آج پاکستان بھر میں یکم رمضان المبارک ہے، میں آپ سب کو اس بابرکت مہینے کی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں ، بہت خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں دھرتی کامالک اس بابرکت ماہ میں روحانیت، عبادات اور خداترسی کی دولت سے مالامال کرتاہے۔ہر سال میری کوشش ہوتی ہے کہ میں نہ صرف رمضان المبارک کے روزوں کا خود بھی اہتمام کروں بلکہ اپنے اردگرد بسنے والوں کیلئے بھی آسانیاں پیدا کروں۔ میری نظر میں یہ مہینہ محض عبادات کا نہیں بلکہ کردار سازی، احساسِ ذمہ داری اور انسان دوستی کی عملی تربیت کا مہینہ ہے۔میں ماضی میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کرچکا ہوں کہ دنیا کے تمام مذاہب کی قدرِ مشترک روزے رکھنا ہے، ہر مذہب دین دھرم میں روحانی بلندی اور اندرونی سکون کا حصول روزے کے بغیر ممکن نہیں،اسلام میں رمضان المبارک کا پورا مہینہ روزوں کیلئے مخصوص کیا گیا ہےتو دنیا کے قدیم ترین ہندو دھرم میں ایکادشی، نَوَراتری اور دیگر مقدس مواقع پر ورت(روزہ) رکھا جاتا ہے، ہندومت میں گناہوں سے کفارے اور منت، نذر، شکرانے کے روزے عام ہیں جبکہ ہندو خواتین اپنے شوہروں کی عمر درازی کیلئے بھی روزہ رکھتی ہیں۔بائبل مقدس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چالیس دن اور چالیس رات روزے رکھنے کا تذکرہ ملتا ہے،ہندوستان کے دھارمک مذاہب بشمول بُدھ مت اور جین مت میں بھی سخت شرائط کے ساتھ روزے رکھنے کے احکامات ہیں۔تمام مذاہب کے پیروکاروں کو ایک ہی درس دیا گیا ہے کہ روزہ جسم کی بھوک سے زیادہ روح کی تربیت کا نام ہے، روزے کا اصل مقصد بھوک پیاس نہیں بلکہ اپنے اندرصبر، برداشت، درگزر، بھائی چارہ اور معاشرے کے کمزور طبقات کے دُکھ درد کا احساس پیدا کرنا ہے۔دنیا بھر میں مذہبی تہواروں کے موقع پرایک دوسرے کو خوشیوں میں شریک کرنے کی کوششیں شروع ہوجاتی ہیںہے۔ کرسمس ہو یا دیوالی، لوگوں کی سہولت کیلئےقیمتوں میںنمایاں کمی کی جاتی ہے اور کاروباری ادارے اسپیشل ڈسکاؤنٹس کا اعلان کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ماہِ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مہنگائی کا طوفان اُٹھ کھڑا ہوتا ہے ،اشیائے خور و نوش کی قیمتیںآسمان سے باتیں کرنے لگ جاتی ہیں، ہمارے اپنے ملک میں کاشت ہونے والے پھلوں اور کھجورکی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوجاتا ہے، عام آدمی قوتِ خرید نہ ہونے کے باعث احساسِ محرومی میں مبتلا ہو جاتا ہے،استحصالی عناصر کی جانب سے ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور چوربازاری جیسے قابلِ مذمت ہتھکنڈے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عام ہوجاتے ہیں، افطار پارٹیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اور نمود و نمائش کا رجحان اصل روحانیت پر غالب آجاتا ہے، ہر ایک کے ذہن پر ایک ہی مقصد سوار ہوجاتا ہے کہ عید آرہی ہے اور ہمیں جائز ناجائز ہر طریقے سے بس عید دھوم دھام سے منانی ہے۔ میرا دِل اپنے آس پاس ایسے مایوس کُن حالات دیکھ کرخون کے آنسو روتا ہے کہ ہم اپنے مالک کے رمضان المبار ک کی صورت میں مقدس تحفے کواتنی بے دردی اور بے حِسی سے ضائع کرنے کی جسارت کیوں کررہے ہیں؟ ہم ہر سال خدا کے بندوں کی خدمت کی بجائے اپنی جیبیں بھرنے میں کیوں مصروف ہوجاتے ہیں؟ کیا سال کے باقی گیارہ ماہ بزنس کرنے کیلئے کافی نہیں جو ہم رمضان کے بابرکت مہینے کو بھی کاروبار بنالیتے ہیں؟ زکوٰۃ خدا کی امانت ہے مگر رمضان کا مقدس مہینہ شروع ہوتے ہی پیشہ ور بھکاریوں کی یلغارشروع ہوجاتی ہے، ہمارے معاشرے کا اصل سفیدپوش مستحق طبقہ محروم رہ جاتا ہے اور ہماری سڑکوں، چوراہوں اور گھروں سے زکوٰۃکی بڑی رقم پیشہ ور بھکاری ہڑپ کرجاتے ہیں،اگر ہمارا خدا کی راہ میں دیا پیسہ دیانت داری سے حقیقی ضرورت مندوں تک پہنچ جائے تو معاشرے میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ کسی کی مدد صرف پیسے سے نہیں بلکہ اپنی تعلیم، ہنر ، تربیت اور نالج شیئرنگ سے بھی کی جاسکتی ہے، اگر ہم کاروبار کرتے ہیں تو رمضان المبارک میں رضاکارانہ طور پر قیمتوں میںکمی کرکے مالک کو راضی کرسکتے ہیں،اگر ہم سرکاری ملازم ہیں توہم روزے کو کام چوری کا جواز بنانے کی بجائےمحنت سے اپنے پیشہ ورانہ امور سرانجام دیں، اگر ہم تدریس کے پیشہ سے وابستہ ہیں توہم فیس میں کمی کرکے نئی نسل کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کریں،اگر ہم ہنر مند ہیں تو کسی بے روزگار کو بے لوث ہنر سکھا کر اسے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دیں، اگر ہم کسی شعبے کے ماہر ہیں تو ہم رمضان المبار ک میں کسی عبادت گاہ/فلاحی ادارے کی تعمیرو ترقی میں اپنی صلاحیتوں کا استعمال کریں۔ میری نظر میں یہی وہ عملی اقدامات ہیں جو رمضان المبارک کو حقیقی معنوں میں بابرکت بناتے ہیں۔روزہ تو نفس کو قابو میں کرنے کا نام ہے،تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ رمضان میں برداشت بڑھنے کے بجائے چڑچڑاہٹ، لڑائی جھگڑے اور بدتمیزی میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔سڑکوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر ایک دوسرے کے ساتھ نازیبا زبان، بدکلامی اور غیراخلاقی رویہ کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے لیکن ہم "روزہ لگ رہا ہے" کہہ کر جسٹیفائی کرنے کی کی کوشش کرتے ہیں۔روزے جیسی مقدس عبادت اخلاص کا تقاضا کرتی ہے لیکن ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر مہنگی پرتعیش افطار پارٹیوں کی تصاویر شیئر کرنا اصل روحانیت سے دوری کی علامت بن چکا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ رمضان ہمیں انسانیت کا سبق دیتا ہے، ایک ایسا زبردست سبق جو ہرقسم کی حدود سے بالاتر ہے، میری نظر میں رمضان ایک مہینہ نہیں، ایک مقدس فریضہ سرانجام دینے کا نام ہے،ماہِ رمضان یاد ِدلاتا ہے کہ بخیل پر خدا کی لعنت ہے اور فضول خرچی کرنے والا شیطان کابھائی ہے۔ آئیں، آج یکم رمضان المبارک کے موقع پر عہد کریں کہ ہم اس سال ماہِ مقدس مالک کے بتائے راستے کے مطابق بسر کریں گے، ہم جھوٹ، رشوت اور بددیانتی سے دور رہیں گے، ہم رمضان المبارک میں قناعت اور اخوت کو فروغ دیں گے، ہم اپنے آس پاس دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کریں گے، ہم رمضان المبارک کو کاروباری مہینہ نہیں بلکہ رحمتوں اور برکتوں کے حصول کا مہینہ سمجھیں گے،مجھے یقین ہے کہ اگر ہم یہ اوصاف اپنانے میں کامیاب ہوگئے تو یقیناً سال کے باقی گیارہ مہینے بھی مالک کی بے انتہا رحمتوں اور برکتوں کے سائے تلےگزریں گے۔لیکن اگر کوئی رمضان میں روزہ رکھ کر بھی جھوٹ، گالم گلوچ،رشوت خوری، ذخیرہ اندوزی ، فراڈ، چوری ڈکیتی اور دیگر سماجی برائیوں سے باز نہ آسکے تومجھے افسوس سے یہ کہنا پڑے گا کہ مالک کو کسی کے بھوکے پیاسے رہنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔