• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور کے تاریخی دروازے: مغلیہ طرزِ تعمیر کے شاہ کار

بابر سلیم خان، سلامت پورہ، لاہور

لاہور ’’پاکستان کا دِل‘‘ ہونے کے ساتھ ایک تاریخی و ثقافتی حیثیت کا حامل شہر بھی ہے۔ کسی زمانے میں یہ شہر دو سے ڈھائی مربّع میل تک محدود تھا اور اس کے گرد ایک فصیل موجود تھی۔ تب اس شہر کے 13 داخلی دروازے تھے، جو مختلف سمتوں میں واقع تھے۔ 

انگریزوں کے دورِ حکومت میں ان میں سے کئی دروازوں کو مسمار کردیا گیا، جن میں سے بعض کو دوبارہ تعمیر کیا گیا اور مُغلیہ طرزِ تعمیر کا منہ بولتا ثبوت یہ ابواب تاریخ کے کُھلے اوراق کی مانند آج بھی قائم ودائم ہیں۔ گرچہ مرورِ زمانہ نے ان کی شان و شوکت میں کچھ کمی کردی ہے، مگر ان کی پہچان آج بھی برقرار ہے۔ ذیل میں ان دروازوں کا مختصراً تذکرہ کیا جا رہا ہے۔

(1) روشنائی دروازہ: یہ دروازہ بادشاہی مسجد اور قلعۂ لاہور کے درمیان واقع ہے۔ یہ کسی دَور میں شہر میں داخل ہونے کا مرکزی راستہ تھا اور وزراء، اُمراء، درباری اور اہم شخصیات اسی دروازے سے گزر کر شہر میں داخل ہوتی تھیں۔ چوں کہ رات کے وقت یہاں روشنی کا خاص بندوبست کیا جاتا تھا، اس لیے اسے ’’روشنائی یا روشنی دروازہ‘‘کہاجاتا تھا۔ یہ واحد دراوزہ ہے، جو مُغلیہ دَور سے لے کر اب تک اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔

(2) کشمیری دروازہ: کشمیرکی طرف رُخ ہونے کی نسبت سے اسے ’’کشمیری دروازہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ کشمیری بازار کا مرکز ہے اور کپڑوں کی خریدو فروخت کے اعتبار سے خاصا مشہور ہے۔ اس دروازے کو برطانوی دَور میں  مسمار کرنے کے بعد دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

(3) بھاٹی دروازہ: یہ لاہورکا دوسرا بڑا دروازہ تھا، جو کبھی مغربی سمت سے شہر میں داخل ہونے کا راستہ تھا۔ چوں کہ کسی دَور میں یہاں بھاٹ یا بھٹی قبیلے کے لوگ کثرت سے آباد تھے، چناں چہ اِسے ’’بھاٹی دروازہ‘‘ کہا جانے لگا۔ یہاں کا مشہور ترین مقام ’’داتا صاحب کا مزار‘‘ ہے۔ یہ دروازہ بھی مسمار کرنے کے بعد دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

(4) لاہوری دروازہ: اس دروازے کو شہرِ لاہور کی نسبت سے ’’لاہوری دروازہ‘‘ کہا جاتا ہے، جب کہ اس سےملحقہ بازار میں لوہے کا کاروبار ہونے کے سبب اسے ’’لوہاری دروازے‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ لاہور کا مشہور انار کلی بازار بھی اِسی کے قریب ہی واقع ہے۔ یہ دروازہ بھی برطانوی دَور میں مسمار کر دیا گیا تھا اور اِسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

(5) دہلی دروازہ: لاہور کے اس قدیم دروازے کا رُخ دہلی کی جانب ہونے کے سبب اِسے ’’دہلی دروازہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ خُوب صُورت ترین دروازہ آج بھی اپنی پُوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہے۔ کسی زمانے میں اس دروازے سے گزر کر ایک ’’رائل ٹریل‘‘ دہلی جاتی تھی، جب کہ ’’مسجد وزیرخاں‘‘ اور’’شاہی حمام‘‘ یہاں  کے قابلِ ذکر مقامات ہیں۔

(6) شیراں والا دروازہ: کسی زمانے میں اس دروازے کا نام ’’خضری دروازہ‘‘ ہوا کرتا تھا، جو مشہور صوفی بزرگ، خواجہ خضر الیاسؒ سے منسوب ہے، جب کہ بعض روایات کے مطابق یہ حضرت خضرؑ کے نام سے موسوم تھا۔ 

تاہم، مہاراجا رنجیت سنگھ نے اپنے دَورِحکومت میں  اس گیٹ کے سامنے دونوں جانب پنجرے میں بند دو شیر رکھوا دیے، جس کے بعد یہ ’’شیراں والا دروازہ‘‘ کےنام سے مشہور ہوگیا۔ گرچہ یہ دروازہ آج بھی موجود ہے، مگر اِس کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔

(7)اکبری دروازہ: اکبری دروازہ لاہور کے قدیم دروازوں میں سے ایک اور خاصا مشہور دروازہ تھا۔ اسے مُغل شہنشاہ جلال الدّین محمّد اکبر نے 1566ء میں تعمیر کروایا تھا اور یہ شہرِ لاہور کی مشرقی سمت میں واقع تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دروازہ خاصا خستہ حال ہوگیا، تو انگریز سرکار کے عہد میں اسے قدیم وضع ہی پرازسرِنوتعمیرکیا گیا۔ تاہم، اب یہ دروازہ صفحۂ ہستی سے مٹ چُکا ہے۔ آج یہاں لاہور کی سب سےبڑی ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹ، اکبری منڈی واقع ہے، جہاں ہر قسم کی اجناس کی تجارت ہوتی ہے۔

(8) مستی دروازہ: یہ بھی لاہورکےتاریخی 13 دروازوں میں سے ایک مشہور دروازہ تھا۔ اس کا نام شاہی خدمت گزار، مستی بلوچ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ کسی زمانے میں اسے ’’مسجدی دروازہ‘‘ بھی کہا جاتا تھا، کیوں کہ مریم مسجد اس کے قریب ہی واقع تھی۔ اس دروازے کو بھی برطانوی دَورِحکومت میں مسمار کر دیا گیا اور اب اس کا نام ونشان تک موجود نہیں۔

(9) یکی دروازہ: یہ دروازہ شہرِ لاہور کی مشرقی جانب واقع تھا۔ اس دروازے کے نام کی وجۂ تسمیہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ذکی نامی سپاہی نے شمال کی جانب سے آنے والے مُغل حملہ آوروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا اور لڑتے ہوئے ہی شہید ہوگئے تھے۔ بعدازاں، ان کے نام ہی سے مذکورہ دروازے کو منسوب کردیا گیا اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ یہ نام بگڑ کر ’’یکی‘‘ ہوگیا۔ اس دروازے کو بھی برطانوی دَورِ حکومت میں مسمار کردیا گیا۔

(10) ٹکسالی دروازہ: یہ دروازہ لاہور کی مشہورِ زمانہ گوال منڈی اور فوڈ اسٹریٹ کے قریب واقع تھا۔ اس دروازے کی بابت یہ بات مشہور ہےکہ کسی زمانے میں مسلمان بادشاہوں نے سکّے تیار کرنے کے لیے یہاں ٹکسال قائم کی تھی اوراسی لیے اس دروازے کا نام ’’ٹکسالی دروازہ‘‘ پڑگیا۔ کسی دَور میں یہاں مشہورِزمانہ موسیقار اور مدھر آوازوں کے مالک گلوکار رہائش پذیر ہوا کرتے تھے۔ برطانوی دَورمیں اس دروازے کو بھی توڑدیا گیا اور پھر دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا۔

(11) موچی دروازہ: یہ دروازہ تاریخی اعتبار سے بڑی اہمیت کاحامل رہا ہے۔ یہاں کبھی جنگی سازوسامان جیسا کہ تلواریں، نیزے اور تیرکمان وغیرہ تیار کیے جاتے تھے۔ یہ شہنشاہ اکبر کے خاص غلام، موتی رام کے نام سے موسوم تھا، جو موتی دروازے سے بگڑ کر ’’موچی دروازہ‘‘ بن گیا۔ اس تاریخی دروازے کو بھی انگریزوں نے مسمارکردیا تھا اور اب اس کی جگہ دُکانیں قائم ہیں، جہاں ڈرائی فروٹس اور دیگر سازو سامان فروخت ہوتا ہے۔

(12) شاہ عالمی دروازہ: اس دروازے کا اصل نام شاہ عالم دروازہ تھا، جو بگڑ کر ’’شاہ عالمی دروازہ‘‘ بن گیا۔ 1946ء میں قیامِ پاکستان سے قبل پُھوٹنے والے فسادات میں اس دروازے کو نذرِآتش کر دیا گیا تھا۔ 1957ء میں اس دروازے کی ازسرِنوتعمیرکامنصوبہ بنایاگیا،مگر یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ اب یہاں ایک بڑی مارکیٹ قائم ہے اور اس دروازے کے باہر تاریخی مسجد ’’شب بھر‘‘ بھی موجود ہے۔

(13) موری دروازہ: یہ دروازہ لاہور کے جنوب میں واقع تھا اور یہ شہر کا سب سے چھوٹا دروازہ تھا۔ برطانوی دَور میں اس دروازے کو بھی مسمار کردیا گیا تھا اور پھر اس کی بھی دوبارہ تعمیر نہ ہو سکی۔ موری دروازے کی جگہ پراس وقت لاہورکی سب سے بڑی ’’مچھلی منڈی‘‘ قائم ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید