• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت: کم عمر ڈرائیور کی ٹکر سے نوجوان جاں بحق، پوسٹمارٹم رپورٹ میں سنگین انکشافات

—فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا 

بھارتی شہر دہلی کے علاقے دوارکا میں پیش آنے والے ایک خوفناک ٹریفک حادثے میں 23 سالہ نوجوان کی موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سامنے آ گئی۔ 

بھارتی میڈیا کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 23 سالہ ساحل دھانیشرا کی موت شدید اندرونی خون بہنے (ہیمرج) اور دماغی چوٹ کے باعث ہوئی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ساحل کے سر کے بائیں حصے میں کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، سر کی کھال کے نیچے خون جم گیا تھا جبکہ دماغ میں شدید سوجن اور سب ڈورل ہیمیٹوما پایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق متوفی کے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا، سینے کی ہڈیوں (چوتھی، پانچویں اور چھٹی پسلی) میں فریکچر اور دونوں پھیپھڑوں کے اوپر تقریباً 100 ملی لیٹر خون موجود تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موت کی وجہ ’کرینیو سیریبرل انجری کے باعث ہیمرجک شاک‘ درج کی گئی ہے، منہ کے اندر بھی جما ہوا خون پایا گیا ہے جو شدید چوٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ حادثہ 3 فروری کی صبح پیش آیا تھا جب ایک بااثر خاندان کا بگڑا ہوا 17 سالہ نابالغ لڑکا گاڑی چلا رہا تھا جس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں تھا۔

حادثے کے دوران آس پاس کھڑی کچھ گاڑیاں بھی متاثر ہوئی تھیں۔

نابالغ ڈرائیور کو پہلے آبزرویشن ہوم بھیجا گیا تاہم 10 فروری کو جوینائل جسٹس بورڈ نے دسویں جماعت کے امتحانی بورڈ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے عبوری ضمانت دے دی۔

حادثے کا شکار ہونے والے نوجوان کی والدہ نے الزام لگایا ہے کہ حادثے میں ملوث گاڑی پر پہلے سے 13 چالان تھے، جن میں زیادہ تر اوور اسپیڈنگ کے تھے۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ حادثے کے بعد ان کا بیٹا تقریباً 10 منٹ تک مدد کے لیے چیختا رہا مگر اسے بروقت اسپتال نہیں لے جایا گیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید