کچھ فلسفی ایسے ہیں جن کا اگر آپ صرف نام ہی درست لے لیں تو لوگ آپ کو بہت پڑھا لکھا سمجھتے ہیں جیسے رینے ڈیکارٹ، فریڈرک نطشے، ایمانوئیل کانٹ، آرتھر شوپنہاور، لُڈوگ وِٹگنسٹائن اور اگر کوئی مردِ عاقل اِن میں سے کسی کے بارے گفتگو کرے یا کوئی تحریر لکھ دے تو کیا ہی کہنے۔ میرا ایک دوست اکثر مجھ سے فلسفیوں کے بارے میں اِس قسم کے سوالات پوچھتا رہتا ہے کہ ڈیکارٹ کی وجہ شہرت کیا ہے، شوپنہار کا فلسفہ چند سطروں میں بیان کردو، وغیرہ۔ میں اُس سے کہتا ہوں کہ تم اِن لوگوں کی کتابیں پڑھ کیوں نہیں لیتے تو وہ نہایت دیانتداری سے جواب دیتا ہے کہ ایک تو اُس کے پاس وقت نہیں اور دوسرا اسے کتابیں پڑھ کر ’ککھ‘ سمجھ نہیں آئیگی۔ ”ویسے بھی میں نے فلسفے میں پی ایچ ڈی نہیں کرنی، فقط اپنی ایک دوست کو متاثر کرنا ہے۔“ یوں تو اِس بُرہانِ قاطع کے بعد مزید سوال پوچھنا فضول ہی ہوتا ہے لیکن پھر بھی میں نے پوچھ لیا کہ کیا وہ فلسفہ پڑھ رہی ہے تو دوست نے جواب دیا کہ ”نہیں، مگر اسے بہت مزا آتا ہے جب میں گفتگو کے دوران اسے بتاتا ہوں کہ کانٹ نے یہ کہا اور وِٹگنسٹائن نے فلاں کتاب لکھی، وہ کہتی ہے کہ یہ تو بالکل آرگنازمز جیسا ہے“۔ یہاں میں نے اپنے دوست کی تصحیح کرنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ یہ بات کرتے وقت اُس کی اپنی بھی آنکھیں بند ہو رہی تھیں اور وہ یکدم سرور کی کیفیت میں چلا گیا تھا۔
اب فلسفے کی بات چل ہی نکلی تو کیوں نہ کانٹ پر طبع آزمائی کر لی جائے، یہ وہ فلسفی ہے جس کا نام آپ بلاکھٹکے کسی بھی محفل میں لے سکتے ہیں، فقط اُس کی تصنیف ”تنقید عقل محض“ کا نام معلوم ہونا چاہیے، پڑھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اوّل تو کسی نے پڑھی نہیں ہوگی اور پڑھی ہوگی تو سمجھ میں نہیں آئی ہوگی،مجھے بھی نہیں آئی تھی۔ اِس کتاب میں کانٹ نے وہ فلسفہ پیش کیا جس نے حقیقت، سچائی، مابعدالطبیعات، زمان و مکان اور عقل کی حدود سے متعلق بحث کا رُخ ہمیشہ کیلئے تبدیل کر دیا۔ کانٹ سے پہلے فلسفیوں کے دو بڑے گروہ تھے جو آپس میں لڑ رہے تھے: Empiricists کا ماننا تھا کہ انسانی دماغ پیدائش کے وقت ایک خالی سلیٹ کی طرح ہوتا ہے، ہم جو کچھ بھی سیکھتے ہیں، وہ اپنے حواس (دیکھنے، سننے، چھونے) کے تجربے سے سیکھتے ہیں۔ دوسری طرف عقلیت پسندوں کا دعویٰ تھا کہ ہمارے دماغ میں پیدائش سے ہی کچھ عقل اور سچائیاں موجود ہوتی ہیں لہٰذا ہمیں دنیا کو سمجھنےکیلئےصرف تجربے کی نہیں بلکہ خالص عقل کی ضرورت ہے۔ کانٹ نے اِن دونوں کی چُھٹی کروا دی۔ کانٹ نے کہا کہ ہمارے ذہن کی کچھ حدود ہیں اور اِس کا ایک سانچہ ہے جس میں زمان و مکان، علت و معلول اور پیمائش اور مقدار کے تصورات پہلے سے ہی بھر دیے گئے ہیں، انسانی ذہن کا وجود اِن تصورات کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی بچہ پیدائش کے وقت آنکھوں پر سبز رنگ کاچشمہ پہن کر پیدا ہو، ہمارے ذہن نے بھی اِن طبعی تصورات کا ’چشمہ‘ پہلے دن سے چڑھا رکھا ہے۔ کائنات کی ’حقیقت‘ اِن تصورات سے چَھن کر ہم تک پہنچتی ہے، ہمارا ذہن اُس حقیقت کو زمان و مکان، علت و معلول اور مقدار کی چھاننی سے گزار کر ہم تک پہنچاتا ہے لہٰذا ہم کبھی جان ہی نہیں سکتے کہ اصل میں کائنات کی حقیقت کیا ہے۔ کانٹ نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا: Phenomena (مظاہر)، یہ وہ دنیا ہے جو ہمیں نظر آتی ہے، جسے ہم محسوس کرتے ہیں اور جو ہمارے دماغ کے سانچوں یا چشمے سے گزر کر ہم تک پہنچتی ہے۔ اور Noumena (حقیقت)، یہ وہ دنیا ہے جو حقیقت میں جیسی ہے (The thing-in-itself) مگر جو ہم تک کبھی نہیں پہنچ سکتی۔ کانٹ کے اِس فلسفے نے اُس زمانے کے پادریوں کی مشکل آسان کر دی کیونکہ اِس سے خدا کے وجود کا مسئلہ سمجھنا آسان ہو گیا، خدا چونکہ مابعدالطبعیاتی تصور ہے اور ہمارے ذہن کی رسائی وہاں تک ممکن نہیں لہٰذا ہم خدا کے وجود کو محض عقل سلیم سے نہیں سمجھ سکتے۔ بس ہو گئی چھُٹی۔سیف الدین سیف نے کہا تھا ”سیف اندازِ بیاں بات بدل دیتا ہے.... ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں۔“ کانٹ نے جو بات کی بلاشبہ اُس نے مغربی فلسفیوں کے دماغ کی چولیں ہلا کر رکھ دیں مگر اِس سے ملتی جلتی باتیں ہمیں مشرقی فلاسفہ کے ہاں بھی ملتی ہیں۔ مثلاً ناگرجنا، جس نے دو سچائیوں کا نظریہ پیش کیا۔ ایک، دنیاوی سچ، یہ وہ سچ ہے جسے ہم روزمرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں۔ جیسے کانٹ کا Phenomena۔ دوسرا، حقیقی سچ، یہ وہ سچ ہے جو انسان کے بنائے ہوئے ناموں اور تصورات سے پاک ہے، جیسے کانٹ کا Noumena۔ اسی طرح مجھے امام غزالی کی ایک مثال بہت پسند تھی جس میں وہ بتاتے ہیں کہ حقیقت کو جاننا ممکن نہیں، جیسے ہم خواب کی حالت میں سمجھتے ہیں کہ وہی حقیقت ہے اور جب بیدار ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو ایک خواب تھا۔ یہ بات بدھ مت کے فلسفی واسوبندھو نے دو ہزار سال پہلے کہہ دی تھی کہ کیا یہ زندگی ایک خواب ہے؟ اُس کا ماننا تھا کہ باہر کی دنیا دراصل ہمارے اندر کی دنیا (ذہن) کا ہی عکس ہے۔ جب ہم رات کو خواب دیکھتے ہیں تو خواب میں بھاگتے ہوئے تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے، آگ سے تپش لگتی ہے، اُس وقت وہ خواب ہمیں سو فیصد حقیقی لگتا ہے حالانکہ باہر کوئی آگ یا خطرہ نہیںہوتا،سب کچھ ہمارے دماغ کے اندر ہو رہا ہوتا ہے۔واسوبندھو کے مطابق جاگتی ہوئی زندگی کا میکانزم بھی بالکل ایسا ہی ہے، ہمارا ذہن ہی اس حقیقت کو تعمیر کر رہا ہوتا ہے جو ہم محسوس کرتے ہیں۔مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بات اِس قدر سنجیدہ ہو جائے گی، بہرکیف جب میں نے اپنے دوست کو یہ سب بتایا کہ دیکھو، واسوبندھو اور کانٹ کی باتوں میں کیسی حیرت انگیز مماثلت ہے تو وہ میری طرف یوں دیکھنے لگا جیسے میں نے اُس سے ادھار واپس مانگ لیا ہو۔ اُس نے ایک لمبی سانس لی اور بولا، ”یار، مجھے تم سے ایم فل کا مقالہ نہیں لکھوانا، مجھے صرف ایک دو ایسی لائنیں چاہیے تھیں جو میں رات کو اُسے واٹس ایپ کر سکوں اور وہ سمجھے کہ میں کتنا گہرا اور حساس انسان ہوں۔ یہ تم مجھے مظاہر اور حقیقت کے چکر میں کہاں لے گئے؟ اگر میں نے اُس سے یہ کہا کہ ہماری زندگی ایک خواب ہے اور تم صرف میرے دماغ کی پیداوار ہو تو وہ مجھے بلاک کر دے گی۔ وہ ویسے بھی مجھ پر شک کرتی ہے کہ میں ’ہائی‘ رہتا ہوں۔“ اِس گفتگو کے بعد میں نے اُس سے ہاتھ ملا کر رخصت لی اور جاتے ہوئے کہا کہ بیٹا تمہیں واسوبندھو کی نہیں بلکہ کاما سوترا کے مصنف واتسیاین کی ضرورت ہے۔