• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ اسمبلی اجلاس: ایم کیو ایم رکن کے ساتھی اراکین پر قتل کی دھمکیوں کے الزامات

اسکرین گریب
اسکرین گریب 

سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم کیو ایم رکن رانا شوکت نے اپنے ساتھی اراکین پر قتل کی دھکیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اسپیکر سندھ اسمبلی نے پولیس کو ایوان میں طلب کرلیا۔ 

ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی رانا شوکت نے اپنے ساتھی شارق جمال پر قتل کی دھمکیاں دینے کا الزام عائد  کرتے ہوئے کہا کہ مجھے شارق جمال نے دھمکی دی ہے۔

رانا شوکت نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ پرانی پی ایس پی کا ایم این اے ہے،  اقبال محسود نے بھی مجھے دھمکی دی ہے، انہوں نے کہا کہ میں خالد مقبول گروپ سے تعلق رکھتا ہوں، مجھے دھمکی دی گئی کہ باہر نکلو دیکھتے ہیں۔

ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی رانا شوکت نے کہا کہ میں گزارش کرتا ہوں کہ میں اسمبلی ممبر ہوں، متعلقہ تھانے کو بلا کر میری ایف آئی آر داخل کروائی جائے، دوسری صورت میں اس ایوان سے استعفیٰ دوں گا۔

رانا شوکت نے کہا کہ میرا جنم سندھ کی دھرتی میں ہوا ہے، استعفیٰ دوں تو اس کے بعد دیکھتا ہوں کون میرا کیا کر سکتا ہے، ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ میرے دفتر آیا تالے توڑے، یہ ایوان سے باہر کا مسئلہ تھا میں اسمبلی میں اس پر نہیں بولا۔

صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ اسمبلی کے اندر اس قسم کی بات ہونا مناسب نہیں ہے، اسپیکر ہاؤس کا کسٹوڈین ہے، آپ رولنگ دیں، آپ ایس ایچ او کو بھی کال کر سکتے ہیں، ایس ایچ او ایریا کا انچارج ہوتا ہے۔

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ اگر ہم اپنے معزز ممبر کو بھی نہ بچا سکے تو پھر کیا ہوگا، اس قسم کی اسٹیٹمنٹ بڑی شرمندگی کی بات ہے، میں فاضل ممبر کی سیکیورٹی کا انتظام  کرتا ہوں، ان کو کوئی مسئلہ ہوا تو جن کے نام لیے ان کے خلاف کارروائی کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ معاملہ حل ہو جائے تو ٹھیک ہے، شوکت راجپوت بیان پولیس کے سامنے ریکارڈ کروانا چاہیں تو ان کی مرضی ہے، میری درخواست ہے ایک یا دو گھنٹے کے لیے ممبر شپ معطل کریں۔

اسپیکر سندھ اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ علی خورشیدی صاحب آپ اجلاس ختم ہونے سے پہلے معاملہ حل کریں، بصورت دیگر میں ان کی ممبر شپ معطل کروں گا، قوانین پڑھیں پھر بات کریں، ایس ایس پی اور ایس ایچ او کو بلائیں اور ان کا بیان ریکارڈ کریں۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  پارٹی گروپنگ باہر کا معاملہ ہے، کسی ممبر کو جان سے مارنے کی دھمکی ملنے کے بعد نہ بچا سکیں تو کیا ہوگا، ہمیں ممبران کی حفاظت کرنا ہوگی۔

اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ درخواست ہے اس موضوع کو معطل کرکے روٹین کی کارروائی جاری رکھیں، ایک گھنٹہ دے دیں معاملہ حل ہوجائے گا، اس مسئلے کو حل کرلیتے ہیں، یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔

بعدازاں اجلاس کل دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

قومی خبریں سے مزید