وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف ہتک عزت کیس میں سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع بحال کردیا۔
نظرثانی اپیل جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سُنی، بینچ میں جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے، سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کردیا، فیصلہ دو ججز کی اکثریت سے دیا گیا، فیصلے میں جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس ہاشم کاکڑ کے الگ الگ نوٹ شامل ہیں۔
نظرثانی کیس میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے حق دفاع ختم کرنے کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے، دونوں ججز نے سپریم کورٹ، ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا۔
جسٹس عائشہ ملک اورجسٹس اشتیاق ابراہیم نے حق دفاع بحال کرنے کا اکثریتی فیصلہ دیا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اختلافی نوٹ جاری کردیا۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواست اکثریتی طور پر منظور کرلی، سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، لاہور ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیے۔
تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ نے29 دسمبر2022 کا تین رکنی بینچ کا اکثریتی فیصلہ کالعدم قراردے دیا، ہتکِ عزت کا مقدمہ واپس ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کردیا، ٹرائل کورٹ کو بانی پی ٹی آئی کو سوالات کے جواب دینے کا مناسب موقع فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ جوابات داخل ہونے کے بعد کیس کی کارروائی قانون کے مطابق آگے بڑھائے۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس ہاشم خان کاکڑ کا اختلافی نوٹ جاری کردیا گیا
بانی پی ٹی آئی کے حق دفاع کی بحالی کے فیصلے پر جسٹس ہاشم خان کاکڑ کا اختلافی نوٹ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ یہ کیس عدالتوں کی بے بسی اور درخواست گزار کی غیر معمولی تاخیر کی کلاسک مثال ہے۔
اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ مقدمہ 2017 میں دائر ہوا، درخواست گزار نے جواب جمع کروانے میں تقریباً 4 سال تاخیر کی، 16 مارچ 2022 کو سوالات دیے گئے 5 سے 6 مواقع ملنے کے باوجود درخواست گزار جواب دینے میں ناکام رہا۔
عدالتی آرڈر شیٹ کے مطابق 26 اپریل 2022 کو ہی سوالات کے جوابات کا ڈرافٹ تیار تھا، سینئر وکیل کے دستخط باقی تھے، عدالتی احکامات کی تعمیل کے بجائے اگلی تاریخ پر کارروائی کو طول دینے کیلئے دوبارہ اعتراضات دائر کیے گئے۔
اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ درخواست گزار کا ایسا طرز عمل واضح طور پر جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی نافرمانی پر مبنی تھا، نظر ثانی کا دائرہ اختیار انتہائی محدود ہے اور سابقہ اکثریتی فیصلے میں کوئی واضح غلطی موجود نہیں۔
2022 میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کیا تھا، حق دفاع ختم کرنے والے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس منصورعلی شاہ تھے، بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کرنے والے سابقہ بینچ میں جسٹس امین الدین اورجسٹس عائشہ ملک شامل تھے۔
بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کرنے کا فیصلہ جسٹس منصور اور جسٹس امین الدین نے جاری کیا تھا، سابقہ فیصلے میں بینچ میں شامل جسٹس عائشہ ملک حق دفاع ختم کرنے کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا، سابقہ تین رکنی بینچ میں اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرنے والی جسٹس عائشہ ملک موجودہ بینچ کی سربراہ ہیں۔