• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرینکلن روز ویلٹ نے 1933ء میں امریکا کے 32ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو امریکی معیشت تاریخ کی بدترین کساد بازاری سے گزر رہی تھی۔ اپنی افتتاحی تقریر میں روز ویلٹ نے امریکی عوام سے نیو ڈیل کا وعدہ کیا۔ نیو ڈیل معاشی اور سیاسی اصلاحات کا ایک جامع پروگرام تھا جس کے ذریعے مالیاتی ضمانتوں، ٹیکس میں کمی، کسانوں کیلئے مراعات اور بڑے تعمیراتی منصوبے شامل تھے۔ نیو ڈیل کی مدد سے امریکا رفتہ رفتہ معاشی بحران سے سنبھلنے لگا۔ تاہم کسی کو معلوم نہیں تھا کہ روز ویلٹ کے عہد صدارت میں دوسری عالمی جنگ شروع ہو جائے گی اور دسمبر 1941ء میں امریکا کو خواہی نخواہی عالمی جنگ میں شامل ہونا پڑے گا۔

اس جنگ کے نتیجے میں روز ویلٹ کا عہدِ صدارت طول کھینچ گیا اور وہ امریکی تاریخ میں چوتھی بار صدارتی انتخاب لڑنے والا واحد امریکی صدر ٹھہرا۔ 1944 ء کی انتخابی مہم میں ڈیموکریٹک پارٹی کو اندازہ تھا کہ 39برس کی عمر میں فالج کا شکار ہونے والا فرینکلن روز ویلٹ شاید چوتھی بار صدارتی مدت مکمل نہیں کر سکے گا۔ چنانچہ نائب صدر کے امیدوار ہیری ٹرومین کو خصوصی اہمیت حاصل ہو گئی۔ نائب صدر ہونے کے باوجود ٹرومین روز ویلٹ کے فیصلہ ساز حلقے کا حصہ نہیں تھا۔ 82 روز کی نائب صدارت میں ٹرومین نے صرف دو مرتبہ روز ویلٹ سے ملاقات کی۔ اسے مین ہٹن پراجیکٹ کا علم تک نہیں تھا جس کے تحت ایٹم بم تیار کیا جا رہا تھا۔ 12اپریل 1945ء کو ٹرومین سینٹ کا اجلاس ختم کر کے سپیکر کے کمرے میں شغل شام کی تیاری کر رہا تھا کہ اچانک اسے الینوا روزویلٹ کا پیغام ملا کہ فوراً وائٹ ہائوس پہنچے۔ وائٹ ہائوس میں روزویلٹ کی بیوی نے اسے بتایا کہ دماغی شریان پھٹنے سے صدر روزویلٹ کا انتقال ہو گیا ہے۔ ٹرومین نے معصومیت سے پوچھا۔ ’کیا میں آپ کے لیے کچھ کر سکتا ہوں‘۔ سرد گرم چشیدہ الینوا روزویلٹ نے برجستہ کہا۔ ’تم یہ بتائو کہ ہم تمہارے لیے کیا کر سکتے ہیں کیونکہ اب یہ مصیبت تمہارے گلے میں آن پڑی ہے‘۔ ہیری ٹرومین نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے میز پر لکڑی کا ایک بڑا ٹکڑا رکھ دیا جس پر لکھا تھا The Buck Stops here. اس مختصر جملے میں واضح اور سادہ پیغام تھا کہ ’صدر اپنے تمام فیصلوں اور اقدامات کیلئے حتمی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور کسی غلطی کی صورت میں دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کا قائل نہیں ‘۔ ٹرومین نے بعد از جنگ نئے عالمی نظام کے خدوخال مرتب کیے۔ ٹرومین ڈاکٹرائن کے ذریعے دنیا بھر میں آمرانہ بالخصوص اشتراکی قوتوں کے خلاف بند باندھنے کا اعلان کیا گویا سرد جنگ کی بنیاد رکھی۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم پھینک کر مشرق بعید میں عالمی جنگ ختم کی۔ یورپ کی تعمیر نو کے لیے مارشل پلان کا اعلان کیا۔ ٹرومین کا امریکا عالمی معاملات سے الگ تھلگ رہنے کی پالیسی ترک کر کے سپرپاور کے طور پر دنیا بھر میں سرگرم مداخلت کی پالیسی اپنا رہا تھا۔ ٹرومین کا قائدانہ فیصلوں کی ذمہ داری نبھانے کا اعلان ہمارے تاریخی تناظر میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے ملک میں سیاسی رہنمائوں نے قید و بند، جلاوطنی سے موت تک کون سی مصیبت نہیں دیکھی لیکن قوم کی رہنمائی کی ذمہ داری سے کبھی منہ نہیں پھیرا۔ سیاسی رہنما زمین سے اُگنے والی گھاس کی طرح ہیں۔ بدترین خشک سالی میں بظاہر بنجر نظر آنے والی زمین پر جیسے ہی بارش کا چھینٹا پڑتا ہے، زیرزمین تہوں میں پوشیدہ گھاس کے اکھوے سر نکالتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ویران زمینوں پر ہریالی نمودار ہو جاتی ہے۔

حال ہی میں محترم فرحت اللہ بابر نے بینظیر بھٹو شہید کی شخصیت پر ایک شاندار کتاب لکھی ہے۔ محترمہ بینظیر شہید کی تیس سالہ سیاسی زندگی میں کون سے طوفان نہیں گزرے۔ فرحت صاحب کی کتاب دراصل محترمہ کی دوسری وزارت عظمیٰ سے 2007ء تک کے واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔ جلاوطنی کے اس عذاب میں فوجی آمریت کی رعونت سے تنی ہوئی رسی پر چلنے جیسی مہارت کا اس سے خوبصورت بیان ممکن نہیں۔ محترمہ کو دھمکیاں دی گئیں۔ ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ ترغیب اور لالچ کے جال بچھائے گئے۔ آمریت کا المیہ ہی یہ ہے کہ حکومت اور ریاست میں حد فاصل ختم ہو جاتی ہے۔ عدالت، قانون اور بیوروکریسی سمیت تمام ریاستی قوتیں حتیٰ کہ ذرائع ابلاغ اور نادیدہ عالمی قوتیں بھی عوام کے خلاف صف آرا ہو جاتی ہیں۔ بینظیر شہید نے ایک حقیقی مدبر کی طرح ان تمام رکاوٹوں اور مشکلات کا مقابلہ کیا لیکن جمہوریت کی بحالی کے نصب العین اور اپنے عوام سے باندھے ہوئے عہدسے روگردانی نہیں کی۔ اس کے مقابلے میں پاکستان پر مسلط ہونے والی آمریتوں کا جائزہ لیجیے۔ کبھی مشرقی پاکستان میں منعم خان اور کالا باغ کا طوطی بولتا تھا۔ مشرقی پاکستان میں ضلعی سطح کا ایک سیاستدان اور مغربی پاکستان کا ایک نودولتیا وڈیرہ قوم کی قسمت کے فیصلے کرنے پر مامور تھے۔ ایوان اقتدار سے نکلنے کے بعد دونوں کی آواز سنائی نہیں دی۔ مارچ 1969ء کے بعد ایوب خان پانچ برس زندہ رہے لیکن کبھی کسی قومی مسئلے پر زبان نہیں کھولی۔ یحییٰ خان کو آخری سانس تک احساس ہی نہیں ہو ا کہ ان کی ہوس اقتدار نے ملک دولخت کیا ہے۔ ضیا الحق کے مرغان دست آموز بستی لال کمال کے بعد سے ایسے فرنٹ ہوئے کہ اب کوئی ضیا الحق کے مشن کا نام نہیں لیتا۔ پرویز مشرف مستعفی ہونے کے بعد سولہ برس زندہ رہے۔ ایک سیاسی جماعت بھی بنائی۔ بینظیر شہید کی جوتیوں میں پائوں رکھ کے 24 مارچ 2013 کو کراچی ایئرپورٹ پر اترے تو چند درجن حامیوں کے جم غفیر میں ان کی سیاسی قامت کا تانگہ زمیں بوس ہو گیا۔ آج کے پاکستان میں بھی بہت سے ’سکائی لیب‘ سیاسی فضائوں میں پرواز کر رہے ہیں۔ کوئی نئے صوبوں کا سندیسہ لا رہا ہے تو کوئی ملکی معیشت سنوارنے کے منصوبے بغل میں دبائے پھر رہا ہے۔ سیاسی رہنما وہ غزال ہے جو غبار ایام میں رہبری کرتے ہوئے قوم کو تربت مجنوں کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہ وہ وحشت ہے جو بند کمروں کی نرسری میں پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے لیے میان قاتل و خنجر لہو کی بازی لگانا پڑتی ہے۔

تازہ ترین