• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قائمہ کمیٹی میں اراکین سے پولیس کی بدتمیزی، اپوزیشن دھرنے پر مکالمہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں کمیٹی اراکین سے پولیس کے رویے اور اپوزیشن دھرنے پر مکالمہ ہوا ہے۔

اسلام آباد میں خرم نواز کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا، جس میں رکن کمیٹی نبیل گبول نے کہا کہ اسلام آباد میں ایک ایس ایچ او نے شدید بدتمیزی کی ہے، بتایا جائے کہ اراکین پارلیمنٹ سے کس قسم کا خوف تھا؟

اس پر وزیر مملکت امور داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ایسے تو ایک ایم این اے نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی، نامعلوم مسلح افراد یہاں پر آئے ہیں اور وہ اندرجانا چاہتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے دھرنے والوں کو پراٹھے بھیجے، ویسے کہتے ہیں کھانا نہیں، دھرنے والے انکار کردیں کہ پراٹھے نہیں آئے، میرے پاس ویڈیوز ہیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے یہ بھی کہا کہ نامعلوم افراد کو یہاں لایا گیا جن کو گرفتار کیا گیا، پارلیمنٹ کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ کیمرے کہاں لگانے ہیں اورکہاں نہیں یہ فیصلہ ڈپٹی چیئرمین نے کرنا ہے، آئندہ کمیٹی میں چیئرمین سی ڈی اے آئیں گے، میری بات ہوئی ہے۔

نبیل گبول نے کہا کہ تمام ایم این ایز کو پارلیمنٹ سے باہر نکلنے نہیں دیا گیا، 68 کیمرے لگائے گئے جو بہت پرانے ہیں، چیئرمین سی ڈی اے ہماری کمیٹی میں نہیں آتے۔

چیئرمین کمیٹی خرم نواز نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے واقعہ سے متعلق سب آگاہ ہیں۔

خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ رات ساڑھے 12 بجے 2 لوگ میرے دروازے پر آئے ہیں، اس معاملے پر سختی کی جائے۔

قومی خبریں سے مزید