• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کی نمبرون کرکٹ ٹیم کو ہم ہرا دیں،ہم خوش نہیں ہوتے آسٹریلیا کی ٹیم کو ہم دس وکٹوں سے ہرادیں، ہم خوش نہیں ہوتے انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کو ہم ایک سو پچاس رنز کی مارجن سے شکست دیدیں پھر بھی ہم خوش نہیں ہوتے ہم ساؤتھ امریکہ سے ساتویں اوور میں میچ جیت جائیں پھر بھی ہم خوش نہیں ہوتےنیوزی لینڈ کی ٹیم کو ہم میچ میں دھول چٹا دیں،پھر بھی ہم خوش نہیں ہوتے پوری دنیا میں ایک ہی کرکٹ ٹیم ہے جس کو ہرا کر ہم خوش ہوتے ہیں بلکہ بغلیں بجا بجا کر دیوانے ہوجاتے ہیں، وہ کون سی ٹیم ہے؟

ہم نیپال کی کرکٹ ٹیم سے بری طرح ہار جائیں،ہمیں پروا نہیں ہوتی آئرلینڈ ہمیں ایک سو پچاس رنز سے ہرا دے ہم ایسی ہار کو خاطر میں نہیں لاتے زمبابوے ہمیں دس وکٹوں سے ہرا دے ہم ایسی ہار کا قطعی کوئی نوٹس نہیں لیتے ۔ سری لنکا ہمیں ایک سو اسی رنز سے شکست دیدے ہم ایسی شکست کو خاطر میں نہیں لاتے ، بس دنیا میں صرف اور صرف ایک ٹیم ہے جس سے ہم ہارنا نہیں چاہتے۔اس ٹیم کو ہم دھول چٹانا چاہتے ہیں وہ ہم سے ہاتھ ملائیں نہ ملائیں اس سے ہماری کارکردگی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا کلائی سے پکڑ کر ہم ان کا ہاتھ توڑڈالنا چاہتے ہیں ۔ کیا سمجھتے ہیں اپنے آپ کو ؟ چھپتے پھرتے ہیں ہم سے مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے ، جب بھی ہمارا آمنا سامنا ہوتا ہے وہ چیٹنگ کرکے جیت جاتے ہیں ، دنیا دیکھتی ہے دنیا سمجھتی ہے کہ فیئر گیم میں ان کا ہم سے جیت جانا محال ہے وہ صرف ہیراپھیری کرکے ہم سے جیت سکتے ہیں اور ایسی جیت کے بعد وہ دنیا سے چھپتے پھرتے ہیں میڈیا کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔

اب آپ مجھ سے مت پوچھیں کہ اس نابکار ٹیم کی واضح شناخت کیا ہےسوائے اسکے کہ وہ ہم سے مصافحہ یعنی ہاتھ ملانا نہیں چاہتی؟ عالم آشکار بات ہے کہ وہ ٹیم ہماری ٹیم سے چھپتی پھرتی ہے سامنے آکر ہم سے مقابلہ کرنا نہیں چاہتی ۔ ٹال مٹول کرتی پھرتی ہے بہانے بناتی ہے ادھر نہیں کھیلیں گے ہم ، اُدھر کھیلیں گے ہمارے حوصلوں اور بازوؤں میں دم خم ہے ہم دنیا کے کسی بھی ملک اور میدان میں مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ ہم بہانے نہیں بناتے ۔

نابکار ٹیم سے کھیلنے کے لئے ہم اپنی ٹیم کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم تو شعیب اختر کے ہاں بھی گئے تھے کہ بھائی آؤ اور اپنی ہوشربا رفتار سے نابکار ٹیم کے چھکے چھڑا دو اور ان کو دھول چٹا دو ، یاد رہے کہ دھول چٹانا محاورے پر ہمارا انٹلیکچوئل کاپی رائٹ حق ہے ہم دنیا کی کسی بھی ٹیم کو دھول چٹانے میں دلچسپی نہیں رکھتے سوائے نابکار ٹیم کے جو بہانے بنا کر ہم سے کتراتی رہتی ہے ۔ دنیا بھر کی دھول ہم نے نابکار ٹیم کو چٹانے کیلئے بوریوں میں بھر کر رکھی ہوئی ہے ۔ اب کے جب بھی ہمارا نابکار ٹیم سے مقابلہ ہوگا ہم نابکار ٹیم کو بوریاں دھول کی چٹا دینگے انہیں دھول میں ڈھانپ دیں گے۔

شعیب اختر نے معذرت کرلی انکے گھٹنوں کا علاج چل رہا تھا بے انتہا تیز رفتاری کے سبب انکے گھٹنوں میں خاصی ٹوٹ پھوٹ ہوچکی تھی، شاید وہ اب دنیا کی تیز ترین گیند نہ پھینک سکیں ۔ جس سے شعیب اختر نےسچن ٹنڈولکر کو بولڈ کردیاتھا ۔ آسٹریلیا کے حیرت انگیز اسپن باؤلر شین وارن کی طرح شعیب اختر فاسٹ بولنگ میں حیرت انگیز بالر تھے ، وہ انیس سو چھتیس کے انگلینڈ فاسٹ بولر لارووڈ سے کہیں زیادہ فاسٹ بولنگ کرتے تھے ۔ انیس سو چھتیس کے سنسنی خیز ٹیسٹ میچ میں لارووڈ نے آسٹریلیا کے سات کھلاڑیوں کو گراؤنڈ سے پویلین اور پویلین سے اسپتال بھیجوادیا تھا تب لوہے کے ہیلمٹ ایجاد نہیں ہوئے تھے ۔

اس مرتبہ ہم نے اپنی بیٹنگ کو مضبوط کرنےکیلئے حیران کن اسٹرائیک ریٹ رکھنے والےکھلاڑیوں کو چنا ہے ۔ ایک کھلاڑی کا اسٹرائیک ریٹ چار سو ہے وہ ایسے کہ اس نے ایک ہی گیند کا سامنا کیا گیند کھلاڑی کےبلے کو چھوتے ہوئے باؤنڈری لائن پار کرگئی اس نے ایک گیند پر چار رنز بنائے ، اگلی گیند پر وہ کلین بولڈ ہوگیا مگر ریکارڈ میں اس بیٹسمین کا اسٹرائیک ریٹ 400آج تک موجود ہے ۔ اسی طرح ہم نے ایک بیٹسمین کو ٹیم کے لئے منتخب کیا ہے جس کا اسٹرائیک ریٹ تین سو ہے اس نے بیٹنگ کرتے ہوئے ایک ہی گیند کا سامنا کیا تھا۔ سلپ میں کیچ ہوتے ہوئے بچ گیا تھا۔ فیلڈر نے چوکا ہونے نہیں دیا ، باؤنڈری کے قریب فیلڈر نےگیند روک لی تھی اس دوران بیٹس مین نے دوڑ کر تین رنز بنا لئے تھے اس طرح آج تک اس بیٹسمین کا اسٹرائیک ریٹ تین سو کہلوانے میں آتا ہے۔ ہم نے ایسے ہی نامور کھلاڑی ٹیم میں شامل کرلئے ہیں۔

فیلڈنگ کے دوران سب سے اہم اور معتبر پوزیشن وکٹ کیپر کی ہوتی ہےپاکستان کرکٹ ٹیم کو بہت اچھا وکٹ کیپر بیٹسمین رضوان محمد مل گیا تھا،اچھا اوپننگ بیٹسمین تھا اور صاف ستھری وکٹ کیپنگ کرتا تھا میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ رضوان پاکستان کے جینٹل مین کرکٹر امتیاز احمد کے جوڑکا وکٹ کیپر بیٹسمین تھا امتیاز احمد جیسا وکٹ کیپر بیٹسمین ہم نے پھر کبھی نہیں دیکھا۔ انیس سو اڑتالیس میں امتیاز احمد ہندوستان کے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی دعوت پر ان کی ٹیم کی طرف سے عالمی کرکٹ ٹیم کے خلاف میچ کھیلنے بمبئی گئے تھے۔ دنیا کے نامور بالرز کے خلاف کھیلتے ہوئے امتیاز احمد نے ایک دن میں تین سو رنز بنائے تھے اور آئوٹ نہیں ہوئے تھے ۔ رضوان میں بورڈ کے بادشاہوں کو کیا خرابی نظر آئی کہ انہوں نے رضوان کو فارغ کردیا ۔ ہم عام آدمی جاننا چاہتےہیں کہ رضوان میں کیا خرابی تھی؟ یہ جاننا کرکٹ سے ٹوٹ کر محبت کرنے والوں کا حق ہے۔

تازہ ترین