جب بھی تیز بارش ہوتی ہے میں عمر رفتہ کو آواز دیتا ہوں ۔اس موسم میں میرے گھر بیٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میں اپنی چھوٹی کار اسٹارٹ کرتا اور گھنے درختوں والی بستیوں کی طرف نکل جاتا اور یوں دو بارشوں کی جلترنگ میرے کانوں میں رس گھولتی۔ ایک وہ بارش جو ونڈ اسکرین سے ٹکراتی دکھائی اور سنائی دے رہی ہوتی اور دوسری درختوں کے نیچے سے گزرتے ہوئے بارش کے تھپیڑے ایک جھنکار کی صورت میں کار کی چھت سے ٹکراتے ۔ اس دور میں بھی میری آواز اتنی ہی بری تھی جتنی آج ہے مگر میں مستی کے عالم میں کوئی گیت گنگنانے لگتا۔ جہاں سڑک کے کناروں پر پانی کھڑا نظر آتا، میں اس پر سے گاڑی ضرور گزارتا ۔ صرف یہ احتیاط کرتا کہ ادھر کوئی پیدل یا موٹر سائیکل سوار نہ ہو۔ اگر قریب سے کوئی کار گزر رہی ہوتی تو میں رفتار تیز کر دیتا جس سے پانی کے تھپڑے دوسری کار سے ٹکراتے اور میرے پاس سے گزرتی ہوئی کاروں کے ٹائروں سے لپٹی پانی کی موجیں بھی میری ونڈو کے شیشوں سے ٹکرا کر کوئی گیت گنگنانے لگتیں۔تیز بارش اور اس کی وجہ سے افراتفری کے عالم میں چلتے ہوئے وائپرز سے سڑک نظروں سے اوجھل ہو جاتی تھی ۔ جب گہرے بادلوں سے رات کا سماں پیدا ہو جاتا تو سامنے کچھ نظر نہ آتا چنانچہ میں سڑک کے کنارے کسی گھنے درخت کے نیچے چاروں انڈیکیٹرز آن کر کے موسم کی اداؤں کا لطف اٹھانے لگتا تھا۔ اس دوران بہت سے ڈرائیور جو کار سے پہلے رکشہ یا ٹرک چلایا کرتے تھے، اندھا دھند قریب سے گزرتے جسکے نتیجے میں میری چھوٹی سی کار بھی مستی کے عالم میں جھومنے لگتی۔ بعض دفعہ اس کے’’ مدہوش ‘‘ہو کر گرنے کا اندیشہ بھی پیدا ہو جاتا تھا۔ میں اب اپنی بے سری آواز کا والیم آن کر کے ٹیپ آن کر دیتا ۔چاروں طرف گھنگھور گھٹائیں، آسمان سے برستے ہوئے مینہ کی موسیقی اور گیت ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے۔ مجھے لگتا میں کسی اور جہان میں ہوں ۔ مجھے یہ موسم مست کر دیتا اور خود کو ان لمحوں میں ایک ان دیکھی دنیا میں محسوس کرتا۔میری موسم کے ساتھ وارفتگی کی داستان یہیں ختم نہیں ہو جاتی ، بلکہ جس زمانے میںمیرے پاس کار نہیں، اسکوٹر ہوا کرتا تھا ، وہی مشہور زمانہ اسکوٹر جس کی گمشدگی پر میں نے کالم لکھا اور میرے اس ’’مصرع طرح ‘‘پر انتظار حسین ، ابن انشاء اور اُس دور کے دوسرے بڑے ادیبوں نے غزلیں اور نظمیں کہیں۔ بارش کے موسم میں اپنے اسکوٹر کو ’’میدانِ کارزار‘‘ میں اتار دیتا تھا ، میدان کارزار میں یوں کہ قریب سے گزرتی ہوئی چھوٹی بڑی تمام گاڑیاں مجھے پانی اور شرم سے شرابور کر دیتیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ پھسلن کی وجہ سے حادثات کا بھی اندیشہ ہوتا۔ اندیشہ کیا ، یہ مواقع کئی بار آئے ۔ ایک دفعہ تو مزنگ چونگی کے چوک میں پھسلا تو اسکوٹر سمیت دور تک پھسلتا چلا گیا۔ اطراف کی چاروں سڑکوں سے کوئی گاڑی مجھ پر سے نہیں گزری ، بس کچھ رگڑیں مجھے اور کچھ اسکوٹر کو آئیں، اللہ اللہ خیر سلا۔ اس کے باوجود یار لوگ اس پیر زادے کی کرامتوں کے قائل نہیں ہوتے ۔ اس کے علاوہ تیز بارش کی چپیڑ یں میرے گالوں کو سرخ کر دیتیں، میری آنکھیں چندھیا جاتیں، پہنے ہوئے کپڑے صرف نچوڑ نے جو گے رہ جاتے ، جوتوں میں پانی بھر جاتا تو پھر کیا شوق کا تو کوئی مول نہیں ہوتا۔اس سے بھی بہت پہلے جب میں پانچ سال کا بچہ ہوتا تھا، بارش مجھ پر وارفتگی کا عالم طاری کر دیتی تھی۔ میں وزیر آباد کی گلیوں میں دوسرے بچوں کے ساتھ ’’کالیاں اِٹاں کالے روڑمینہ ورسا دے زور و زور‘‘گاتا ہوتا اور کبھی کبھی گھر کی چھت پر چلا جاتا ، جس سے یوں لگتا آسمان کے بادل میرے زیادہ قریب ہو گئے ہیں ۔ ہماری گلی کے ایک کونے میں’’ لک“ ( تارکول ) کا خالی ڈرم پڑا ہوتا تھا جو تیز بارش میں نکونک ہو جاتا تھا۔ ایک دن میں نے اپنے جیسے ایک بچے کو اس سوئمنگ پول میں غوطہ لگاتے اور پھر سر باہر نکال کر خوش ہوتے دیکھا ، مگر میں نے اس کی پیروی نہیں کی کہ مجھے غوطے سے غوطے آنے لگتے تھے۔ اور اب جبکہ میرے پاس اچھی کار بھی ہے، بارش بھی ہے مگر میں حسرت سے اس موسم کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا رہتا ہوں۔ بس زیادہ سے زیادہ ڈرائیور سے کہتا ہوں کہ گاڑی گھنے درختوں میں گھری کسی بستی کی جانب لے چلو اور میں پچھلی سیٹ پر بیٹھا صرف یہ سوچ کر خوش ہوتا ہوں کہ میں نے گئے وقت کو آواز دی تھی اور وہ میری دلجوئی کو لوٹ آیا ہے۔