• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بہت شکریہ ہمارے قارئین نے ان دنوں کی تحریروں پر حیرت کا اظہارکیا کہ دبئی میں حرف و دانش کی آبیاری کیلئے اتنے سلیقے سے کام ہورہا ہے۔اکثرنے کہا کہ آپ نے ہمیں وہ دبئی دکھایا ہے جو عام طور پر نہیں دکھایا جاتا۔ ہم تو دبئی کو صرف شاپنگ مال اور اونچی بلڈنگوں کا شہر سمجھتے رہے۔میں تو جب بھی دبئی آیا تو یہی جاننا چاہا کہ کون ہے جس نے دبئی کا ماسٹر پلان بنایا تھا اور کون ہے جو اسے آگے لے جا رہا ہے اُسی پلان کے مطابق۔

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں ،پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ افطار پر بیٹھنے کا دن۔ رحمتوں برکتوں مغفرتوں کو اپنے دامن میں بھرنے اور اس مہینے میں عبادت کی روح اور حکمت تک پہنچنے کا موقع ۔عام طور پر تو ہم اتوار کو دوپہر کے کھانے پر بیٹھنے کی دعوت دیتے رہے ہیں۔ رمضان المبارک میں یہی نشست افطار کے وقت ہو سکتی ہے۔

ہم دبئی میں ایک کھلی شارع سے گزر رہے ہیں۔ ایک افطار کے لیے عازم سفر ہیں ۔چوراہوں پر رضاکار کھڑے ہیں ہر گاڑی کے مسافروں کو افطار کا پیکیج دے رہے ہیں ۔کراچی یادآرہا ہے وہاں سر راہ چٹائیاں بچھا کر افطاری کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ چو راہوں پر اسی طرح بعض دردمند شہری پانی کی بوتل پر کھجوریں چپکا کے بانٹ رہے ہوتے ہیں۔ رمضان کا مبارک مہینہ امت مسلمہ کو ایثار ،تعاون، فلاح پر آمادہ کرتا ہے۔ زکوۃ عطیات کا موسم بھی یہی ہے۔ پاکستان کے ہر شہر میں چیرٹی کی بہتات ہے۔ کراچی میں تو خاص طور پر بہت سے ادارے صحت تعلیم کی مفت سہولتوں اور غربت کے خاتمے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ ان کو سب سے زیادہ زر تعاون شہر قائد سے ہی ملتا ہے۔

میں تو یہی سوچ رہا ہوں کہ پاکستان سے صرف دو گھنٹے کی پرواز پر اتنی کشادہ اور لاکھوں کتابوں سے مزین لائبریریاں موجود ہیں ۔پھر تعلیم اعلیٰ اور پرائمری دونوں کیلئے دبئی میں بہت منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ۔کئی امریکی اور یورپی یونیورسٹیوں کے کیمپس یہاں کھل چکے ہیں۔ دبئی کی اپنی درسگاہیں بھی تعلیمی معیارکیلئے قابل تحسین قرار دی جا رہی ہیں ۔ہمارے حکمرانوں موجود اور معزول بیوروکریٹس ،ملٹری افسروں ریٹائرڈ اور حاضر سروس سب کے یہاں آشیانے ہیں۔ ان کیلئے تو ممکن ہے تعلیم صحت اور کتب بینی کیلئے لائبریریوں اور عجائب گھروں کی کوئی اہمیت نہ ہو لیکن یہاں بہت سے شعراء اسکالرز بھی آتے ہیں اخبار نویس بھی۔ میڈیا ہاؤسز بھی ہیں ۔تو وہ ان لائبریریوں کا چرچا کیوں نہیں کرتے۔ اب عرب دنیا خاص طور پر حاکم دبئی اپنی میراث کے تحفظ کیلئے اپنی ثقافت کو اجاگر کرنےکیلئے جو منصوبے مکمل کر رہے ہیں ۔ان کی آگاہی پاکستان کے عوام تک کیوں نہیں پہنچتی۔ حکمران تو جان بوجھ کر ان شعبوں کو نظر انداز کرتے ہوں گے کیونکہ ہمارے حکمران طبقے سردار، جاگیردار، ٹھیکے دار تو نہیں چاہتے کہ ہماری اکثریت کا حرف و دانش سے کوئی گہرا رابطہ ہو۔ ہمارے عوام مزدور کسانوں کی اولادیں اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہو سکیں۔

پھر یہ بھی سوچنا پڑتا ہے کہ کیا جمہوریت آزادی تحریر و تقریر، پارلیمنٹ، خوشحالی کی راہ میں رکاوٹیں ہیں۔ کیا پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ کے ارکان ایسی قانون سازی نہیں کر سکتے جس سے عام پاکستانیوں کو، انکی اولادوں کو زندگی کی آسانیاں میسر آ سکیں۔ ہمارے شہروں میں آبادی بہت تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔ شہر بھی کسی نظم کے بغیر پھیل رہے ہیں۔زندگی کی سہولتیں، پینے کا صاف پانی، کچرے کو ٹھکانے لگانے اور نکاسی آب کا اہتمام،ٹرانسپورٹ،بیماریوں کے علاج کی سہولتیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ شہروں میں آلودگی بڑھ رہی ہے۔ فطرت کا حسن ماند پڑ رہا ہے۔ ہمارے تاجروں، صنعت کاروں، جاگیرداروں، ٹھیکے داروں کا بھی دبئی دوسرا گھر ہےوہ یہاں آتے ہیں ۔یہاں کی سہولتوں سے مستفید ہوتے ہیں لیکن اپنے وطن میں ان سہولتوں کی فراہمی کا نہیں سوچتے ہیں۔

کیا ہمارے حکمران اور اشرافیہ کبھی یہ خیال نہیں کرتے کہ ہمارے شہروں میں بھی خوشحالی ہو۔پائیدار ترقی ہو۔ ہمارا معاشرہ جدید ٹیکنالوجی میں آگے آگے ہو۔یہاں تصور یہی ہے بلکہ دبئی 2030 وژن کی بنیاد یہ ہے کہ یہ شہر دوسرے شہروں سے ہر شعبے میں 10 سال آگے رہے ۔قیمتوں کے استحکام میںزندگی کی آسانیوں کی فراہمی میںٹرانسپورٹ کی دستیابی میں کبھی پیچھے نہ ہو۔اس وژن کی بنیاد کے چار ستون بتائے جا رہے ہیں1 ۔آگے بڑھتا معاشرہ 2آگے بڑھتی معیشت۔3۔آگے بڑھتی سفارت کاری۔ 4۔آگے بڑھتا ایکو سسٹم۔

ہم ایسا کیوں نہیں سوچ سکتے ہم ان چار ستونوں کو کیوں نہیں اپنا سکتے۔ ایک تمنا یہ بھی نظر آتی ہےکہ مستقبل کیلئے آمادہ قوم ایک مضبوط اور مستحکم مستقبل کی تعمیر ایک عزم ایک ہدف اور ایک منزل قرار دیا جاتا ہے ۔

یہاں رہتے ہر غیر ملکی اور مقامی کی صلاحیتیں بروئے کار لانےکیلئے منصوبے بنائے جاتے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ ہم ایک ایسی فعال متحرک سوسائٹی تخلیق کر رہے ہیںجہاں تمام رہائشی سرخرو ہوں اپنے احساسات کو فروغ دیں۔ ایک ایسا مضبوط اور مستحکم انفراسٹرکچر قائم کیا جائے جہاں اپنی ثقافت ادب اور میراث پر بھی فخر کیا جائے۔ جہاں جدید اسلام کا بول بالا ہو۔ محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام بڑے شہروں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ انسانیت نے 20 صدیوں میں جو بھی شہری، معاشی، سماجی اورعمرانی تجربات کیے ہیں ان کا نچوڑان کا خاصہ ان شہروں میں جلوہ گر ہو۔

ریگزاروں میں پھول کھلانے کا، دشت میں شہر بسانے کا ایک عالمگیر معاشرہ قائم کرنے کا تجربہ جاری ہے۔ جہاں مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف رنگوں، مختلف تہذیبوں تمدنوں کے لوگ مل جل کر معیشی معیشت کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہوں اپنے شہریوں کو ایک اعلیٰ معیار کی زندگی بسر کرنے کیلئے جو بھی ناگزیر ہو وہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ ذمہ داری کا احساس حکام کو بھی ہے ۔حاکموں کو بھی اور شہریوں کو بھی۔ اب تو یہ اپنی جڑیں بھی ڈھونڈ رہے ہیں اپنے ورثے بھی محفوظ کر رہے ہیں۔

ہماری تو صدیاں ان سے کہیں زیادہ ہیں ہمارے پاس تو موہنجودڑو میں پانچ ہزار سال مہر گڑھ میں 8ہزار سال اور کہیں کہیں 10ہزار سال پہلے کی تہذیب اور تمدن کے آثار بھی دریافت ہوئے ہیں ۔ہمارے مقامی تو بہت زیادہ جفاکش محنتی اور بہت بصیرت رکھنے والے ہیں۔ یہاں کے مقامیوں کی طرح کام سے گریز نہیں کرتے۔ ہمارے پاس سونا،تانبا، قیمتی پتھر اور اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت موجود ہے۔ہم مستقبل کے خوشحال شہر کا وژن کیوں نہیں دے سکتے۔ ہم بھی پاکستان وژن 2047 کا ماسٹر پلان کیوں نہیں بنا سکتے۔دبئی نے ہم سے بہت کچھ سیکھا اب ہم دبئی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ۔

تازہ ترین