• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی اجلاس میں کارکنوں پر تشدد کا معاملہ اٹھادیا

سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے  کارکنوں پر تشدد کا معاملہ اٹھا دیا۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمد فاروق نے کہا کہ کراچی کے عوام پانی اور بجلی کا حق مانگنے آئے تھے، پانی مانگنے پر ہم پر ریاستی جبر کیا گیا۔

محمد فاروق نے کہا کہ مظاہرین ان کی دعوت پر اسمبلی آرہے تھے، گرفتار لوگوں کو رہا کریں مجھے گرفتار کریں۔

رکن صوبائی اسمبلی محمد فاروق کو جواب دیتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اگر سب کو روڈ بند کرنے کی اجازت دے دی تو عوام کہاں جائیں گے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے زیادتی کی گئی، شہرمیں 10جگہ دھرنے دیے بتائیں اس سے کیا فائدہ ہوا، انھوں نے کراچی کی خدمت نہیں کی لیکن تکلیف دینے کے لیے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ کراچی میں 14 فروری کو جماعت اسلامی کے کارکنان اور پولیس آمنے سامنے آگئے تھے، جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سندھ اسمبلی جانے کی کوشش کی تھی، پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی تھی۔

پولیس نے جماعت اسلامی کا ساؤنڈ سسٹم لگا ٹرک قبضے میں لے لیا تھا جبکہ 10 کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔

بعدازاں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کارکنان کو منتشر ہونے کی ہدایت کردی تھی۔

قومی خبریں سے مزید