• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اتفاق ایسا تھا کہ سردی خامشی سے وجود میں اتر رہی تھی اور مجھے دو ہفتوں کے دوران لاہور اور کراچی کے ادبی میلوں میں بیماری کے باوجود حصہ لینا پڑا کہ اپنے گزشتہ لوگوں کو یاد کرنے کیلئے ہم چند لوگ ہی رہ گئے ہیں۔ بھلے نصیب زہرہ آپا کے کہ ان کے وجود کے موجود ہونے پر لگتا ہے جلسہ بھرا بھرا اور بامعنی ہے۔ فیض فیسٹیول ہو کہ کوئی اور ایسا ہی اہم موقع، گزشتہ پندرہ دن انہی مصروفیات اور محبتوں کو یاد کر کے گزر گئے۔ ایک بہت ہی اہم موقع تھا کہ صوفی صاحب کو یاد کیا گیا۔’’ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ‘‘ یہ ہمارے بچپن سے ہمارے بچوں کے بچپن میں ہر گھر، ہر اسکول میں پڑھا جاتا تھا۔ کئی بچے تو صوفی صاحب کو دیکھ کر کہتے ’’اماں دیکھیں ٹوٹ بٹوٹ جا رہا ہے‘‘ صوفی صاحب یہ سن کر ہنس دیتے اور اکثر بچوں کو گود میں اٹھا لیتے اور پیار کرتے۔ آج کے نصاب نے ساری پرانی کلاسیکی بچوں کی نظموں کو بھلا دیا ہے۔

اب چونکہ نصاب اور متن میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ بچوں کو ذہنی طور پر کیا قبول ہو گا کہ اس سال اسکول اور کالج میں لیپ ٹاپ تقسیم ہو رہے ہیں۔ کچھ بچے اس کو نعمت سمجھ کر قبول کر رہے ہیں اور کچھ اب تک کھلونا ہی سمجھ رہے ہیں۔

ان دو ہفتوں کے سفر کے دوران کسی بھی ائیر لائن میں اخبار پڑھنے کو نہیں ملا کہ لوگوں کو کہا کہ اپنے اپنے موبائل سے کام لو اور خبریں تلاش کرو۔بہرحال مجھ ایسے ایک بزرگ شخص کے ہاتھ میں اخبار دیکھا اور اس کی سرخی نے مائل کیا کہ ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سال میں ہماری معیشت نیچے سے نیچے جاتی رہی ہے اور ہمارے سربراہوں نے دوسرے ملکوںکے سربراہوں کی آمد و استقبال کے لئے اتنے ریڈ کارپٹ بچھائے اور خود بھی دنیا کے سربراہوں سے ملاقات میں یہ نکتہ اٹھاتے رہے کہ ساری دنیا کی معیشت سے پاکستان کی بڑی معیشت ہو گی کہ ہزاروں لاکھوں روزی کما رہے ہونگے۔ مگر ایک آنکھ کھول کر دیکھا کہ ابھی تک نہ حکومت کو پائیداری ملی ہے اور نہ وہ لمحہ آیا کہ سینکڑوں لوگ جو زنداں میں رکھے گئے۔ ان کے نام کے ساتھ کس نے نعرہ بلند کیا ہے ۔ معلوم نہیں انکے گھروں میں دن کیسے اور رات کیسے گزر رہی ہے۔ یوں لگتا ہےپاکستان ہے اور دہشت گرد ہیں روزانہ کے لحاظ سے دہشت گردوں کی لاشیں اور امن کے دعوے، پھر وہی دن رات، سڑکوں کا یہ حال ہے کہ ہر روز کئی کئی بسیں ، سڑکوں کے نامکمل ہونے کے باعث پوری کی پوری بس لاش بن جاتی ہے۔ ہر روز سہاگنیں اجڑتی ہیں اور زندگی بھی رواں رہتی ہے۔

اب ایک اور نقشہ ، اس مشرقی پاکستان کا کہ جس نے 65برس پہلے پاکستان سے الگ ہو کر، الگ ملک بنایا۔ وہاں بھی دو خواتین کی سیاست ملک تباہ کرتی رہی۔ آخر کو جو خاتون سینکڑوں طلبا کو جان سے مار کر خوش ہوتی رہی۔ وہ اب انڈیا کی پناہ میں ہے اور دوسری خاتون جیل سے باہر چند روز زندہ رہ کر دنیا سےچلی گئی۔ اب سیاست نے دیکھا کہ بڑی سنجیدگی سے الیکشن ہوئے۔ ایک دن کے اندر اندر ووٹ گنے گئے، اگلے دن اسمبلی قائم ہو گئی، یونس صاحب جو عارضی صدرتھے، وہ اپنے آپ چلے گئے اور خالدہ کےبیٹےطارق رحمان،ممبران سے حلف لے رہے تھے۔ ڈھاکہ کی سڑکوں پر زندگی رواں دواں تھی۔ نہ کوئی عداوت نہ جھگڑا۔ ہر چند کہنے کو جمہوری ملکوں میں آئے دن ادل بدل ہوتی رہتی ہے۔ مگر پاکستان کا تو نصیب ہی نرالا ہے۔ ہر موضوع پر کہا جاتا ہے۔ یہ قدم دنیا بھر کو پسند آئے گا۔ ہماری لیبر کو ان ملکوں کی زبان نہیں آتی اور ہمیں ان کی ، تو کام کیسے چلے کہ آدھے تو واپس گھروں کو آ جاتے ہیں پھر وہی کرنے لگتے ہیں جو خاندانی پیشہ تھا ۔ کہنے کو بہت نئے ادارے بنائے گئے ہیں۔ مگر وہاں کون لوگ نئے رنگ لا رہے ہیں۔ انجینئر اور مارکیٹ ماسٹر بن رہے ہیں۔

اب ہمارے سامنےغزہ سے لے کر کشمیر تک، سب موضوعاتی امن کمیٹیاں عالمی سطح پر بن گئی ہیں۔ مگر اسرائیل نے مغربی کنارے پر بھی قبضہ ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم سے تو افغانستان کی مجہول حکومت ہی نہیں سنبھل رہی۔ روز ملبے سے لاشیں نکال لانا اور پھر تازہ واردات، کبھی ہمیں بلوچستان کو سنبھالنا ہے اور کبھی پشاور کے اردگرد جرگے اوران کے فیصلے، قانون کہاںہے؟ پاکستان کی ساری حکومت، جرگوں کی سیاست پر منحصر ہے۔ ان حالات میں ایک کھیل جو طوفان، خاص کر جوانوں میں ا ٹھاتا تھا۔ یعنی کرکٹ، وہ بھی نیلام ہونے لگا ہے کمرشل ہونا اور ایسے ذلیل ہونا جیسے انڈیا کے ہاتھوں،ٹی 20- میں ملک کی بے عزتی ۔ لیپا پوتی سے کام نہیں چلے گا۔

اب آگیا رمضان، زور کس چیز پر ہو گا۔ روزانہ افطار کہاں اچھا اور کس وزیر کے سائے میں ملے گا۔ یہ کوئی انوکھا تجربہ نہیں ہو گا۔ اب تو سارے ریسٹورنٹ اور ہوٹلز، افطار اور سحر تک کے سامان لیے جا گتے رہیںگے۔ یہ کیوں نہیں ہوتا کہ ہر علاقے کا بڑا افطار کا مرکز ہوٹل نہیں مسجد کو بنائیں تو امام کا وقار بھی بلند ہو گا اور محلہ کے مکین بھی خود کو معزز سمجھیںگے۔ لوگ معترض ہونگے کہ ہوٹلوں جیسے مراکز اور سات آٹھ سو افراد کے افطار کیلئے مسجد میں جگہ کہاں۔ بس کہنے کی باتیں ہیں۔ جو حکومت عوامی نمائندے اور اسمبلیوں کے ممبران کرنا چاہیں وہ سب ہو سکتا ہے ہمارے نوجوانوں کے سپرد یہ ذمہ داری کرکے دیکھیں۔ مثال آپ کے سامنے ہے۔ کراچی کے نوجوان ہر گاڑی اور ہر گزرتے شخص کیلئے کس محبت سے افطار تقسیم کرتے ہیں۔ یاد رکھ اے غافل کہ یہ بھی ممکنات میں سے ہے۔

تازہ ترین