریڈ زون میں داخل ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس پر پتھراؤ کیا تو پولیس کو مجبوراً شیلنگ کرنا پڑی، ہم چاہتے ہیں کہ بات چیت سے مسائل حل ہوں گے، جمہوریت میں احتجاج کا حق سب کو حاصل ہے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ احتجاج کی آڑ میں عوام کو تکلیف دینے کا اختیار کسی کو نہیں، انہوں نے ایوان میں احتجاج کیا کسی نے نہیں روکا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر سب کو روڈ بند کرنے کی اجازت دے دی تو عوام کہاں جائے گی، آپ نے شارع فیصل پر احتجاج کیا آپ نے اجازت نہیں لی۔
شرجیل میمن نے یہ بھی کہا کہ آپ کو جو احتجاج کرنا ہےکریں ہم آپ کو جگہ دے دیتے ہیں، اسمبلی کے باہر احتجاج کے دن بھی انتظامیہ ان سے رابطے میں تھی، انتظامیہ نے ان سے کہا ریڈ زون میں احتجاج نہ کریں۔